Al-Risala · November 1980

اللہ کے دئے پر راضی ہونا اور ہمیشہ طالب علم رہنا

Al-Risala, November 1980, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابوقلابہ سے کسی نے پوچھا کہ سب سے زیادہ غنی کون ہے۔ انھوں نے جواب دیا : جو اس چیز پر راضی ہو جائے جو خدا نے اس کو دی ہے۔ پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے۔ انھوں نے جواب دیا : وہ شخص جو دوسروں کے علم سے اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے۔

آدمی اسی چیز کو کھو رہا ہے جس کو وہ پانا چاہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت کی مانند کوئی چیز نہیں دیکھی جس کا چاہنے والا سو گیا ہو۔ نے جہنم کی مانند کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا سو گیا ہو (مارأیت مثل الجنة نام طالبها وما رأیت مثل النار نام هار بها)

کسی سے برائی پہنچے تو اس کو اللہ کے حوالے کر دینا امام زین العابدین (۳۸ - ۴۹ ھ) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے۔ حضرت حسین کی اولاد میں آپ تنہا شخص تھے جو کربلا کی جنگ سے محفوظ واپس آگئے۔ امام زین العابدین سے کسی نے کہا کہ فلاں شخص آپ کی برائی کرتا ہے اور آپ پر تہمت لگاتا ہے۔ آپ نے کہا کہ مجھ کو اس شخص کے پاس لے چلو۔ جب آپ اس آدمی کے پاس پہنچے تو آپ نے سلام علیک کے بعد اس سے کہا: اے شخص، جو کچھ تو نے میرے بارے میں کہا اگر وہ صحیح ہے تو میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھ کو معاف کر دے۔ اور اگر تو نے جو کچھ کہا ہے وہ غلط ہے تو میں اللہ سے درخواست

کرتا ہوں کہ وہ تم کو معاف کر دے (یا ھذا ان کان ما قلته في حقا فانا اسأل اللہ ان یغفر لي، وان کان ما قلته في باطلا فانا اسأل اللہ ان یغفر لك )

Printed page