جنتی وہ ہے جس کا دل بغض سے خالی ہو
Al-Risala, November 1980, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اس پہاڑی راستہ سے ایک جنتی شخص آرہا ہے۔ اتنے میں ایک مسلمان اس راستہ سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ کچھ لوگ اس سے ملے اور پوچھا کہ تم کیا عمل کرتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے بارے میں جنتی ہونے کی خبر دی ، اس نے جواب دیا : میرے پاس کوئی خاص عمل نہیں۔ البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کسی قسم کا کینہ نہیں رکھتا۔ دوسروں کی اصلاح کرنا اور اپنی اصلاح قبول کرنے کے لئے تیار رہنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: لوگو، تمھارا معاملہ میرے سپرد کیا گیا ہے حالاں کہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ میرے نزدیک کمزور آدمی تم میں سب سے زیادہ طاقت ور ہے جب تک کہ میں اس کا حق اس کو نہ دلوا دوں۔ اور میرے نزدیک طاقت ور آدمی تم میں سب سے زیادہ کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں۔ لوگو، میں صرف تمھارے ایک آدمی کی طرح ہوں ۔ جب تم مجھ کو دیکھو کہ میں سیدھی راہ پر ہوں تو میری پیروی کرو اور اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھ کو سیدھا کر دو ( یا ایھا الناس اني قد وليت امركم ولست بخير منكم وان اقواکم عندى الضعيف حتى آخذ له بحقه وان اضعفكم عندى القوی حتی آخذ منه الحق ۔ یا ایھا الناس ما انا الا کاحد كم فاذا رأيتموني قد استقمت فاتبعوني وان زغت فقومونی)
عمل کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی کسی کو نقصان نہ پہنچائے یحییٰ بن معاذ رازی نے کہا: مسلمان بھائی کو اگر تم فائدہ نہ پہنچا سکو تو اس کو نقصان بھی نہ پہنچاؤ (وإن لم تنفعه فلا تضره )