رانا
Al-Risala, October 1980, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹے موٹے شر کو نظر انداز کرو اخرج الطبرانی فی الاوسط عن ابی جعفر الخطمی ان جدہ عمیر بن حبیب بن حماشۃ و کان قد ادرک النبی صلی الله علیہ وسلم عند احلامه اوصی ولدہ فقال : یا بنی ایاك ومجالسۃ السفهاء فان مجالستهم داء ومن يحلم عن السفہاء يسر ومن يحبه يندم ومن لا يرضى بالقليل مما يأتي به السفيه يرضى بالكثير۔
واذا اراد احدكم ان يأمر بالمعروف او ينهى عن المنكر فليوطن نفسه على الصبر على الاذى ويئق بالثواب من الله تعالى فانه من وثق بالثواب من الله عز وجل لم يضرہ حضرت عمیر بن حبیب بن حماشتہ جھوں نے اپنی بلوغت کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیا تھا ، اپنے لڑکے کو وصیت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ بیٹے ، نادانوں کی صحبت سے بچو کیونکہ ان کی صحبت میں بیٹھنا بیماری ہے۔ اس کو خوشی ملی جس نے نادان آدمی سے درگزر کیا۔ اور وہ شخص پچھتایا جس نے اس سے دوستی کی۔ اور جو شخص نادان کے چھوٹے شرپر راضی نہ ہو، اس کو نادان کے بڑے شرپر راضی ہونا پڑے گا اور جب تم میں سے کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرنا چاہے تو اپنے آپ کو تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار کرلے اور اللہ سے ثواب ملنے پر بھروسہ کرے کیونکہ جو شخص اللہ سے ثواب ملنے پر بھروسہ کرے گا اس کو تکلیف کا پہنچنا نقصان نہ دے گا۔ ایک نادان شخص اگر کسی کی طرف کنکری پھینکے تو اس کا فوری تاثر یہ ہوتا ہے کہ اس کا بھر پور جواب دیا جائے، حالانکہ نادان کی کنکری کا زیادہ بہتر جواب اس کو برداشت کر لینا ہے۔ "کنکر" کو برداشت کر کے آپ معاملے کو "پتھر" تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نادان کے شر کو برداشت نہ کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ بالآخر اس سے زیادہ بڑے شر کو برداشت کرنے پر اپنے کو راضی کیا جائے۔ ایک فرقہ کا پہلوان دوسرے فرقہ کے زیرانتظام اکھاڑے میں اُس فرقہ کے پہلوان سے کشتی لڑتا ہے۔ کے خاتمہ پر پہلے فرقہ کے پہلوان کو شکایت ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ ایسی حالت میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اس دھاندلی کو برداشت کر لے اور اگلے سال اتنی زیادہ تیاری کے ساتھ مقابلہ کے میدان میں اترے کہ وہ دھاندلی کی حد کو پار کر چکا ہو۔ اس کے برعکس اگر اس نے دھاندلی کو برداشت نہ کیا اور دھاندلی کا بدلہ لینے کے لئے دوسرے فرقہ کے پہلوان کو قتل کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجہ میں ایسا فساد رونما ہو گا جو اس فرقہ کی پوری بستی کو ویران کر دے گا۔ اکھاڑے کی دھاندلی نہ برداشت کرنے کی
قیمت معاشی بربادی، سماجی ذلت اور جانوں کی ہلاکت کی صورت میں دینی پڑے گی۔ اسی طرح مثلاً ایک فرقہ کے لوگ اپنی عبادت گاہ میں سالانہ عبادت ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر دوسرے فرقہ کا گندا جانور چھوت کر عبادت گزاروں کی صف میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تکلیف دہ بات ہے۔ لیکن اگر اس تکلیف کو برداشت کر لیا جائے تو صرف ایک وقتی اور معمولی واقعہ پر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد ایسا فساد برپا ہو گا جو کتنی ہی بستیوں کو خاکستر بنا دے گا اور اتنے زیادہ نقصانات سامنے آئیں گے جن کی تلافی برسہا برس تک بھی نہ ہو سکے۔ ایک عبادت گاہ ہے۔ اس کے پاس سے دوسرے فرقہ کے لوگ باجا بجاتے ہوئے گزرے اور اس سے عبادت کرنے والوں کو تکلیف پہنچی۔ اگر اس کو برداشت کر لیا جائے تو وقتی تکلیف کے بعد صورت حال معمول پر آجائے گی۔ لیکن اگر عبادت کرنے والے اس پر بگڑ جائیں اور جلوس پر پابندی لگانے کی کوشش کریں تو اس کے جواب میں ضد اور عناد ابھرے گا جو بالآخر لڑائی اور فساد کی صورت اختیار کرے گا۔ جن لوگوں نے چند منٹ کے باجے کا سننا برداشت نہیں کیا تھا انھیں آگ اور خون کا منظر دیکھنے کو برداشت کرنا پڑے گا۔
آدمی بہت جلد اس کے لئے تیار ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھلائی کا حکم دے اور اس کو برائی سے روکے۔ کیوں کہ دوسروں کے ساتھ ایسا کرنے میں اس کی انا کے لئے تسکین ہے، اس سے نفس کو یہ لذت ملتی ہے کہ میں حق پر ہوں اور دوسرا میرے مقابلہ میں ناحق پر ہے۔ مگر بھلائی کا وعظ کہنا اور برائی سے روکنا صرف اس شخص کے لئے جائز ہے جو اس کے تقاضے کو اپنانے کے لئے تیار ہو۔ اور اس کا تقاضا تکلیفوں پر صبر کرنا ہے۔ ایک آدمی دوسرے کو ٹوکے گا اور اس کے اوپر تنقید کرے گا تو لازماً ایسا ہوگا کہ وہ شخص برہم ہوگا۔ پر ٹوکنے والے کو برف کی طرح نرم ہو جانا چاہئے۔ اگر وہ خود بھی اس کے جواب میں برہم ہو جائے تو وہ برائی سے ٹوکنے والا نہیں ہے بلکہ وہ ایک برائی کو دوسری برائی کرنے کا مجرم ہے جو خدا کے یہاں کسی حال میں قابل معافی
وعظ و نصیحت کے جواب میں پیش آنے والی تکلیفوں پر برہم ہونے سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس نے وعظ و نصیحت کا کام تمام تر اللہ کی خاطر شروع کیا ہو۔ جس اللہ سے وہ دوسرے کو ڈرا رہا ہے جب وہ خود اس سے ڈر نے والا بن چکا ہے تو وہ ایسا کام کیوں کر سکتا ہے جو صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ سے بے خوف ہو چکے ہوں۔ جو شخص انسانوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر بگڑتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے عمل کا بدلہ انسانوں سے چاہتا تھا۔ اور جب انسانوں کی طرف سے بدلہ نہیں ملتا تو وہ بگڑ گیا۔ مگر جو آدمی اپنے عمل کا بدلہ اللہ سے لینے کا امیدوار ہو وہ اس کی بالکل پروا نہیں کر سکتا کہ لوگ اس کے کام کی تعریف کر رہے ہیں یا تنقید۔