Al-Risala · October 1980

الفاظ کی طاقت

Al-Risala, October 1980, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

امام حسن بصری (م ۱۱۰ھ) اور حجاج بن یوسف (م ۹۵ھ) کا زمانہ ایک ہی تھا۔ حسن بصری کی صاف گوئی حجاج کو بہت تکلیف پہنچاتی تھی۔ اس نے طے کیا کہ حسن بصری کو قتل کرا دے۔ چنانچہ اس نے حسن بصری کو اپنے دربار میں بلایا۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ ان کو زندہ واپس نہیں جانے دے گا۔ میمون بن مہران بتاتے ہیں کہ حسن بصری جب دربار میں داخل ہوئے اور حجاج کے سامنے کھڑے ہوئے تو یہ گفتگو ہوئی: حسن بصری نے کہا اے حجاج، تمھارے اور آدم کے درمیان کتنے باپ ہیں۔ حجاج نے جواب دیا کہ بہت۔ حسن بصری نے کہا کہ اب وہ کہاں ہیں۔ حجاج نے کہا کہ وہ مر گئے۔ حسن بصری کا مطلب یہ تھا کہ جہاں تم مجھ کو پہنچانا چاہتے ہو اسی راستہ تم خود بھی تیزی سے جا رہے ہو۔ حجاج اگرچہ ایک ظالم حکمران تھا۔ مگر یہ الفاظ سن کر اس نے سر اس کے بعد حسن بصری محفوظ حالت میں دربار سے باہر نکل آئے' دغنما قام الحسن بین یدی الحجاج قال له يا حجاج إكم بينك وبين آدم من آب۔ قال فآین هم۔ نکس الحجاج راسه وخرج الحسن لم يمسه منة سوء)

Printed page