حلفِ الفضول
Al-Risala, October 1980, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ جاہلیت میں عرب کے کچھ لوگوں نے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کو حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کا مقصد لوٹ کھسوٹ اور ظلم کو روکنا تھا۔ اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں کے نام تھے فضل بن فضالہ، فضل بن وداعه اور فضیل بن حارث۔ چنانچہ انہیں کے نام پر اس معاہدہ کا نام حلف الفضول (فضل والوں کا معاہدہ) پڑ گیا۔ یہ معاہدہ ابتدائی بانیوں تک زندہ رہا۔ ان کے مرنے کے بعد صرف ان کا نام رہ گیا۔ عبدالمطلب نے اپنے بعض اشعار میں اس معاہدہ کا ذکر اس طرح کیا ہے (روض الانف از سهیلی) إِنَّ الفُضول تَحالفوا وتَعاهُدُوا ان لا يُقيم ببطن مكة ظالم امر عليه تعاهدوا وتوثقوا فالجار والمعترّ فيهم سالم فضل نامی افراد نے باہم معاہدہ کیا اور عہد باندھا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا انھوں نے اس بات پر باہم عہد باندھا اور اقرار کیا۔ پس مکہ میں پڑوسی اور ضرورت سے آنے والا سب محفوظ ہیں واقعہ فیل کے بعد عرب میں ایک باہمی جنگ ہوئی جس کو حرب الفجار (حرام مہینوں میں کی جانے والی جنگ) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد دوبارہ عرب میں بدامنی بڑھ گئی۔ اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ یمن کے قبیلہ زبید کا ایک شخص کچھ تجارتی سامان لے کر مکہ آیا۔ قریش کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے اس کا سامان خریدا مگر اس کی مطلوبہ قیمت نہیں ادا کی۔ مذکورہ یمنی تاجر نے مکہ والوں سے فریاد کی۔ اس نے کچھ اشعار کہے اور ان کے ذریعہ عام لوگوں تک اپنی شکایت پہنچائی۔ اس واقعہ نے مکہ کے کچھ درد مند لوگوں کو چوکس کر دیا۔ زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بنو ہاشم اور بنو تمیم کے لوگ عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے تاکہ صورت حال کے بارے میں انھوں نے حلف الفضول کی از سرِ نو تجدید کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے باہمی عہد کے ذریعہ اپنے کو پابند کیا کہ وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے اور ظالم سے اس کا حق دلا کر رہیں گے (تعاقدوا بالله ليكونن مع المظلوم حتى يؤدى اليه حقه اس عہد کے بعد وہ لوگ عاص بن وائل کے پاس گئے۔ اس سے مذکورہ شخص کا سامان چھینا اور اس کو اس کے مالک کے حوالے کیا۔
یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں ہوا تھا۔ وہ اگر چہ عربوں کا ایک معاہدہ تھا مگر آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس کی بابت آپ کے یہ الفاظ سیرت کی کتابوں میں نقل کئے گئے ہیں : لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ میں لودعيت به في الاسلام لا جبت تحالفوان يردو ا شریک تھا۔ اگر اسلام کے بعد بھی مجھے اس میں بلایا جاتا الفضول على اهلها وان لا يعن ظالم مظلوما تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ انھوں نے اس بات کا (سیرت ابن کثیر) عہد کیا تھا کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائیں گے اور یہ
کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر غالب نہ آ سکے گا۔
ابن ہشام نے اس میں بعض واقعات نقل کئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلف الفضول کا ذہنی اثر بعد کے عربوں میں بھی باقی تھا۔ ولید بن عقبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے بھتیجے تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ اسی زمانہ میں ولید بن عقبہ اور حضرت حسین بن علی رضہ کے درمیان ایک جائیداد کا جھگڑا ہوا جو کہ ذوالمر وہ نامی گاؤں میں تھی۔ ولید نے طاقت کے زور پر اس پر قبضہ کرنا چاہا۔ حضرت حسین نے فرمایا: احلف بالله لتنصفنّي من حقّی او لآخذنّ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم کو میرے حق کے معاملہ سیفی ثم لا قومنّ فی مسجد رسول اللہ صلی میں انصاف کرنا ہوگا ورنہ میں اپنی تلوار لوں گا اور اللہ علیہ وسلم ثم لأدعون بحلف الفضول مسجد نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اور حلف الفضول کے نام پر پکارونگا۔
عبداللہ بن زبیر جو اس وقت وہاں موجود تھے انھوں نے بھی یہی بات کہی۔ انھوں نے کہا: میں بھی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حسین اس کے لئے پکاریں گے تو میں اپنی تلوار لوں گا اور ان کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا یہاں تک کہ ان کا حق ان کو دیا جائے یا ہم دونوں ایک ساتھ قتل ہو جائیں۔ یہ بات مسور بن مخرمہ نہری کو پہنچی تو انھوں نے بھی اسی اسی طرح یہ بات عبدالرحمن بن عثمان تیمی کو پہنچی تو انھوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ جب ولید بن عقبہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے حضرت حسین کو ان کا حق ادا کر دیا (سیرہ ابن ہشام، جز رضا ول ، ۱۴۷)
اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ بدامنی اور فساد کے مسئلہ کے حل کے لئے اسلام کا مصدقہ طریقہ حلف الفضول کا طریقہ ہے۔ یعنی معاشرے کے ذمہ دار افراد کا خدا کے سامنے عہد باندھ کر اپنے آپ کو اس کا پابند کرنا کہ جب کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص پر ظلم کر رہا ہو تو وہ فوراً دوڑ کر موقع پر پہنچیں گے مظلوم کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ وہ اپنی ساری قوت اور ساری کوشش صرف کر کے ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے اور مظلوم کو اس کا حق ادا کرے۔
آج ہر بستی میں یہ صورت حال ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستاتا ہے، کوئی کسی کو ذلیل کرنے پر تلا ہوا ہے، کوئی کسی کے اوپر جھوٹا مقدمہ قائم کئے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کا مال ہڑپ کر لینا چاہتا ہے۔ غرض جس کو ذرا بھی کوئی طاقت یا موقع ہاتھ آتا ہے تو وہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کمزور کو دبائے اور ظالمانہ طریقہ پر دوسرے کے حقوق کو غصب اس قسم کے واقعات ہر بستی میں اور ہر محلہ میں ہو رہے ہیں۔ مگر تمام لوگ غیر جانب دار بنے رہتے ہیں یعنی کہ ذمہ دار افراد بھی ان معاملاتی میں کوئی دخل نہیں دیتے ۔ کسی کو اگر اصلاح امت یا خدمت قوم کا شوق ہوتا ہے تو وہ جلسوں اور تقریروں کا مشغلہ شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ اصل کام مظلوموں کی عملی دادرسی ہے نہ کہ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا اور اس میں الفاظ کے دریا بہانا۔ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زخمی ہو جائے اور آپ اس کو اسپتال لے جانے کے بجائے ایک شان دار زخمی کانفرنس منعقد کرنے کے لئے دوڑ پڑیں ۔