Al-Risala · October 1980

البان ۶

Al-Risala, October 1980, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

کہو، یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ بتاؤ اگر تم سچے ہو، بلکہ تم اسی کو پکارو گے ۔ پھر وہ دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے تم اس کو پکارتے ہو۔ اگر وہ چاہتا اور تم بھول جاتے ہو ان کو جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو ۔ (۴۱ - ۴۰ ابو جہل کے لڑکے عکرمہ اسلام کے سخت دشمن تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام کے مخالف بنے رہے۔ فتح مکہ کے دن بھی انھوں نے ایک مسلمان کو تیر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ عکرمہ ان اشخاص میں تھے جن کے متعلق فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کر دئے جائیں ۔

مکہ جب فتح ہوگیا تو عکرمہ مکہ چھوڑ کر جدہ کی طرف بھاگے۔ انھوں نے چاہا کہ کشتی کے ذریعہ بحر قلزم پار کر کے حبش مگر وہ کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں پہنچے تھے کہ تند ہواؤں نے کشتی کو گھیر لیا۔ کشتی خطرہ میں پڑ گئی ۔ مسافر سب مشرک لوگ تھے۔ انھوں نے لات اور عزیٰ وغیرہ اپنے بتوں کو مدد کے لئے پکارنا شروع کیا۔ کی شدت بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی ۔ اب کشتی والوں نے کہا کہ اس وقت لات و عزیٰ کچھ کام نہ دیں گے۔ اب صرف ایک خدا کو پکارو، وہی تم کو بچا سکتا ہے ۔ چنانچہ سب ایک خدا کو پکارنے اب طوفان تھم گیا اور کشتی واپس اپنے ساحل پر آگئی ۔ عکرمہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا ۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم، دریا میں اگر کوئی چیز خدا کے سوا کام نہیں آسکتی تو یقیناً خشکی میں بھی خدا کے سوا کوئی دوسری چیز کام نہیں خدایا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھ کو اس سے نجات دے دی جس میں اس وقت میں پھنسا ہوا ہوں تو میں ضرور محمد کے یہاں جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کو معاف کرنے والا، درگزر کرنے والا اور مہربان پاؤں گا ۔ (اللهم لك عهد ان عافيتني مما انا فيه ان آتى محمد استی | ضع يدي في يده فلاجدنه عفوا غفورا كريما، رواه أبو داود والنسائی) ساری تاریخ کا یہ مشاہدہ ہے کہ انسان نازک لمحات میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ شخص بھی جو عام زندگی میں خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کئے ہو یا سرے سے خدا کو مانتا نہ ہو۔ یہ خدا کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی فطری شہادت ہے۔ غیر معمولی حالات میں جب ظاہری پر دے ہٹ جاتے ہیں اور آدمی تمام مصنوعی خیالات کو بھول چکا ہوتا ہے اس وقت آدمی کو خدا کے سوا کوئی چیز یاد نہیں آتی۔ بالفاظ دیگر، مجبوری کے نقطہ پر پہنچ کر ہر آدمی خدا کا اقرار کر لیتا ہے، قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ یہی اقرار اور اطاعت آدمی اس وقت کرنے لگے جب کہ بظاہر مجبور کرنے والی کوئی چیز اس کے سامنے موجود نہ ہو۔

بقیہ حیوانات اپنی جبلت کے تحت حقیقت پسندانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر انسان کو جو حسینہ حقیقت پسندی اور اعتراف کی سطح پر لاتی ہے وہ خوف کی نفسیات ہے۔ حیوانات کی دنیا میں جو کام جبلت کرتی ہے، انسان کی دنیا میں وہی کام تقویٰ انجام دیتا ہے۔

فتح کے بعد آپ نے عمومی طور پر ان سب لوگوں کی معافی کا اعلان کر دیا جنہوں نے آپ کے خلاف سخت ترین جرائم کئے البتہ آپ نے کچھ لوگوں کی بابت فرمایا کہ نہ قتل کر دیے جائیں خواہ وہ کعبہ کے پردے کے نیچے پائے جائیں۔ ابن ہشام وغیرہ نے اپنی سیرت کی کتابوں میں نام بنام ان کا ذکر کیا ہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ عبداللہ بن سعد : یہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کاتب وحی مقرر کیا۔ پھر وہ مرتد ہو کر کافروں سے جاملے۔ فتح مکہ کے بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے تو وہ بھاگ کر حضرت عثمان کے پاس پہنچے جو ان کے دودھ شریک بھائی تھے۔ وہ ان کو چھپا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ ان کو دوبارہ مسلمان کر لیجئے ۔ آپ خاموش رہے۔ عثمان نے پھر درخواست کی تو آپ نے ان سے بیعت لے لی ۔ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وہ مصر کے حاکم رہے اور افریقہ کی فتح میں ان کا خاص حصہ تھا۔

عبداللہ بن خطل : اس نے پہلے اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک غلام اور ایک انصاری تھے۔ ایک منزل پر پہنچ کر عبداللہ بن خطل نے اپنے غلام سے کہا کہ مرغ ذبح کر کے اس کو پکاؤ۔ مگر غلام سو گیا ۔ اور وقت پر کھانا تیار نہ کر سکا۔ اس پر ابن خطل کو غصہ آگیا اور اس نے غلام کو مار ڈالا۔ اب اس کو ڈر ہوا کہ اگر میں مدینہ واپس جاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے قصاص لیں گے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو کر مکہ چلا گیا اور مشرکین سے مل گیا۔ وہ شاعر تھا اور آپ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے دن ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ گیا۔ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہیں جا کر قتل کر دو۔ چنانچہ ابو برزہ اسلمی اور سعید بن حریث نے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کو قتل کیا۔

فَرتنیٰ : یہ مذکورہ عبداللہ بن خطل کی باندی تھی۔ وہ آپ کی ہجو میں اشعار پڑھتی تھی اور مشرکین مکہ کی شراب کی مجلسوں میں گاتی بجاتی تھی۔ آپ نے ابن خطل کے ساتھ اس کے قتل کا بھی حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی۔ قُریبہ : یہ بھی عبداللہ بن خطل کی باندی تھی اور اس کا بھی وہی پیشہ تھا جو فَرتنیٰ کا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ مگر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن کی درخواست کی۔ اس کو آپ نے امن دے دیا اور وہ مسلمان ہو گئی۔

حویرث بن نقیذ بن وہب : یہ شخص شاعر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شعر کہتا تھا،

بالفاظ دیگر استهزاء و تمسخر کی حد تک اسلام کا مخالف تھا۔ حضرت عباس بن مطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں ، فاطمہ اور ام کلثوم کو لے کر مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔ حویرث بن نقیذ نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے اونٹ کو نیزہ مار کر بھڑکا دیا جس کی وجہ سے دونوں خواتین زمین پر گر پڑیں۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کر دیا۔

مقیس بن صبابہ : اس شخص کا ایک بھائی ہشام بن صبابہ تھا۔ غزوہ ذی قرد کے موقع پر ایک انصاری نے ہشام کو غلطی سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مقیس بن صبابہ مکہ سے مدینہ آیا اور مسلمان ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کی دیت مجھے دلائی جائے جو غلطی سے دشمن سمجھ کر قتل کیا گیا ہے۔ آپ نے اس کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وہ چند دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا اور پھر اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر کے اچانک مکہ بھاگ گیا اور مرتد ہو گیا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور نممیلہ بن عبداللہ لیثی نے اس کو قتل کیا۔

سارہ : یہ عورت عکرمہ بن ابی جہل کی باندی تھی۔ آپ کی ہجو میں اشعار گایا کرتی تھی اور آپ کا مذاق آپ نے اس کا خون مباح کیا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان مانگا تو آپ نے امن اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ حضرت عمر رضی کے زمانہ خلافت تک زندہ رہی۔

۸-۹ حارث بن ہشام اور زہیر بن ابی امیہ : ان دونوں شخصوں کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ بھاگ کر اپنی ایک رشتہ دار خاتون ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر میں داخل ہو گئے ۔ حضرت علی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور کہا کہ خدا کی قسم میں ان دونوں کو ضرور قتل کر وں گا۔ ام ہانی نے حضرت علی کو روکا اور ان دونوں کو اپنے گھر میں بند کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں۔ اور کہا کہ میں نے ان دونوں آدمیوں کو پناہ دی ہے مگر علی ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تم نے جن کو پناہ دی ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور تم نے جن کو امن دیا ہم نے بھی ان کو امن دیا۔ علی رضہ ان کو قتل نہ کریں۔ چنانچہ وہ دونوں چھوڑ دئے گئے ۔ عکرمہ بن ابی جہل: عکرمہ اپنے باپ کی طرح اسلام کے سخت ترین دشمن تھے۔ ان کا خون بھی آپ نے مباح کر دیا تھا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر یمن چلے گئے۔ ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث جو مسلمان ہو چکی تھیں، انھوں نے اپنے شوہر کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امن کی درخواست کی۔ آپ نے ان کی امان منظور کر لی ۔ اس کے بعد وہ یمن گئیں اور عکرمہ کو مکہ واپس لائیں۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد اسلام کے لئے زبردست جانی و مالی قربانی دی۔ وہ حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں مرتدین سے لڑتے ہوئے اجنادین کے مقام پر شہید ہوئے۔

ہبار بن الاسود : اس شخص سے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادی زینب زوجہ ابوالعاص ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ جارہی تھیں کہ ہبار بن اسود نے آپ کے اونٹ کو

اس کے بعد اونٹ بدک کر دوڑا تو حضرت زینب اونٹ سے زمین پر گر پڑیں۔ اس وقت وہ حاملہ تھیں، ان کا حمل ساقط ہو گیا۔ اس کے بعد وہ آخر عمر تک بیمار رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبار کے قتل کا حکم ہبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان طلب کی اور کہا کہ اے خدا کے رسول میری جہالت کو معاف کر دیجیے اور میرا اسلام قبول کر لیجیے ۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔

وحشی بن حرب: وحشی نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا اور ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا وہ اولاً مکہ سے طائف بھاگ گئے۔ پھر مدینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی چاہتے ہوئے اسلام کی پیش کش کی۔ آپ نے ان کو اسلام میں داخل کر لیا اور ان کو معاف کر دیا۔ وہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور جس حربہ سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اسی حربہ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔

13 کعب بن زہیر: عرب کے مشہور شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہا فتح مکہ کے موقع پر ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا۔ وہ مکہ سے بھاگ گئے۔ وہ بعد کو مدینہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے بیعت کی درخواست کی۔ آپ نے ان کو بیعت کر لیا اور اس کے بعد ان کو اپنی چادر عنایت فرمائی۔

حارث بن طلاطل یہ شخص شاعر تھا اور اشعار کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا آپ نے اس کا خون مباح کر دیا اور حضرت علی رض نے اس کو قتل کیا۔

عبد اللہ بن زبعری: یہ عرب کے بڑے شاعروں میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت میں ہجویہ اشعار کہا کرتے تھے۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلے گئے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انھوں نے توبہ کی اور اسلام لائے۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ ہبیرۃ بن ابی وہب مخزومی: یہ شخص شاعر تھا اور شعر کہہ کر آپ کا اور آپ کے مشن کا استہزا کیا کرتا آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلا گیا اور وہیں کفر کی حالت میں مر گیا۔ ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان: اس عرب خاتون کو اسلام سے اتنی دشمنی تھی کہ غزوہ احد کے موقع پر انہوں نے حضرت حمزہ کا جگر نکال کر چبا یا تھا۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر گئیں اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور کہا: خدا کی قسم تمہاری ہی وجہ سے ہم دھوکہ میں تھے۔ اوپر جو تفصیل درج کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سترہ مردوں اور عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے ہر شخص متعین اور معلوم شخصی جرم کی بنا پر گردن زدنی تھا۔ تاہم ان میں سے جس شخص نے بھی معافی مانگی یا اس کی طرف سے کسی نے معافی کی درخواست کی اس کو آپ نے معاف کر دیا۔

Printed page