Al-Risala · October 1980

عمل کے درجے ہیں

Al-Risala, October 1980, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو امامہ صدی بن عجلان الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دو قطروں اور دو نشانات سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں۔ آنسو کا قط جو اللہ کے ڈر سے نکلا ہو اور خون کا قطرہ جو اللہ کی راہ میں بہے۔ اور دو نشانات میں سے ایک نشان وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسرا نشان وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فرض کی ادائیگی میں چمڑا ہو (لیس شیئی احبّ الی اللہ تعالیٰ من قطر تینِ وَاثرین - قطرةُ دُ موع من خشيةِ اللہ وقطرةُ دَمٍ تُهراقُ في سبيلِ اللہ - دَامَتَا الا شُوَانِ فائترُفي سبيلِ اللہ تعالیٰ وَاثرُ في فريضةٍ من فرائض اللہ تعالیٰ ، رواه الترمذي) ہر عمل کے درجے ہوتے ہیں۔ آدمی کسی عمل میں جتنا زیادہ اپنے آپ کو شامل کرے ، اس کو کرنے کے لئے اسے جتنا زیادہ مشقت برداشت کرنی پڑے اتنے ہی اس عمل کا درجہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ رہ کوئی عمل محض اپنے ظاہر کے اعتبار سے خدا کے یہاں درجہ والا نہیں بنتا بلکہ اس نفسیاتی حالت کے اعتبار سے بنتا ہے جس کے تحت کسی نے اس عمل کو انجام دیا ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ انسان کے عمل کی نیکی بڑھتی ہے۔ یہاں تک کہ دس گنا سے سات سو گنا تک پہنچ جاتی ہے (كلّ عملِ ابن آدمَ يُضاعَفُ الحسنةَ بعشرُ أمثالها الى سبعمائة ضعف، مسلم)

یہی معاملہ مذکورہ چیزوں کا بھی ہے ۔ خواہ آنسو یا خون کا قطرہ ہو یا کوئی عبادتی نشان، اس کے بھی درجات ہیں۔ اور درجات کے لحاظ سے ان کا ثواب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایک آنسو وہ ہے جو جلسۂ عام میں کسی کی آنکھ سے نکلتا ہے۔ یقیناً اس کا بھی ثواب ہے ، مگر وہ آنسو جو تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے آنکھوں سے ٹپک پڑے اس کا درجہ اور بھی زیادہ ہے۔ ایک آنسو وہ ہے جو مشکلات و مصائب کے وقت نکلتا ہے۔ اس پر بھی آدمی کو ثواب ملے گا مگر اس آنسو کا درجہ اور بھی زیادہ بڑا ہے جو کامیابیوں کو دیکھ کر رازق حقیقی کے لئے نکل پڑے ۔ ایک آنسو وہ ہے جو اپنے مسائل و معاملات کو سوچ کر نکلتا ہے۔ اس کا بھی مگر ان آنسوؤں کے درجہ کا کون اندازہ کر سکتا ہے جو اللہ کی دنیا میں اللہ کی رگڑی کو دیکھ کر ایک بندہ کی آنکھ سے بہہ پڑتے ہیں۔

یہی معاملہ " خون " کا ہے۔ ایک خون کا قطرہ وہ ہے جو فوری مقابلہ کے وقت چوٹ کھا کر

آدمی کے جسم سے نکلتا ہے۔ یقیناً اللہ کے یہاں اس کا ثواب ہے ۔ مگر اللہ کا ایک بندہ جب اللہ کی راہ میں برسہا برس تک مشقتیں اٹھاتے ہوئے اپنے خون کو خشک کرتا ہے تو اس کا ثواب اور بھی زیادہ ظالموں کا ایک گروہ آدمی کے جان و مال پر حملہ کرتا ہے اور وہ اس کے دفاع میں اپنے جسم کو زخموںی کر لیتا ہے یا شہید ہو جاتا ہے تو اس خون بہانے کا بھی ثواب ہے۔ مگر جب اللہ کا ایک بندہ یہ سوچ کر تڑپ اٹھتا ہے کہ لوگ جہنم کی طرف چلے جا ے ہیں اور لوگوں کو جہنم سے بچانے کی جدوجہد میں وہ اپنے جسم کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ دیتا ہے تو یہ اتنا بڑا عمل ہوتا ہے کہ اس کی بڑائی کو ناپنے کے لئے سارے گزرے چھوٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو تولنے کے لئے سارے ترازو ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

یہی معاملہ ”نشان“ کا بھی ہے۔ ایک نشان یہ ہے کہ ایک جنگ پیش آئی، رہ آدمی اس میں کود پڑا اور لڑائی کے نتیجہ میں اس کے جسم پر کٹنے یا زخم لگنے کا کوئی مستقل نشان پڑ گیا۔ یا ایک شخص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے اور سجدہ کی کثرت سے اس کی پیشانی پر نشان پڑ جاتا ہے۔ یقیناً ایسے نشانات کا بھی خدا کے یہاں ثواب ہے۔ مگر ایک شخص وہ ہے جو دیکھتا ہے کہ خدا کی دنیا میں بے شمار ہنگامے جاری ہیں لیکن خدا کے دین کی گواہی نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ بیتابانہ خدا کا گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ دوست اور رشتہ دار اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، اس کے فائدوں اور مصلحتوں کا ڈھانچہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کو بے عزت کیا جاتا ہے، اس کو زخم پہنچائے جاتے ہیں، اس کی معاشیات کو اجاڑا جاتا ہے۔ اذیتوں پر صبر کرتے کرتے اس کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ اس کا سکون غارت ہو جاتا ہے۔ اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ وہ جیتے جی قبر میں دفن ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ اللہ کے راستہ کو نہیں چھوڑتا، پھر بھی وہ اللہ کی گواہی کے مقام سے نہیں ہٹتا۔

ایسے شخص پر بھی ”نشانات“ پڑتے ہیں۔ اس کی جوانی قبل از وقت بڑھاپے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کا ستا دایپ جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کا پھول سا چہرہ گرد و غبار میں اٹ جاتا ہے اس کی آنکھیں آنسو بہاتے بہاتے بے رونق ہو جاتی ہیں۔ وہ دنیا پرستوں کی نظر میں ایک برباد شدہ انسان کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ زخم اور یہ نشانات مذکورہ زخم اور نشانات سے مختلف ہوتے ہیں، بہت سے لوگوں

Printed page