Al-Risala · October 1980

غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے

Al-Risala, October 1980, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح ایک مجلس تھی۔ عمدہ قالین پر کچھ خوش پوش اور معزز افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی پھٹے حال آیا۔ وہ بلا اجازت مجلس میں بیٹھ گیا۔ ایک صاحب نے اس کو منع کیا کہ یہاں مت بیٹھو۔ منع کرنے کے بعد بھی جب وہ نہ مانا تو انھوں نے اس کو پکڑ کر مجلس سے اٹھا دیا اور کہا "جا اپنا کام کر"، وہ اٹھا اور یہ کہتا ہوا چلاگیا :" ایک ہی راستہ سے آئے ہیں، ایک ہی راستہ سے جائیں گے دونوں"، آدمی کا یہ جملہ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ اس کے بعد مجلس کا رنگ بدل گیا۔ لوگ خاموش ہو گئے اور تھوڑی دیر بعد اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔

کبھی آدمی کی زبان سے ایک جملہ نکلتا ہے مگر وہ جملہ محض کچھ الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ سننے والے کے دل میں برچھی کی طرح چبھتا ہے۔ وہ آدمی کو تیر اور تلوار کے بغیر ذبح کر دیتا ہے۔ برچھی کی مانند چبھنے والے جملے صرف، انھیں لوگوں کی زبان سے نکلتے ہیں جو اس سے پہلے اپنے سینہ میں بر چھی چبھا چکے ہوں ۔

Printed page