دوسرے کی پردہ پوشی خود اپنی پردہ پوشی ہے
Al-Risala, October 1980, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ایوب انصاری رض نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ مگر بعد کو انھیں اس حدیث کے الفاظ کے بارے میں کچھ شک ہوا۔ اس کے سننے میں عقبہ بن عامر بھی شریک تھے جو مصر جا چکے تھے۔ حضرت ابوایوب انصاری نے اونٹ لیا اور مدینہ سے مصر کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت عقبہ بن عامر کے مکان پر پہنچ کر ان سے ملاقات کی اور کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بیان کرو جو تم نے مسلمانوں کی پردہ پوشی کے بارے میں سنی تھی۔ اس حدیث کے سننے والوں میں اب میرے اور تمھارے سوا کوئی باقی نہیں ہے۔ انھوں نے وہ حدیث ان کے سامنے دہرائی۔ حدیث یہ تھی : جو شخص کسی رسوائی کی بات پر دنیا میں ہون کی پردہ پوشی کرے گا خدا قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا (من ستر مؤمنافی الدنیاعلی خزیہ سترہ اللہ يوم القيامة، الادب المفرد)