Al-Risala · November 1980

حکمران کے مقابلہ میں

Al-Risala, November 1980, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے کہا: آپ کی تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو صحیح نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ حدیث میں آیا ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے (افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر، ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی) میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ مگر حدیث میں جس چیز کو افضل جہاد بتایا گیا ہے وہ عدل وانصاف کی ایک بات کہنا ہے نہ کہ حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔ ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا بلا شبہ ایک بہت بڑی بھلائی ہے۔ قائم شدہ مسلم حکومت کو "ظالم" قرار دے کر اس کو ختم کرنے کی تحریک چلانا سراسر باطل ہے جس کا شریعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ سے لے کر اب تک تمام علماء کا اجماع رہا ہے۔ سعید بن جبیر تابعی کہتے ہیں۔ میں نے عبداللہ بن عباس رضی سے پوچھا۔ کیا میں بادشاہ کو بھلائی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں۔ صحابی نے جواب دیا: اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ بادشاہ تم کو قتل کر دے گا تو نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا، انھوں نے پھر یہی جواب دیا۔ میں نے تیسری بار پوچھا، انھوں نے پھر یہی جواب دیا اور کہا، اگر تم کو ایسا کرنا ہی ہو اور اس کے سوا چارہ نہ ہو تو تنہائی میں اس کو نصیحت کرو (قال سعيد بن جبير قلت لابن عباس آمر السلطان بالمعروف والهاه عن المنكر قال ان خفت ان يقتلك فلا - ثم عدت فقال لى مثل ذلك۔ ثم عدت فقال لى مثل ذلك، وقال ان كنت لا بد فاعلا ففيما بينك وبينه ، جامع العلوم والحكم) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران کی برائی کے اعلان کے سلسلے میں ہماری حدود کیا ہیں۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اس کو قتل وقتال اور ایک دوسرے کو مٹانے کے مرحلہ تک نہ جانے دیا جائے۔ کوئی داعی مسلم حکمران کو فنا کرنے کا منصوبہ بنائے یا مسلم حکمران داعیوں کی جماعت کو فنا کرنا چاہے، دونوں حالتوں میں مسلمانوں میں باہمی قتل و خون کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی ایسی تحریک جو لوگوں کو باہمی قتل وخون تک پہنچائے سراسر باطل ہے۔ ہر مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی جان اور مال اور آبرو حرام ہے اور کسی بھی حال میں کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ ان کو اپنے لئے جائز کرلے۔ اس لئے مسلم حکمران کی اصلاح کا کام لازمی طور پر صرف کہنے یا اعلان کرنے کی حد تک محدود رہنا چاہئے۔ اور اس کا بھی زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ کہا جائے تنہائی میں کہا جائے ۔ یعنی مصلح اور حکمران دونوں تنہائی میں بیٹھیں اور مصلح خیر خواہی اور دلسوزی کے انداز میں اس کی برائی پر اس کو نصیحت کرے۔

مذکورہ بزرگ نے اس کے بعد اپنے نقطہ نظر کے حق میں دوسری مشہور حدیث کا حوالہ دیا جو مسلم نے

ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ابو سعید خدری رض کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو ہاتھ سے روک دے ۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے اس کو برا کہے۔ اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے اس کو برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ( من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فان لم يستطع فبلسانه، وان لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الایمان ) میں نے کہا کہ اس حدیث میں یہ کہاں ہے کہ ظالم حکمران کو اقتدار سے بے دخل کر دو۔ یہ حدیث تو سادہ طور پر مسلم معاشرہ کے اندر افراد کی عمومی ذمہ داری کو بتاتی ہے۔ مسلم معاشرہ میں ہر مسلمان کو اس طرح رہنا چاہئے کہ جب وہ اپنے کسی بھائی کو برائی کرتے دیکھے تو اس کو بقدر استطاعت روکے ۔ اس کا کسی قسم کی انقلابی سیاست سے کیا تعلق ۔

روزانہ کا مشاہدہ ہے کہ جب ایک آدمی کو کسی آدمی سے شکایت ہو جاتی ہے ، جب کسی کا مفاد دوسرے سے ٹکراتا ہے ، جب کسی کے لئے کسی کے مقابلہ میں " انا " کا سوال پیدا ہو جاتا ہے تو آدمی اس وقت ظلم اور بے انصافی پر اتر آتا ہے ۔ طاقت ور پڑوسی کمزور پڑوسی کی تخریب کے منصوبے بناتا ہے ، صاحب مکان اپنے کرایہ دار کو خانہ بدر کرنے کی سازشیں کرتا ہے۔ مالک اپنے ملازم کی معاشیات کو برباد کر دینا چاہتا ہے ۔ جائداد والا ایک وارث کو اس کا حق دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ ایک ادارہ اپنے کارکن کو ذلیل کرکے نکال ایک شخص اپنے دوست اور رشتہ دار کا دشمن بن جاتا ہے۔ ایک لیڈر اپنے اوپر تنقید کرنے والے کو رسوا کر دینا چاہتا ہے۔ ایک کمانے والا اپنے نہ کمانے والے رشتہ دار کو ذلیل کرتا ہے ۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے اور ہر بستی اور ہر محلہ میں اس قسم کے واقعات ہر روز دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی وہ سماجی برائی ہے جس کے خلاف سرگرم ہونے کی مذکورہ بالا حدیث میں تلقین کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی دیکھے کہ اس کے قریب ایک آدمی برائی کر رہا ہے یا کسی بندہ خدا کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے تو اس معاملہ میں وہ غیر جانب دار نہ ہو جائے ۔ بلکہ بقدر استطاعت اس میں اپنے کو شریک کرے ۔ اس کو اس وقت تک چین نہ آئے جب تک وہ اپنے بھائی کے خلاف ہونے والی برائی کو ختم ہوتا ہوا نہ دیکھ لے۔ سیاسی تصادم سے بچنے کا مطلب ظلم سے سمجھوتہ نہیں ہے بلکہ اپنی قوتوں کو زیادہ نتیجہ خیز کام میں لگانا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کو خدا پرستی اور انصاف پر قائم کرنا ، لوگوں کو موت اور آخرت کے مسئلہ سے ہوشیار کرنا ، تعمیری میدان میں اپنے کو مستحکم بنانا ، اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ، یہ وہ کام ہیں جن کا کرنا ہر حال میں ممکن رہتا اسلام چاہتا ہے کہ لوگ اپنے عمل کا آغاز یہاں سے کریں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ جو نہیں ملنے والا ہے اس کو پانے کی کوشش میں وہ بھی ہاتھ سے چلا جائے جو بروقت مل سکتا ہے۔

Printed page