Al-Risala · November 1980

منیجر ماہنامہ الرسالہ

Al-Risala, November 1980, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم یثرب (مدینہ) میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں چند یہودی قبیلے یہود نے اوس و خزرج کو باہم لڑا رکھا تھا تاکہ وہ یہود کے مقابلہ میں کمزور رہیں اور ان کی مضبوط جمعیت بننے نہ پائے اور اس طرح یہود کی بالاتری ان کے اوپر قائم رہے۔ ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے کا قبیلہ خزرج یہودیوں کے ابھارنے سے اوس کے خلاف آمادہ جنگ ہو گیا۔ قبیلہ اوس کے ایک سردار ابوالحیسر انس بن رافع چند آدمیوں کو لے کر مکہ آئے تاکہ اپنے حریف کے مقابلہ میں قریش کی مدد حاصل کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آمد کا علم ہوا تو آپ ان کے پاس گئے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی ۔ ان کے وفد کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ اس سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ خدا کی قسم اس سے بہتر ہے جس کے لئے تم آئے ہو (ہذا واللہ خیر مما جئتم بہ) مگر ان کے ساتھیوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی۔ ابوالحیسر انس بن رافع نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ پر پھینکی اور کہا: ان باتوں کو رہنے دو، میری زندگی کی قسم ہم تو اس کے علاوہ کسی اور کام کے لئے آئے ہیں (دعنا منك فلعمری لقد جئنا لغیر هذا)

اوس کا وفد اسلام قبول کئے بغیر یثرب واپس چلا گیا۔ اس کے بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ ہوئی جو جنگ بُعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت دونوں قبیلوں کے درمیان دشمنی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ دوسرے قبیلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے۔ اس جنگ میں پہلے خزرج نے اوس کو اس کے بعد اوس نے اپنے سردار ابو اسید کی قیادت میں خزرج کو شکست دی۔ باری باری ایک دوسرے کو زبردست نقصانات پہنچائے۔ حتیٰ کہ ایک نے دوسرے کے باغات اور مکانات دونوں عرب قبیلے خود ہی اپنے ہاتھوں کمزور ہو کر رہ گئے۔

اس جنگ کا فائدہ براہ راست یہود کو پہنچا۔ انھوں نے یثرب میں برتری کا مقام حاصل کر لیا۔ جذبات ٹھنڈے ہوئے تو دونوں قبائل کے سنجیدہ لوگوں کو احساس ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔ اپنے کو خود اپنے ہاتھوں ہلاک کر کے دشمن کو موقع دے دیا کہ وہ ان کے اوپر غلبہ حاصل کرے۔ کے باشعور لوگوں نے طے کیا کہ وہ اپنے اختلافات کو بھول جائیں اور مشترکہ طور پر اپنا ایک بادشاہ مقرر کر لیں جو ان کے معاملات کا نظم کرے۔ اس کے لئے عبداللہ بن ابی خزرجی کا انتخاب ہوا جو ایک صاحبِ شخصیت آدمی تھا اور اپنے اندر قائدانہ اوصاف رکھتا تھا۔ عین اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے

کعبہ کی زیارت کے ارادہ سے مکہ کا سفر کیا۔ یہاں ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ نے ان کو بتایا کہ میں خدا کا نبی ہوں تم لوگ میری دعوت کو قبول کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے بعد معاً ان کو یاد آیا کہ یہود بہت دنوں سے ان سے کہا کرتے تھے کہ ایک نبی غلبہ والا ظاہر ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہو کر تم کو شکست دیں گے اور تمھارے اوپر اپنا غلبہ قائم کریں گے۔ یثرب والوں نے کہا: اے لوگو، خدا کی قسم یہ تو وہی نبی ہیں جن کی خبر تم کو یہود دیتے تھے۔ دیکھو، وہ تم سے پہلے اس کی طرف سبقت نہ چنانچہ انھوں نے آپ کی دعوت قبول کرلی۔ انھوں نے مزید کہا: ہم اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے ان میں جتنا شر و عداوت ہے اتنا کسی اور قوم میں نہیں۔ شاید اللہ آپ کے ذریعہ ان کو متحد کردے۔ ہم واپس جا کر اس دین کو ان کے سامنے پیش کریں گے جس کو ہم نے قبول کر لیا ہے۔ اگر اللہ نے ان کو اس دین پر جمع کر دیا تو آپ سے زیادہ اس ملک میں کوئی طاقت ور نہ ہوگا (سیرۃ ابن ہشام ، جزو ثانی، صفحہ ۳۸) تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد یثرب کے لوگ جوق در جوق اسلام لائے۔ (مددگار) بن گئے۔ ان کی قربانی اور تعاون سے اسلام کو عرب میں غلبہ حاصل ہوا۔

یثرب کے لوگوں نے ہجرت سے پانچ سال پہلے آپ کی دعوت کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ سال بعد یہی لوگ آپ کے مومن بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی ملاقات کے وقت ان کے ذہن میں جنگ کے خیالات بھرے ہوئے تھے۔ وہ سارے معاملہ کو اس نقطہ نظر سے دیکھتے تھے کہ ان کا ایک دشمن ہے اور اس دشمن کو انھیں شکست دینا ہے۔ ان کی نفسیات پر جنگ کے مسائل چھائے ہوئے تھے۔ اس ذہنی پس منظر میں خدا اور آخرت کی باتیں انھیں غیر متعلق بلکہ تباہ کن معلوم ہوتی تھیں۔ ان کو ایسا نظر آتا تھا گویا ان کو اصل محاذ سے ہٹایا جارہا ہے۔ مگر جب جنگ بعاث میں ساری طاقت خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں صرف تباہی آئی ۔ حتی کہ یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ یہود ان کو لڑا لڑا کر ان کی عرب نسل کا خاتمہ کردیں گے تو ان کا ذہن بدلنا شروع اب وہ معاملہ کو جنگ سے وسیع تر دائرہ میں رکھ کر دیکھنے لگے۔ اب وہ جنگ کے بجائے امن، اختلاف کے بجائے اتحاد کی اصطلاحوں میں سوچنے لگے۔ ان کو نظر آیا کہ اصل مسئلہ اوس و خزرج کا نہیں بلکہ اوس و خزرج کے مقابلہ میں یہود کا ہے۔ اس کا حل انھیں یہ نظر آیا کہ ان کا ایک عقیدہ ہو جو قبائلی تفریق کو ختم کرے اور ان کے لئے نظریاتی اتحاد کی بنیاد فراہم کرے اور اسی کے ساتھ ایک شخصیت ہو جو ان کو باہم جوڑے اور ان کی مشترکہ قائد بن سکے۔ یہ دونوں چیزیں (نظریہ اور شخصیت) انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مل گئیں اور انھوں نے لپک کر اس کو قبول کر لیا۔ اسی لئے حضرت عائشہؓ نے فرمایا بعاث کی جنگ ایک ایسی جنگ تھی جس کو اللہ نے اپنے رسول کی تائید کے لئے فراہم کیا تھا (کان یوم بعاث یوما قدمه الله تعالى لرسوله)

Printed page