اس پل پر یا اُس پل پر
Al-Risala, October 1980, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
ملک شاہ سلجوقی کی شاہی سواری ایک روز ایک پل سے گزر رہی تھی۔ ایک بڑھیا وہاں آ کر کھڑی بادشاہ اس کے قریب پہنچا تو بڑھیا نے پکار کر کہا: اے بادشاہ بتا میرا اور تیرا انصاف اس پل پر ہوگا یا اُس پل پر (صراط) پر۔ ملک شاہ پر اس جملہ کا بے حد اثر ہوا۔ وہ گھبرا کر سواری سے اتر پڑا اور کہا: ماں، اِس پل پر کس کی ہمت ہے کہ کھڑا ہو سکے۔ بہتر ہے کہ میرا اور تمھارا حساب اسی پل پر ہو جائے۔ کے بعد بڑھیا نے بتایا کہ سپاہیوں نے اس کی گائے پکڑ کر ذبح کر دی ہے، میں تم سے اس ظلم کا انصاف ملک شاہ سلجوقی وہیں ٹھہر گیا اور معاملہ کی تحقیق شروع کر دی۔ جب ثابت ہو گیا کہ بڑھیا کی شکایت صحیح ہے تو اس نے اسی وقت مجرموں کو سزا دی۔ اس کے بعد اس نے بڑھیا سے معافی مانگی اور گائے کی اصل قیمت سے بہت زیادہ معاوضہ دے کر بڑھیا کو راضی کیا۔