Al-Risala · October 1980

اللہ کارسول

Al-Risala, October 1980, pp. 16–31

By Maulana Wahiduddin Khan

کارخاوہ سے ایک مشین بن کر نکلتی ہے تو اسی کے ترکیب استعمال کا کاغذ بھی ساتھ رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک انجینئر آتا ہے جو عملاً کر کے دکھادے کہ مشین کو کس طرح چلانا چاہئے۔ انسان بھی ایک زیادہ پیچیدہ قسم کی زندہ مشین ہے۔ نہ پیدا ہو کر اچانک اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں کسی پہاڑ کے اوپر یہ لکھا ہوا نہیں کہ یہ دنیا کیا ہے اور یہاں اس کو کس طرح رہنا چاہئے۔ دنیا کی تعلیم گاہوں میں ایسے انجینئر بھی تیار نہیں ہوتے جو زندگی کے راز کو جانیں اور انسان کے لئے عملی رہنما کا کام دے سکیں ۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خدا نے اپنے رسول بھیجے۔ ہر رسول اپنے ساتھ اللہ کا کلام لایا۔ اس کلام کے ذریعہ خدا نے انسان کو بتایا کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور آدمی کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ اسی کے ساتھ رسول تمام انسانوں کے لئے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ تھے۔ آدمی کن جذبات و خیالات کے ساتھ جئے ۔ اپنے رب کو کس طرح یاد کرے ۔ انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے وہ لوگوں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے ۔ اس کی دوستی اور دشمنی کی بنیاد کیا ہو۔ غرض ہر آدمی صبح سے شام تک جو زندگی گزارتا ہے اس کا عملی نمونہ اس کو رسول کی زندگی میں مل جاتا ہے۔ خدا نے اگرچہ ہر آدمی کی فطرت میں حق اور ناحق کی تمیز رکھ دی ہے۔ زمین و آسمان میں بے شمار نشانیاں پھیلا دی ہیں جس سے آدمی سبق حاصل کر سکے۔ تاہم اسی کے ساتھ خدا نے انسانوں کی زبان میں اپنی کتاب بھی اتاری اور انسانوں میں سے اپنے کچھ بندوں کو منتخب کر کے اپنا رسول مقرر کیا تا کہ ہدایت اور گم رہی کو سمجھنے میں آدمی کے لئے کوئی شبہ باقی نہ رہے۔

اور اللہ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔ ایسی ہی باتیں تم سے پہلے ایک جماعت نے پوچھیں۔ پھر وہ ان کے منکر ہو کر رہ گئے۔ اللہ نے بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام رتبوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور) مقرر نہیں کئے ۔ مگر جن لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور جب ان سے کہا جاناہے کہ اللہ نے جو کچھ اتارا ہے اس کی طرف آؤ اور رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے بڑے نہ کچھ جانتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں۔ ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو۔ کوئی گمراہ ہو تو اس سے تمہارا کچھ نقصان نہیں اگر تم ہدایت پر ہو۔ تم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جاتا ہے پھر وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے ۱۰۵ - ۱۰۱ روایات میں آتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا : اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لئے فرض ہو جاتا اور جب فرض ہو جاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کرنے نہ پاتے اور پھر تم کفر کا ارتکاب کرگئے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑ دو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (تفسیر ابن کثیر)

غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیا جائے ۔ غیر ضروری سوالات قائم کر کے اس کی حدود و قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا ، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے در پے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔ گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعلیم کا رواج قائم کرتے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایات ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتنی گہری، جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہو جائے کہ بالآخر اس کو

اے ایمان والو، تمہارے دومگویان گواہی وصیت کے وقت ، جب کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے ، اس طرح ہے کہ دو معتبر آدمی تم میں سے گواہ ہوں۔ یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور روہاں موت کی مصیبت آجائے‘ تو تمہارے غیروں میں سے دو گواہ لے لیے جائیں ۔ پھر اگر تم کو شبہ ہو جائے تو دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لو اور وہ دونوں خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی قیمت کے عوض اس کو نہ بیچیں گے خواہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بے شک ہم گنہگار ہوں گے۔ پھر اگر پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دو اور شخص ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کا حق پچھلے دو گواہوں نے مارنا چاہا وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ یہ قریب ترین طریقہ ہے کہ لوگ گواہی ٹھیک دیں ، یا اس سے ڈریں کہ ہماری قسم ان کی قسم کے بعد الٹی پڑے گی ۔ اور اللہ سے ڈرو اور سنو۔ اللہ نافرمانوں کو سیدھی راہ نہیں چلاتا ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتا ہے ، اب اگر وہ اپنے قریب در مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے ۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے ، یہ دو صاحبان مال لا کر اس کو وارثوں کے حوالے اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہو جائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے ۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوں نے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے ۔ وارثوں کو یہ حق دینا یا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرات نہ کر سکے ۔

شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام دئے جائیں جو آدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں ۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے نہ یہ کہ بات کس کے موافق جا رہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ سرات کو خدا کا ڈر اہی سمجھنا۔ کو ذاتیات کو یا ساس سے وہ خدا کی ایک امانت ہے۔

کو جاننے والا تو ہی ہے۔ جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ بن مریم میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر کیا جب کہ میں نے روح پاک سے تمہاری مدد کی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گو د میں بھی اور بڑی عمر میں بھی۔ میں نے تم کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔ اور جب تم مٹی سے پرندہ جیسی صورت میرے حکم سے بناتے تھے پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔ اور تم اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ اور جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا جب کہ تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ تو ان کے منکروں نے کہا یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ پیغمبروں پر جو لوگ ایمان لائے، بعد کے زمانہ میں سب کے اندر بگاڑ پیدا ہوا۔ انھوں نے اپنے طور پر ایک دین بنایا اور اس کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کر دیا۔ اس کے باوجود ہر گروہ اپنے آپ کو اپنے پیغمبر کی امت شمار کرتا رہا۔ حالاں کہ پیغمبر کی اصل تعلیمات سے ہٹنے کے بعد اس کا پیغمبر سے کوئی تعلق باقی نہ رہتا تھا۔ یہودی اپنے کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عیسائی اپنے کو حضرت عیسیٰ کی طرف۔ حالانکہ ان کے مروجہ دین کا خدا کے ان پیغمبروں سے کوئی تعلق یہ حقیقت موجودہ امتحان کی دنیا میں چھپی ہوئی ہے۔ مگر قیامت کے دن وہ کھول دی جائے گی۔ اس دن خدا تمام پیغمبروں کو اور اسی کے ساتھ ان کی امتوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت امتوں کے سامنے ان کے پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی امتوں کو کیا تعلیم دی اور امتوں نے تمہاری تعلیمات کو کس طرح اپنایا۔ اس طرح ہر امت پر اس کے پیغمبر کی موجودگی میں واضح کیا جائے گا کہ اس نے خدا کے دین کے معاملہ میں اپنے پیغمبر کی کیا کیا خلاف ورزی کی ہے اور کس طرح خود ساختہ دین کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔

انھیں پیغمبروں میں سے ایک مثال حضرت عیسیٰ کی ہے جو خاتم النبین اور آپ سے پہلے کے انبیار کی درمیانی حضرت عیسیٰ کو انتہائی خصوصی معجزے دئے گئے۔ آپ پر ایمان لانے والے بہت کم تھے اور آپ کے مخالفین (یہود) کو ہر طرح کا دنیوی زور حاصل تھا۔ اس کے باوجود وہ حضرت عیسیٰ کا کچھ نقصان نہ کر سکے اور نہ آپ کے ساتھیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان معجزات کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ لوگ آپ کے لائے ہوئے دین کو مان مگر عملاً یہ ہوا کہ آپ کے مخالفین نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کر دیا کہ وہ جو معجزے دکھا رہے ہیں وہ سب جادو کا اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے، انھوں نے بعد کے زمانہ میں آپ کو خدائی کا درجہ دے دیا۔ دن آپ کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت کھول دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ نے جو کمالات دکھائے وہ سب خدا کے حکم سے تھے۔ آپ کے دشمنوں نے آپ کو جن خطرات میں ڈالا ان سے بھی اللہ ہی نے آپ کو بچایا۔ صورت حال یہ تھی اور حضرت عیسیٰ خود سامنے کھڑے ہو کر اس کی تصدیق کر رہے ہیں تو اب ان کے امتی بتائیں کہ انھوں نے آپ کی طرف جو دین منسوب کیا وہ کس نے انھیں دیا تھا۔

کہ ہم اس میں سے کھائیں، والے ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم یہ جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس گواہی دینے والے بن جائیں۔ عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ، ہمارے رب، تو آسمان سے ہم پر ایک خوان آتار جو ہمارے لئے ایک عید بن جائے، ہمارے اگلوں کے لئے اور ہمارے پچھلوں کے لئے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ اور ہم کو عطا کر، تو ہی بہترین عطا کرنے والا ہے۔ اللہ نے کہا میں یہ خوان ضرور تم پر اتاروں گا۔ پھر اس کے بعد تم میں سے جو شخص منکر ہوگا اس کو میں ایسی سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی ۱۱۵۔ لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگرچہ داعی انجام دیتا ہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں۔ ______ داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے تو فلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پر پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرا دیتا ہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کر دیتا ہے۔

خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ پوری زمین انسان کے لئے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنین مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبیہ کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردہ میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنین مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انہیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا ۔

حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہو جانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لئے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ “ سے نکلنے" اور "رزق کو آسمان سے اترنے والے رزق" کی روایات میں ہمارے

باتوں کا جاننے والا۔ میں نے ان سے وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو ان پر تو ہی نگراں تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر تو ان کو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کردے تو ہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔ اللہ کہے گا آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی یہی ہے بڑی کامیابی۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ۱۲۰ - ۱۱۶ قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں، خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میں نے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لئے معلوم شدہ بن چکی ہوںگی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال و جواب محض لوگوں کی رسوائی میں اضافہ کرنے کے لئے ہوگا۔ اس لئے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑا کر کے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا یہ دنیا امتحان کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کر کے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا اور رسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعویٰ ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

ملت اسی کے علم میں ہے۔ پھر بھی تم شک کرتے ہو۔ اور وہی اللہ آسمانوں میں ہے اور وہی زمین میں۔ چھپے اور کھلے کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۳۔ آسمان اور زمین کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجوو اتنا مربوط اور اتنا وحدانی ہے کہ وہ پکار رہا ہے کہ اس کا خالق اور منتظم ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ پھر زمین و آسمان کی یہ کائنات اپنے پھیلاؤ اور اپنی حکمت و معنویت کے اعتبار سے ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ سورج کے روشن کرہ کے گرد خلا میں زمین کی حد درجہ منظم گردش اور اس سے زمین کی سطح پر روشنی اور تاریکی اور دن اور رات کا پیدا ہونا انسان کے تمام قیاس د گمان سے کہیں زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اب جو خدا اتنے بڑے کائناتی کارخانہ کو اتنے با کمال طریقہ پر چلا رہا ہے اس کی ذات میں وہ کون سی کمی ہو سکتی ہے جس کی تلافی کے لیے وہ کسی کو اپنا شریک ٹھہرائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا اور اس کے اندر قائم شدہ حیرت ناک نظام خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا صرف ایک ہے اور یہی نظام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ خدا اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کو اپنی تخلیق اور انتظام میں کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔ موجودہ دنیا کی عمر محدود ہے۔ یہاں دکھ سے خالی زندگی ممکن نہیں یہاں ہر خوش گواری کے ساتھ ناخوش گواری کا پہلو لگا ہوا ہے۔ یہاں شر کو خیر سے اور خیر کو شر سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخرت کی ابدی دنیا جو ہر قسم کے حزن (فاطر ۳) سے خالی ہوگی کیسے بن جائے گی۔ اگر کسی اور مادہ سے آخرت کی دنیا بننے والی ہو تو انسان اس سے واقف نہیں اور اگر اسی دنیا کے مادہ سے وہ دوسری دنیا بننے والی ہے تو اس دنیا کے اندر اس قسم کی ایک کامل دنیا کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں۔ مگر سوال کرنے والے کا خود اپنا وجود ہی اس سوال کا جواب دینے کے لئے کافی ہے، انسان کا جسم پورا کا پورا مٹی (زمینی اجزاء) سے بنا ہے، مگر اس کے اندر ایسی منفر د صلاحیتیں ہیں جن میں سے کوئی صلاحیت بھی مٹی کے آدمی سنتا ہے، وہ بولتا ہے، وہ سوچتا ہے، وہ طرح طرح کے حیرت ناک عمل انجام دیتا ہے۔ مٹی سے بنا ہے وہ اس قسم کا کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتی۔ زمینی اجزاء سے حیرت انگیز طور پر ایک غیر زمینی مخلوق بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر روز آدمی کے سامنے آ رہا ہے۔ ایسی حالت میں کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی آخرت کے واقع ہونے پر شک کرے۔ اگر مٹی سے جیتا جاگتا انسان نکل سکتا ہے، اگر مٹی سے خوشبو دار پھول اور ذائقہ دار پھل برآمد ہو سکتے ہیں تو ہماری موجودہ دنیا سے ایک اور زیادہ کامل اور زیادہ معیاری دنیا کیوں ظاہر نہیں ہو سکتی۔

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جونشانی بھی ان کے پاس آتی ہے وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ چنانچہ جو حق ان کے پاس آیا ہے اس کو بھی انھوں نے جھٹلا دیا۔ پس عنقریب ان کے پاس اس چیز کی خبریں آئیں گی جس کا وہ مذاق کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ ان کو ہم نے زمین میں جما دیا تھا جتنا تم کو نہیں جمایا۔ اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارش برسائی اور ہم نے نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو اٹھایا۔ خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کررہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ اس کا اس فطرت کے انداز پر ہونا جس پر خدا کی ابدی دنیا کا نظام قائم ہے۔ اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاص پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کر رہے ہوتے اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ سامنے جب یہ قرائن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظرانداز کر دیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدا اور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالانکہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیونکہ خدا اور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔

جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لئے معاشی ساز وسامان جمع کر لیا ہو جن کو اپنے آس پاس عظمت و مقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچا سکیں گی۔ داعی حق کو نا چیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتا ہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لئے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدا نے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔ زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاں مکافات کا قانون نافذ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پہلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہو گئے۔

اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے جو معاملہ کا فیصلہ ہو جاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا -11۔ دنیا میں آدمی کی گمراہی کا سبب یہ ہے کہ یہاں اس کو حق کے انکار کی پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے انکار کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ امتحان کی اس دنیا میں اتنی وسعت ہے کہ یہاں الفاظ ہر اس مفہوم میں ڈھل جاتے ہیں جس میں انسان ان کو ڈھالنا چا ہے داعی اگر ایک عام انسان کے روپ میں ظاہر ہو تو آدمی اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کر سکتا ہے کہ یہ ایک شخص کا قیاس یا ذاتی حوصلہ ہے نہ کہ کوئی حق و صداقت کا معاملہ۔ اسی طرح اگر آسمان سے کوئی لکھی لکھائی کتاب اتر آئے تو اس کو رد کرنے کے لئے بھی وہ یہ الفاظ پائے گا کہ یہ تو ایک جادو ہے۔

مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر اگر خدا کی طرف سے اس کی پیغام بری کے لئے مقرر کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ خدا کے فرشتے کیوں نہیں تو اس کی تصدیق کریں۔ اس قسم کی باتیں آدمی اس لئے کہتا ہے کہ وہ دعوت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہو تو اس کو فوراً معلوم ہو جائے کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ امتحان اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ غیبی حقیقتوں پر پردہ پڑا ہوا ہو۔ اگر غیبی حقیقتیں کھل جائیں اور خدا اور اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر پیغمبری اور دعوت رسانی کا کوئی سوال ہی نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کے بعد کسی کو یہ جرات ہی نہ ہوگی کہ وہ حقائق کا انکار کر سکے۔ موجودہ دنیا میں لوگ اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے خدا کے داعی کو اس کی باتوں کی عظمت میں نہیں دیکھ پاتے وہ اس کا اندازہ صرف اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے کرتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے غیر اہم پا کر اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ خدا کے داعی کا معاملہ ان کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک معمولی آدمی اچانک اٹھ کر بہت بڑی حیثیت کا دعویٰ کرنے لگے۔

اس دنیا میں دعوت رسانی کا سارا معاملہ خدا کے قانون التباس کے تحت ہوتا ہے۔ یہاں حق کے اوپر ایک ریشہ کا ہے۔ اگر ایک آدمی اقرار کے دلائل کے ساتھ کچھ انکار کے وجوہ بھی پا سکتا ہو۔ آدمی کا اصل

جاننے والا ہے۔ کہو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو مددگار بناؤں جو بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو۔ کہو اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جس شخص سے وہ اس روز ہٹا لیا گیا۔ اس پر اللہ نے بڑا رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے ۱۶۔ انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتا ہے۔ وہ طاقت پا کر دوسروں کو ذلیل کرتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا کو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کا مالک ہے وہی خدا اس مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لئے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لئے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔

انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔ انھوں نے اپنے مقصد تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کئے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کا انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوں نے حقیقت واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقت واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقہ پر چلتے رہے۔

اور اگر اللہ تجھ کو کوئی دکھ پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر اللہ تجھ کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر۔ اور وہ حکمت والا سب کی خبر رکھنے والا ہے، تم پوچھو کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے۔ کہو اللہ، وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کر دوں اور اس کو جسے یہ پہنچے۔ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں۔ کہو، میں اس کی گواہی نہیں دیتا۔ کہو، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں بری ہوں تمہارے شرک سے ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لئے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہو گئے ہوں ۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمران ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کر سکتا ہے ۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ہے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے ۔ دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔ اس لئے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میں واحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کر کے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہو جانا چاہئے، جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔

قرآن اس لئے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کر دیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری "تبلیغ" پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری "اطاعت" پر۔

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں ڈالا وہ اس کو نہیں مانتے۔ اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ یقیناً ظالموں کو فلاح نہیں ملتی۔ اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم کہیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعویٰ تھا۔ پھر ان کے پاس کوئی فریب نہ رہے گا مگر یہ کہ کہیں گے کہ اللہ اپنے رب کی قسم، ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔ دیکھو کس طرح اپنے آپ پر جھوٹ بولے اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے۔ حقیقت آدمی کے لئے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیونکہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود و نصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ تھا کیونکہ ان کے انبیار اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخرالزمان کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتیٰ کہ ان کے لئے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس لئے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لئے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لئے جھوٹے الفاظ پا لیتا ہے، حتیٰ کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کر کے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہو جاتا ہے۔ وہ موہوم آرزوؤں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتا ہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے ہٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔

وہ لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے الگ رہتے ہیں۔ وہ خود اپنے کو ہلاک کر رہے ہیں مگر وہ نہیں سمجھتے۔ اور اگر تم ان کو اس وقت دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں تو ہم اپنے رب کا نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔ اب ان پر وہ چیز کھل گئی جس کو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے۔ اور اگر وہ واپس بھیج دیے جائیں تو وہ پھر وہی کریں گے جس سے وہ روکے گئے۔ اور بے شک وہ جھوٹے ہیں ٢٨ - 28-25 موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہہ کر سکے۔ جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات کو سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں ۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں نہ کہ نصیحت کے ذہن سے ۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کا اصل پہلوان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لئے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے ۔ دلائل ان کے ذہن کا جزر نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی دے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔ جو لوگ یہ مزاج رکتے ہوں ان کے لئے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیونکہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لئے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دے گا : "یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آ رہے ہیں"، اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرا مجرم ہیں ، کیونکہ وہ نہ صرف خود حق سے رکھتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کی گہرائی کے ساتھ تجزیہ کر سکیں۔

دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ دنیا میں حق کا انکار کر کے آدمی کا کچھ نہیں اس لئے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتا ہے۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کر کے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔

دیں گے ہاں، ہمارے رب کی قسم، یہ حقیقت ہے۔ خدا فرمائے گا۔ اچھا تو عذاب چکھو، اس انکار کے بدلے جو تم کرتے یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں رہے جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ان پر اچانک آئے گی تو وہ کہیں گے، ہائے افسوس، اس باب میں ہم نے کیسی کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو، کیسا برا بوجھ ہے جس کو وہ اٹھائیں گے اور دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ رکھتے ہیں، کیا تم نہیں سمجھتے ۳۲-۲۹ جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرلیتا ہے یا نفس کی خواہشات پر چلتا ہے تو ایسا اس بنا پر ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں جن پر وہ بھروسہ کر سکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کر سکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے نہ کہ بطور استحقاق۔ اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایسا کر رہا ہے، آدمی جس روشنی میں چلتا ہے اور جس ہوا میں سانس لیتا ہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کا کوئی بھی جز اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لئے آدمی دوڑتا ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیدا کی ہوئی نہیں ہیں تو جوان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کا موجودہ دنیا کو استعمال کرناہی لازم کر دیتا ہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لئے کھڑا کیا جائے جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو و لعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو و لعب کی زندگی چند روز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا، اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لئے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔

ہم کو معلوم ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس سے تم کو رنج ہوتا ہے۔ یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انھوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف پہنچانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کو ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ، اورپیغمبروں کی کچھ خبریں تم کو پہنچ ہی چکی ہیں۔ اور اگر ان کی بے رخی تم پر گراں گزر رہی ہے تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے لئے کوئی نشانی لے آؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔ پس تم نادانوں میں سے نہ بنو۔ قبول تو وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو اللہ اٹھائے گا پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے ۳۶ - ۳۳ ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لئے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ "سچا"، یا "ایمان دار" کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لئے مشکل ترین

موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہِ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے، اس لئے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا کے چہرہ کی طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تا ہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ خدا مجبور کن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہو جائے گی اور امتحان کے لئے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہئے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہئے ۔ دعوتِ حق کی جد و جہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لئے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندہ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں ۔ انسان کے منہ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جیسے زور آور خدا کے آگے جھکیں۔ اگر زندہ لوگوں کے لئے ساری کائنات

کے پاس اکٹھے کئے جائیں گے ۔ اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے ۳۹-۴۷ ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا ۔ وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیر معمولی نشانی کیوں نہیں جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ لوگوں کی بے علمی کا ہے۔ نشانیاں تو بے شمار تعداد میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں جب لوگ ان موجود نشانیوں سے سبق نہیں لے رہے ہیں تو کوئی نئی نشانی اتارنے سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکیں گے طرح طرح کے چلنے والے جانور اور مختلف قسم کی اڑنے والی چڑیاں جو زمین میں اور فضا میں موجود ہیں وہ تمہارے لئے نشانیاں ہی تو ہیں۔ ان تمام زندہ مخلوقات سے بھی اللہ کو وہی کچھ مطلوب ہے جو تم سے مطلوب ہے۔ اور ہر ایک سے جو کچھ مطلوب ہے وہ خدا نے اس کے لئے لکھ دیا ہے، انسان کو شرعی طور پر اور دوسری مخلوقات کو جبلی طور پر ۔ چڑیوں اور جانوروں جیسی مخلوقات خدا کے لکھے پر پورا پورا عمل کر رہی ہیں۔ مگر انسان خدا کے لکھے کو ماننے کے لئے تیار اس لئے یہ معاملہ نشانی کا نہیں بلکہ اندھے پن کا ہے ، بقیہ تمام مخلوقات جو دین اختیار کئے ہوئے ہیں، انسان کے لئے اس کے سوا کوئی دین اختیار کرنے کا جواز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن کو عمل کرنا ہے وہ نشانی کا مطالبہ کئے بغیر عمل کر رہے ہیں اور جن کو عمل کرنا نہیں ہے وہ نشانیوں کے ہجوم میں رہ کر نشانیاں مانگ رہے ہیں ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے کہ قیامت میں سب کو جمع کرکے دکھا دیا جائے کہ ہر قسم کے حیوانات کس طرح حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کر کے خدا کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ صرف انسان تھا جو اس سے انحراف کرتا رہا۔ جانوروں کی دنیا مکمل طور پر مطابق فطرت دنیا ہے۔ ان کے یہاں رزق کی تلاش ہے مگر لوٹ اور ظلم نہیں۔ کے یہاں ضرورت ہے مگر حرص اور خود غرضی نہیں ان کے یہاں باہمی تعلقات ہیں مگر ایک دوسرے کی کاٹ نہیں۔ کے یہاں اونچ نیچ ہے مگر حسد اور غرور نہیں۔ ان کے یہاں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے مگر بغض و عداوت نہیں۔ ان کے یہاں کام پورے ہیں مگر کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔ مگر انسان سرکشی کرتا ہے ۔ وہ خدائی نقشہ کا پابند بننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ انسان سے جس چیز کا مطالبہ ہے وہ ٹھیک وہی ہے جس پر دوسرے حیوانات قائم ہیں۔ پھر اس کے لئے معجزہ مانگنے کی کیا ضرورت۔ حیوانات کی صورت میں چلتی پھرتی نشانیاں کیا آدمی کے سبق کے لئے کافی نہیں ہیں جو خدائی طریق عمل کا زندہ نمونہ پیش کر رہی ہیں اور اس طرح پیغمبر کی تعلیمات کے برحق ہونے کی عملی تصدیق کرتی ہیں۔

Printed page