Al-Risala · November 1980

وحید الدّین

Al-Risala, November 1980, pp. 3–45

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ کی آخری آیت میں ارشاد ہوا پس تم صبر کرو ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور تم کو بے برداشت نہ کر دیں وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے (فا صبر ان وعد اللہ حق فلا يستخففتك الذين لا يوقنون ، روم)

زمین سے ایک پھل دار درخت کا پودا اگتا ہے۔ قانون قدرت کے مطابق اس میں دسویں سال پھل لگنے والا ہے۔ اب اگر کچھ لوگ جلد بازی کریں اور پودا نکلنے کے چند ماہ بعد ہی اس کا پھل لینا چاہیں تو وہ اپنی جلد باز کارروائیوں سے درخت کو برباد کر دیں گے اور اس کا قدرتی امکان بروئے کار آنے سے رہ ایسا ہی کچھ معاملہ سماجی زندگی میں ظاہر ہونے والے واقعات کا بھی ہے۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اہل حق کو عزت اور غلبہ دے گا۔ مگر درخت کی طرح اس غلبہ کے ظہور کا بھی ایک قانون ہے۔ قانون کی رعایت نہ کی جائے اور وقت سے پہلے اس کو پانے کی خواہش کی جائے تو یہ ایسی نادانی ہوگی جس سے غلبہ تو نہیں ملے گا البتہ اس کے امکانات برباد ہو کر رہ جائیں گے ۔

خدا کی طرف سے جو غلبہ کا وعدہ ہے وہ اس بنیاد پر ہے کہ اہل حق اپنے حصہ کا کام کر دیں ۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے دین پر قائم کریں ، وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ وہ ممکن دائروں میں اپنے آپ کو مستحکم بنائیں ۔ اسی کے ساتھ وہ فریق ثانی کو حق کی دعوت دیں ۔ وہ دعوت کے تمام حکیمانہ تقاضوں کا اہتمام کرتے ہوئے اس کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچائیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا کے یہاں کسی گروہ کا یہ استحقاق ثابت کرتی ہیں کہ وہ ان کو غالب کرے اور ان کے مقابلہ میں ان کے حریف کو مغلوب کر دے۔ جب اہل حق کے درمیان یہ تمام کام جاری ہوتے ہیں تو فریق ثانی کی طرف سے بار بار اشتعال انگیزیاں کی جاتی ہیں ۔ ذہنی اور عملی پہلوؤں سے ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو اہل حق کو بھڑکا دینے والی ہوں۔ یہ بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر اہل حق کی شانتی بھنگ ہو جائے اور وہ فریق ثانی کے چھیڑے ہوئے فتنوں میں اپنے آپ کو الجھا دیں تو اصل کام رک جاتا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان دوسرے غیر متعلق امور پر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی لڑائی کا آخری فیصلہ ہمیشہ اہل حق کے خلاف ہوتا ہے ۔ کا غلبہ خدا کی مدد سے ہوتا ہے اور انھوں نے اصل کام کو نامکمل حالت میں چھوڑ کر غلبہ کا استحقاق کھو دیا۔ " بے برداشت " ہو کر خدا کی نافرمانی کی اور خدا کی نافرمانی کرنے والوں کو کبھی خدا کی نصرت نہیں پہنچتی۔ بے برداشت ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ مثلاً اعلیٰ مقصد کی خاطر چھوٹے نقصانات کو برداشت

نہ کرنا اور ان کے لئے لڑ جانا ۔ جذباتی ٹھیس پہنچنے والے معاملات کو نظر انداز نہ کرنا اور اپنے کو ان میں الجھا لینا ۔ سماجی اور معاشی مسائل میں خود تعمیری کے اصول پر عمل نہ کرنا اور مطالبہ اور احتجاج کی سیاست میں اپنے کو مشغول کر لینا ۔ اپنے افراد میں کردار کی طاقت پیدا کرنے سے پہلے بڑے بڑے اقدامات کرنے لگنا ۔ زندگی میں پیش آنے والی فطری زیادتیوں کو غیر ضروری اہمیت دینا اور ان کی خاطر تصادم چھیڑ دینا ۔ دوسروں سے غیر حقیقی توقعات قائم کرنا اور جب وہ توقعات پوری نہ ہوں تو جھنجھلا کر ان سے مڈبھیڑ شروع کر دینا ۔ انسانی کمزور یوں کی رعایت نہ کرنا اور کسی کے اندر ایک بشری کمزوری پا کر اس کو اچھالنا اور اس کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی کرنا ۔ سیاسی حکمراںوں سے مفاہمت نہ کرنا اور قبل از وقت ان سے ٹکرا جانا ۔ ” بے برداشت نہ ہو جاؤ “ کا اصول حد درجہ حکمت پر مبنی ہے ۔ اس کی خلاف ورزی کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ نہ ملے ہوئے مواقع کی حرص میں ملے ہوئے مواقع بھی برباد ہو جاتے ہیں ۔ جو غیر سیاسی دائرہ میں کام کرنے کا موقع دے رہا ہے ، اس کو سیاسی اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی جانے لگے تو وہ غیر ضروری طور پر اہل حق کو اپنا حریف سمجھ لیتا ہے اور حکومتی قوت سے کام لے کر انہیں کچل ڈالتا ہے ۔ فریق ثانی اگر زور اور حیثیت رکھتا ہے اور اس کے افراد سے بعض زیادتیاں سرزد ہوتی ہیں اور ان کو برداشت نہیں کیا جاتا تو اس کے بعد عمومی سطح پر ایسے فسادات برپا ہوتے ہیں کہ پوری زندگی تہس نہس ہو جاتی ہے اور کسی بھی قسم کا کوئی تعمیری کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ جب بھی آدمی کوئی کام شروع کرتا ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں مختلف لوگوں کی طرف سے شکایت اور نقصانات سامنے آتے ہیں ۔ آدمی اگر ہر شکایت اور ہر نقصان کو اہمیت دے اور اس کی بنیاد پر لوگوں سے لڑنا شروع کر دے تو اصل کام رک جائے گا اور بس لڑائی جھگڑے باقی رہیں گے ۔

دوسرے یہ کہ بالفرض ان تمام نادانیوں کے باوجود اہل حق کو غلبہ دے دیا جائے تو عدم تیاری کی بنا پر وہ اس کو سنبھال نہ سکیں گے ۔ اگر کسی گروہ میں اتحاد نہ ہو تو غلبہ پانے کے بعد وہ آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے ، جو ٹکراؤ پہلے حق پرستوں اور باطل پرستوں کے درمیان جاری تھا وہ خود حق پرستوں کے اپنے درمیان ہونے لگے گا ۔ اگر ان کے افراد میں کردار پیدا نہ ہوا ہو اور انہیں اقتدار پر قبضہ مل جائے تو وہ اصلاح کے بجائے صرف فساد کا سبب بنیں گے اور نتیجہ حق کے بارے میں ایسی بدگمانیاں پیدا ہوں گی کہ لوگ اس کو ایک قابل نفرت چیز سمجھنے لگیں ۔ اگر انہوں نے اپنے اندر یہ مزاج پختہ نہیں کیا ہے کہ ان کے نزدیک ساری اہمیت حق کی ہے باقی تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں تو وہ غلبہ پا کر غیر ضروری سرگرمیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور سماج کو نئے نئے مسائل میں الجھا کر رکھ دیں گے ۔ اگر انہوں نے اپنے آپ کو انتقام

اور تم اس وحی کے ذریعہ سے ڈراؤ ان لوگوں کو جو اندیشہ رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے اس حال میں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا ، شاید کہ وہ اللہ سے ڈریں۔ اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے ۔ حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ تم پر نہیں اور تمھارے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے بے انصافوں میں سے ہو جاؤ۔ اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل ہوا ہے۔ کیا اللہ شکر گزاروں سے خوب واقف نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لئے کارگر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو اس کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے۔ میں سنجیدہ نہیں ہوتے ، اس لئے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔ بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طور پر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک دنیا پرستی ، دوسرے اکابر جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یا دنیا کی کوئی کامیابی پا کر اس پر مطمئن ہو گئے ہوں ، حتیٰ کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکز خالق و مالک کے سامنے حاضر ہونا ہے ، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے ، اس لئے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میں اپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کا مزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کر لیتے ہیں کہ جن بڑوں کے ساتھ انھوں نے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مددگار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورت حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوں نے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے ، وہ خدا کے محبوب و مقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لئے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنا دیتی ہے ، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی ہو۔ جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کر کے دولت و مقبولیت حاصل کئے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیونکہ حق کا ساتھ دینا ان کے لئے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان کے لئے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرا لیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اور جب تمھارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تو ان سے کہو کہ تم پر سلامتی ہو- تمھارے رب نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے- بے شک تم میں سے جو کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد وہ توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں، اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہو جائے ۵۵-۵۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو آپ کی صداقت پر معجزے طلب کرتے دوسرے لوگ وہ تھے جو آیات قرآنی کو سن کر آپ کے مومن بن گئے۔ یہی امتحان ہر زمانہ میں انسان کے ساتھ موجودہ دنیا میں خدا خود سامنے نہیں آتا، وہ داعی کی زبان سے اپنے دلائل کا اعلان کرتا ہے، وہ اپنی صداقت کو لفظوں کے روپ میں ڈھال کر انسان کے سامنے لاتا ہے۔ اب جس کی فطرت زندہ ہے وہ انھیں دلائل میں خدا کا جلوہ دیکھ لیتا ہے اور اس کا اقرار کر کے اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے برعکس جنہوں نے اپنی فطرت پر مصنوعی پردے ڈال رکھے ہیں وہ الفاظ“ کے روپ میں خدا کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔ خدا کو اس کی استدلالی صورت میں دیکھ نہیں پاتے اس لئے چاہتے ہیں کہ خدا اپنی مشاہداتی صورت میں ان کے مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ یہاں وہی شخص خدا کو پائے گا جو خدا کو حالت غیب میں پالے، جو شخص خدا کو حالتِ شہود میں دیکھنے پر اصرار کرے، اس کا انجام خدا کی اس دنیا میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔

جو لوگ اپنی کجی کی وجہ سے حق سے دور رہتے ہیں وہ حق کو قبول کرنے والوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں تاکہ ان کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر ثابت کر سکیں۔ ان کو اپنے جرائم نظر نہیں آتے، البتہ حق پرستوں سے اگر کبھی کوئی غلطی ہوگئی تو اس کو خوب بڑھا کر بیان کرتے ہیں تا کہ یہ ظاہر ہو کہ جو لوگ اس دعوت کے گرد جمع ہیں وہ قابل اعتبار لوگ نہیں ہیں۔ حالاں کہ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ جن لوگوں نے ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کیا ہے انھوں نے اپنے اس عمل سے ایمان واصلاح کے راستہ پر چلنے کا ثبوت دیا ہے۔ طرح وہ خدا کے قانون کے مطابق اس کے مستحق ہو گئے کہ انھیں اصلاحِ حال کی توفیق ملے اور وہ خدا کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ حق سے دور پڑے ہوئے ہیں وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ایمان واصلاح کا طریقہ اختیار کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی ڈھٹائی کبھی ختم نہیں ہوتی اور ڈھٹائی ہی خدا کی اس دنیا میں کسی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ خدا نشانیوں کی زبان میں بولتا ہے۔ نشانیاں اس شخص کے لئے کار آمد ہوتی ہیں جو ان کو پڑھنا چاہے ۔ اسی طرح ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کا طالب ہو۔ جو شخص ہدایت کی طلب نہ رکھتا ہو اس کے لئے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔

کہو، مجھے اس سے روکےا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ کہو میں تمھاری خواہشوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔ اگر میں ایسا کروں تو میں بے راہ ہو جاؤں گا اور میں راہ پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ کہو میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اس کو جھٹلا دیا ہے۔ وہ چیز میرے پاس نہیں ہے جس کے لئے تم جلدی کر رہے ہو۔ فیصلہ کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ کہو، اگر وہ چیز میرے پاس ہوتی جس کے لئے تم جلدی کر رہے ہو تو میرے اور تمھارے درمیان معاملہ کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ خشکی میں اور سمندر میں ہے۔ اور درخت سے گرنے والا کوئی پتہ نہیں جس کا اس کو علم نہ ہو اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں گرتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز مگر سب ایک کھلی کتاب میں درج ہے ۵۹- ۵۴ خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کر لیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لئے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مددگار اور سفارشی بن جائے، کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصور قائم کر لیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کر کے اپنے چھوٹے پن کی تلافی کر سکے۔ کبھی اپنی سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتا ہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیا جا سکے۔

مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنہوں نے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کر رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لئے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کر کے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لئے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جوان چیزوں سے خالی ہیں وہ ان لئے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روک رکھا۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے یہاں دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں ۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جو واقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہو جائے گا۔

Printed page