اپنے اعمال کو بے حقیقت سمجھو
Al-Risala, November 1980, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
سعید بن جبیر تابعی سے کسی نے پوچھا: سب سے بڑا عبادت گزار کون ہے ۔ جواب دیا: وہ شخص جو گناہوں میں مبتلا تھا پھر اس نے توبہ کر لی۔ اور اس کے بعد اس کا یہ حال رہا کہ جب اس نے اپنے گناہوں کو یاد کیا تو اس کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو بے حقیقت جانا (صفوة الصفوة)
سب سے بڑا عمل وہ ہے جس کی خاطر اپنے اوپر جبر کرنا پڑے ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمام اعمال میں تین عمل سب سے زیادہ سخت اپنی ذات کے معاملہ میں لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا۔ اپنے مال سے اپنے بھائیوں کی مدد کرنا اور ہر حال میں اللہ کو یاد کرنا (اشد الاعمال ثلاث : انصاف الناس من نفسك، ومواسَاةِ الاخوانِ من مالك، و ذكر الله على كل احوالك)
کسی پہلو سے دین کے کام آجانا جنت کے استحقاق کے لئے کافی نہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ حنین میں ایک شخص نے حصہ لیا اور پوری قوت سے لڑتا رہا۔ اس کے انتقال کی خبر پھیل گئی۔ لوگوں کے درمیان اس کی بہادری کے چرچے ہوئے۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس نے ضرور شہادت کا درجہ پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا : وہ دوزخیوں میں سے ہے (هو من اهل النار) لوگوں کو اس کی جاں بازی اور بہادری کی وجہ سے آپ کی بات پر شبہ ہونے لگا۔ آپ نے فرمایا جاؤ تحقیق کرو کہ وہ کس طرح مرا ہے۔ لوگوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ زخمی ہو کر گرا تھا، اسی حالت میں پڑا رہا۔ جب رات ہوئی تو زخموں کی تاب نہ لاکر اس نے خودکشی کرلی۔ (اس طرح تصدیق ہوگئی کہ وہ شہید نہیں ہوا بلکہ حرام موت مرا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ نے حضرت بلال رض سے کہا کہ جاؤ لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا جو واقعی مسلم ہے۔ اور اس دین کی مدد اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعہ بھی کرتا ہے (لايدخل الجنة الا نفس مسلمة وان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر، بخاری)