کم بولنا اخلاص کی علامت ہے
Al-Risala, October 1980, pp. 38–44
By Maulana Wahiduddin Khan
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی وفات تک صرف تیرہ مسئلے دریافت کئے جو سب کے قرآن میں (اما رایت تو معا كانوا خيرا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما سالوه الا عن ثلاث عشرة مسئله حتی قبض، كلہن فی القرآن) حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا: صحابہ ہمیشہ صرف وہی بات پوچھتے تھے جو ان کے لئے نفع کی بات ہو (قال ما كانوا يسألون الا عما ينفعهم)
اوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَ اسْ نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمھاری مُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ کو دیا کہ قائم رکھو دین کو اور اس میں تفرق نہ ہو مشرکین اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ کو وہ بات بہت گراں گزرتی ہے جس کی طرف تم ان کو مَنْ يُنِيبُ بلاتے ہو۔ اللہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جس کو چاہتا ہے شوریٰ ۱۳ اور وہ اپنی طرف اسی کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف
اقامت کے معنی ہیں سیدھا کرنا ۔ قرآن میں یہی لفظ جھکی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دینے کے معنی میں آیا ہے (کہف۷۷) تفرق کے معنی ہیں پھوٹنا ، جدا ہو نا۔ قرآن میں یہ لفظ ایسے موقع پر استعمال ہوا ہے جب کہ آدمی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر کنارے کے ذیلی راستوں میں بھٹک جائے (انعام (۱۵۳) آیت میں الدین سے مراد توحید اور صرف ایک خدا کی عبادت کرنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جو تمام نبیوں کو دیا گیا (وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليه انه لا اله الا انا فاعبدون ، انبیاء (۳۵) مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمام نبیوں کو ایک ہی دین دیا تھا اور وہ توحید کا دین تھا نہ کہ شرک کا دین ۔ اس لئے تم اسی دین توحید پر پوری طرح قائم رہو ، اس میں شاخیں نکال کر اپنی تو جہات کو ادھر ادھر نہ پھیرو ۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں جو حکم ہے وہ اقامت بمقابلہ عدم اقامت نہیں ہے بلکہ اقامت بمقابلہ یعنی مطلق طور پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دین کو قائم کرو اور دین کو قائم کئے بغیر نہ رہو۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ” الدین “ کو قائم کرو اور ” الدین “ میں تفرق نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا نے جو الدین (اصل دین) اتارا ہے صرف اسی کی اقامت اور پیروی میں لگو، ایسا مت کرو کہ اس اصل دین میں دوسرے دوسرے راستے نکال کر اس میں متفرق ہو جاؤ۔ تمھاری توجہ اصل دین پر لگے نہ کہ متفرق پہلوؤں میں بکھر جائے ۔ رمضان کے مہینہ کی ایک شام کو جب کہ راقم الحروف پیاس سے نڈھال ہو رہا تھا۔ سے نکلا : کھانا بھی خدا کی کیسی عجیب نعمت ہے ، ایک دن بھی نہ ملے تو آدمی کا برا حال ہو جاتا ہے “ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا : آج کل لوگ کمزور ہو گئے ہیں۔ ورنہ پہلے زمانہ میں ایک دن کیا چار چار دن لوگ بھوک کے
کا لفظ اس میں محض اضافی تھا۔ مگر سننے والے نے اسی لفظ کو لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بات اپنے رُخ سے ہٹ کر غیر متعلق پہلو طرف مُڑگئی۔ موصوف اگر کھانے کے ”نفرت“ کے پہلو کو ابھارتے تو یہ کہی ہوئی بات کی اقامت ہوتی۔ جب انھوں نے ”ایک دن“ کے پہلو کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی تو انھوں نے گویا اصل بات سے تفرق کیا۔ شاہراہِ کلام سے جدا ہو گئے ۔
اب ایک اور مثال لیجئے موجودہ زمانہ میں مسلمان تمام ملکوں میں کسی نہ کسی طاقت کے ظلم کا شکار ہو رہے کہیں کسی کی اقتصادی طاقت کا، کہیں کسی اکثریتی طاقت کا، کہیں کسی سیاسی اور فوجی طاقت کا۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف اعداد قوت (انفال (۶۰) ہے ۔ یعنی مسلمانوں کا طاقت ور ہونا۔ ظلم و زیادتی ہمیشہ بے طاقتی کی سزا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو طاقت ور بنا کر ہی اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ طاقت ور بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو با شعور بنایا جائے، ان میں باہمی اتحاد پیدا کیا جائے، ان کو جدید فکری اور عملی قوتوں سے مسلح کیا جائے ۔ ان پہلوؤں سے تیار ہونے کا نام طاقت ور ہونا ہے اور جو قوم ان چیزوں میں طاقتور ہو جائے اس کے اوپر کوئی ظالم ظلم کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس دوسرا طریقہ یہ ہے کہ احتجاج اور مطالبات کا لفظی طوفان برپا کیا جائے۔ جلسے جلوس کی دھوم مچائی جائے۔ تقریروں اور تجویزوں کا سیلاب بہایا جائے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض وقتی ہنگامے ہیں جن کا کوئی بھی واقعی فائدہ قوم کو نہیں ملتا۔ ان دونوں طریقوں میں سے پہلا طریقہ ملت کی اقامت کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ ملت کے مسئلہ سے تفرق کا۔ پہلا کام اصل کام ہے جب کہ دوسرا کام اصل کام کی نسبت سے غیر متعلق ہے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ملت کے محاذ سے متفرق ہونا ہے نہ کہ ملت کے محاذ پر جد و جہد کرنا۔
ان مثالوں سے اقامتِ دین اور تفرق فی الدین کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں ”الدین“ سے مراد وہ اصل دین ہے جو تمام نبیوں پر اترا۔ توحید سے مراد ہے _ اللہ کو تنہا خالق اور مالک اور معبود جاننا، اسی پر بھروسہ کرنا، اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا، اپنے تمام بہترین جذبات کو اسی کی طرف متوجہ کر دینا۔ اپنا سب کچھ صرف اللہ کو بنا لینا ۔ اللہ سے یہ وابستگی جب کسی کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہوتی ہے تو وہی آدمی کی زندگی بن جاتی ہے۔ وہ اس کی پوری زندگی کو کچھ سے کچھ کر دیتی ہے۔ سوچنا، اس کا بولنا، اس کا عمل کرنا، اس کا لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا، اس کا مختلف حالات میں رد عمل ظاہر کرنا، سب اسی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آدمی اندر سے باہر تک پوری طرح خدا کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
الدین (توحید) کو اس طرح اپنے اندر سمونے کا نام اقامت دین ہے۔ یہ اقامت دین اولاً فرد کے اپنے اندر متحقق ہوتا ہے اس کے بعد حسبِ حالات اجتماعی زندگی میں ظاہر ہونا چلا جاتا ہے۔
اس کے مقابلہ میں تفرق فی الدین یہ ہے کہ اصل دین کے ارد گرد غیر متعلق بحثیں نکال کر اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا جائے۔ مثلاً اسلامی عقائد میں خود ساختہ کلامی بحثیں چھیڑنا ، اسلامی عبادات میں بطورِ خود مسائل وضع کر کے فقہی جھگڑے کھڑے کرنا ۔ اسلامی کیفیات پیدا کرنے کے نام پر نئے "روحانی" نصاب بنانا اور لوگوں میں اس کو رواج دینا۔ اسی طرح یہ بھی تفرق فی الدین ہے کہ "توحید" کے علاوہ دوسری دوسری چیزوں کو عنوان بنا کر تحریکیں چلائی جائیں ، مثلاً خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر، اسلام کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کے نام پر ، خیر الامم کو اس کے مقام بلند کی طرف لے جانے کے نام پر، فساد فی الارض اور طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے نام پر اقامت دین حقیقی معنوں میں موحد بننے کا نام ہے اور تفرق فی الدین کے نام پر دوسری چیزوں میں متفرق ہونے کا ۔ قدیم حاملین شریعت اسی قسم کے تفرق میں مبتلا ہو گئے تھے، چنانچہ ان کے بارہ میں کہا گیا : و ما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد اور اہل کتاب واضح دلیل آنے کے بعد بھی دین میں متفرق ما جاء وتهم البینة - وما امروا الا لیعبد را ہو گئے ۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء ویقیموا عبادت کریں دین کو اس کے لئے خالص کر کے ، باطل الصلوة ويوتوا الزکوة و ذلک دین القيمة ایک سو ہو کر ۔ اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں (البينة) اور یہی ہے درست دین۔
دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے خارجی ہنگامے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کی دنیا میں بسيرا لینے کا نام ہے۔ دین دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی اس سطح پر جینے لگے جس سطح پر خدا کی دوسری مخلوقات جی رہی ہیں۔ اس کا شعور اللہ سے مل جائے ۔ اس کی یادوں میں اللہ بسا ہوا ہو۔ اس کے پر شوق جذبات کا مرکز صرف اللہ بن جائے ۔ جب کوئی شخص خدا کو اس طرح پاتا ہے تو وہی اس کا مطلوب و مقصود بن جاتا ہے اور اس کی کی سرگرمیوں کا رخ تمام تر خدا کی طرف ہو جاتا ہے۔ اخلاق و معاملات میں وہ وہی کرنے لگتا ہے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہو، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ اپنے جذبات اور اپنی مصلحتوں کو اس کی خاطر قربان کر دینا پڑے۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے : اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں داخل کرتے۔ اور اگر وہ قائم کرتے تورات اور انجیل کو اور جو ان کی طرف ان کے رب کے پاس سے اترا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے ، ان میں کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں (مائدہ ۶۶ - ۶۵) اس آیت میں ایمان و
تعلق اتنا گہرا اور اتنا زندہ ہو کہ وہ اس کے اوپر مستقل نگراں بن جائے، پرسکون حالات ہوں یا جذباتی ہیجان کا وقت ہو، ہر حال میں وہ اللہ سے ڈرے اور ہر معاملہ میں وہ اس کی مرضی کا پابندر ہے۔
اقامت دین اصلاً انفرادی طور پر اللہ کے دین پر قائم ہونے کا نام ہے۔ مگر جب بہت سے افراد اللہ کے دین پر قائم ہو جائیں تو حالات کے بقدر اس کے اجتماعی نتائج بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک درخت ہو تو وہ صرف ایک درخت ہے اور بہت سے درخت ہوں تو ان کا باغ بن جاتا ہے۔ اجتماعی چیزیں اقامت دین کا بالواسطہ نتیجہ ہیں نہ کہ اس کا براہِ راست حکم۔
تفرق فی الدین کا مطلب دین سے الگ ہونا نہیں ہے بلکہ دین کی شاہراہ سے الگ ہونا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے ۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے : " کہو، آؤ میں تم کو سناؤں وہ چیزیں جو تم پر تمھارے رب نے حرام کی ہیں۔ یہی کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ بے شرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریق پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم کسی شخص پر اس کے تحمل سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے۔ اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ نصیحت پکڑو۔ اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے جدا کر دیں گی ۔ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچو (انعام ۱۵۳-۱۵۲)
اس سے معلوم ہوا کہ دین کی ایک شاہراہ ہے اور اس کے دائیں بائیں بہت سی پگڈنڈیاں نکلتی ہیں۔
بھروسہ کرتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اور اس کا اعتماد علی اللہ اس کی زندگی میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے والدین، اور یتیموں اور عام انسانوں کے بارے میں حد درجہ محتاط انسان بن جاتا ہے۔ رزق کے معاملہ میں وہ اپنے کو پوری طرح حلال دائرہ میں محدود رکھتا ہے۔ بیہودہ کام کرنا اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ کسی کو دینا ہو یا کسی سے لینا ہو ہر حال میں وہ انصاف پر قائم اس کی زبان کھلتی ہے تو سچائی کے لئے کھلتی ہے نہ کہ بے جا حمایت یا بے جا مخالفت کے لئے۔ تعلق باللہ اس کے اور خدا کے درمیان ایک خاموش عہدین جاتا ہے جس کو وہ کبھی نہ توڑے خواہ اس کے لئے اس کو اپنے آپ پر کتنا ہی جبر کرنا پڑے۔
یہ دین کی شاہراہ پر قائم ہونا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دین کی شاہراہ سے جدا ہونا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ چیزوں میں نئی نئی شاخیں نکال کر ان کی دینی اہمیت ثابت کرے اور ان کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ مثلاً اس کا دل اللہ کی کبریائی کے جذبہ سے سرشار نہ ہو البتہ "رجال اللہ"، اور" اسلامی شخصیتوں" کے ساتھ والہانہ عقیدت کا اظہار اس کا محبوب مشغلہ بنا ہوا ہو۔ تنہائیوں میں اللہ کے ڈر سے اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوتے ہوں البتہ "لاؤڈ اسپیکر" کی سطح پر وہ خوب اللہ کے نام کی دھوم مچاتا ہو۔ عبادات میں انابت و تضرع پیدا کرنے کا دھیان اس کو نہ ہو البتہ مسائلِ عبادت میں طرح طرح کی موشگافیاں پیدا کرنے کا وہ ماہر بنا ہوا ہو۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف نہ کرے البتہ خارجی دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہو البتہ دوسروں کے ظلم و بربریت کا اعلان کرنے میں سب سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہو۔ وہ اپنے پڑوسی کی مدد نہ کرے البتہ دور کے مسائل پر تقریر کرنے سے اس کی زبان کبھی نہ تھکتی ہو۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے خالی ہو البتہ ذکر کے نام پر الفاظ کی تکرار کرنے میں لاکھوں کا عدد بھی اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہا ہو۔ اپنی نماز میں خشوع پیدا کرنے کی اسے فکر نہ ہو البتہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش کا وہ خوب اہتمام اپنے کمزور دینی بھائی کے حقوق اس کو یاد نہ آئیں البتہ بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرنا وہ کبھی نہ بھولتا ہو۔ اپنے نفس کو خدا کے آگے جھکانے کا اسے شوق نہ ہو البتہ ساری دنیا کو خدا کے آگے جھکانے کا وہ مجاہد بنا ہوا ہو۔ اس قسم کی تمام صورتیں تفرق فی الدین کی صورتیں ہیں۔ ان کو خواہ جس نام پر بھی کیا جائے اور ان کے ساتھ کیسی ہی خوش فہمیاں وابستہ کی جائیں وہ خدا کے یہاں مقبولِ دین کی حیثیت سے رکھی نہیں جا سکتیں۔ دین کے راستہ سے متفرق ہونا ایسا ہی ہے جیسے پٹرین کا اپنی ٹری سے اتر جانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی تجدیدِ ایمان کے نام پر اٹھے اور پھر فکر کی تصحیح اور اس کے طلسماتی خواص پر پوری تحریک چلا دے۔ وہ اسلام کو سر بلند کرنے کا دعویٰ کرے اور پھر سیاسی، کارروائیوں اور اجتماعی جلوسوں کے زہر کو دوڑائے۔ وہ دین کی تعلیم کو اپنا مقصد
سیکولر اور جمہوری قوتوں کو منظم کیجئے “ خیر پسند اور شر بیزار انسانوں کو پکارئے “ ووٹوں کی طاقت کو دباؤ کی سیاست کے لئے استعمال کیجئے “ جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنی آواز بلند کیجئے “ اپنے حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبات کی دھوم مچائیے “ ظالمانہ حکومت کو متحوہ طاقت سے اکھاڑ پھینکئے “ جمعہ کے روز مسجدوں اور مدرسوں میں یوم دعا منائیے “ لوگوں کے دلوں کے دروازہ پر دستک دیجئے “ ہر روز کاغذ کے لاکھوں ورق اس قسم کے الفاظ سے سیاہ ہو رہے ہیں۔ اور بے شمار لاؤڈ اسپیکر ہر دن ان کو فضا میں بکھیر رہے ہیں۔ مگر ان کوششوں سے اتنا فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا جتنا قوم کی جیب سے ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب الفاظ کی پہلوانی ہے اور الفاظ کی پہلوانی کسی قوم کو حقیقت کی دنیا کا سور ما نہیں بنا سکتی۔
فرض نماز کا وقت ہو جائے اور مسجد سے آواز بلند ہو: حی علی الصلوة (آؤ نماز کی طرف) تو اس وقت عبادت الہی کا مقام مسجد ہوتا ہے۔ ہر شخص کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مسجد میں آکر اپنے عابد ہونے کا ثبوت دے۔ برعکس اگر ایک شخص ایسا کرے کہ عین اس وقت مسجد کے باہر میدان میں شامیانہ لگائے اور لاؤڈ اسپیکر پر فلسفہ عبادت“ کے موضوع پر لمبی تقریر شروع کر دے تو یہ اس کے عابد ہونے کا ثبوت نہ ہوگا بلکہ صرف ظالم ہونے کا ثبوت ہوگا۔ اس وقت کسی کے لئے اپنے عابد ہونے کا ثبوت دینے کا مقام مسجد ہے نہ کہ جلسہ گاہ میں عبادت کے عنوان پر شاندار تقریر۔ اس قسم کی غیر مطلوب عبادت آج لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ دور کے مظلومین“ کے بارے میں تجویزیں اور بیانات چھپ رہے ہیں۔ حالاں کہ مظلوموں سے ہمدردی کا ثبوت دینے کا مقام سب سے پہلے آدمی کا اپنا دوسروں کو انسانیت اور اخلاق کا سبق دینے کے لئے کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں ۔ حالاں کہ انسانیت دوست اور با اخلاق حقیقۃً وہ ہے جو خود اپنے معاملات میں انسانی اور اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے۔ ملت کو بچاؤ کا نعرہ ہر ایک لگا رہا ہے مگر فرد کو بچانے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ آدمی اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت وہاں دینا چاہتا ہے جہاں اس کی خدا پرستی ایک شان دار چیز بن کر لوگوں سے خراج تحسین حاصل کرے، حالاں کہ اس کا خدا جہاں اس کی خدا پرستی کا امتحان لینے کے لئے کھڑا ہوا ہے وہ مقامات دہ ہیں جہاں سب کچھ کر کے بھی آدمی کو کوئی عزت اور شہرت حاصل نہیں ہوتی۔