Al-Risala · October 1980

جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے

Al-Risala, October 1980, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام سے پہلے عرب میں جو شعراء پیدا ہوئے ان کو جاہلی شعراء کہا جاتا ہے۔ ایک جاہلی شاعر اس زمانہ کے ایک عرب قبیلہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :

لا يسألون اخاهم حين يندبهم فى النائبات على ما قال برهانا یعنی ان کے بھائی پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے اور وہ ان کو مدد کے لئے پکارتا ہے تو وہ اس سے اس کی دلیل نہیں پوچھتے۔ بلکہ فوراً اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے عرب میں اس کو شرافت کی خاص پہچان سمجھا جاتا تھا۔ اسی زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص سے کچھ لوگوں کی دشمنی ہوگئی۔ ایک روز ان لوگوں نے اس شخص کو اکیلے میں پالیا۔ وہ لوگ دوڑے کہ اس کو مار ڈالیں۔ وہ آدمی بھاگا۔ بھاگتے ہوئے اس کو ایک بدو کا خیمہ ملا۔ وہ خیمہ میں گھس گیا اور کہا کہ مجھے بچاؤ۔ بدو عرب نے اس کو خیمہ کے اندر بٹھایا اور خود خیمہ کے دروازے پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے دشمن جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا : میں نے اس آدمی کو پناہ دی ہے، اب اگر تم اس کو پکڑنا چاہتے ہو تو پہلے تم کو میری تلوار کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مجھ کو ختم کرنے کے بعد ہی تم اس کو پا سکتے ہو۔

عباسی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص نے بغاوت کی۔ اس کا نام بابک خرمی تھا۔ اس نے موصل کے علاقہ میں اپنی بڑی طاقت بنائی۔ خلیفہ معتصم بالله (۲۲۷۔ ۲۱۸ھ) نے اس کی سرکوبی کے لئے ایک بڑی فوج بھیجی۔ بابک خرمی جب مسلمانوں کے لشکر کے محاصرہ میں آکر تنگ ہوا تو اس نے یہ تدبیر کی کہ اس نے اس وقت کے رومی بادشاہ نوفل بن میکائیل (قیصر روم) کو ایک خفیہ خط بھیجا جو اپنی سلطنت کا بڑا حصہ کھو کر ترکی کے علاقہ میں مقیم تھا۔ بابک نے اس کو لکھا کہ معتصم باللہ نے اس وقت اپنی تمام فوجیں میرے مقابلہ پر روانہ کردی ہیں۔ بغداد اور سامرہ فوجوں سے خالی ہو گئے ہیں۔ تمھارے لئے بہترین موقع ہے کہ تم خلافت بغداد پر حملہ کرکے ان سے اپنی سابق سلطنت چھین لو۔ شاہ روم اپنی ایک لاکھ فوج کے ساتھ روانہ ہوا۔ سب سے پہلے اس نے زبطرہ پر شب خون مارا جو ترکی کی سرحد پر واقع تھا۔ مردوں کو قتل کیا اور بچوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے لے گیا۔

یہ ۲۹ ربیع الثانی ۲۲۳ھ کا واقعہ ہے۔ ایک شخص زبطرہ کے حادثہ کی خبر لے کر معتصم باللہ کے پاس بغداد پہنچا۔ واقعات بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ ایک عرب عورت کو رومیوں نے پکڑا اور اس کو کھینچ کر لے جانے لگے تو اس نے پکارا واعتصماه (ہائے معتصم) معتصم باللہ اس وقت مجلس طرب میں تھا۔

جیسے ہی اس نے یہ خبر سنی لبیک لبیک کہتا ہوا فوراً وہ اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ میں اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک عرب خاتون کی مدد نہ کرلوں۔ وہ اپنے محل پر چڑھا اور اس کے اوپر کھڑا ہو کر پکارا الرحیل الرحیل (کوچ، کوچ) اس کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا اور کوچ کا نقارہ لشکر اور سردارانِ لشکر گروہ در گروہ آکر اس کے ساتھ شریک ہوگئے ۔ وہ اس معاملہ میں اتنا سنجیدہ تھا کہ قاضی اور گواہ بلا کر اس نے وصیت لکھوائی کہ اگر میں جنگ سے واپس نہ آؤں تو میرا اثاثہ کس طرح تقسیم کیا جائے ۔

معتصم باللہ اپنے لشکر کے ساتھ زبطرہ پہنچا تو رومی وہاں سے بھاگ کر اپنے قلعہ بند شہر عموریہ معتصم باللہ آگے بڑھا اور اپنی فوجوں کو لے کر رومی علاقہ (ترکی) میں داخل ہوگیا۔ عموریہ کا محاصرہ کر لیا۔ ۵۵ روز کے محاصرہ کے بعد رومی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ معتصم باللہ نے عموریہ کی تمام شاہی اور فوجی تعمیرات کو ڈھاکر زمین کے برابر کر دیا۔ قیصر روم نوفل نے بھاگ کر قسطنطنیہ میں پناہ لی۔ معتصم باللہ نے عرب خاتون کو رومی قید سے آزاد کرایا اور اس کو اس کے گھر پہنچا دیا۔ کسی معاشرہ میں ”فساد“ نہ ہونے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد مظلوم کی پکار پر دوڑ پڑیں۔ اس کے برعکس جہاں لوگوں کو مظلوم کی پکار سے دلچسپی نہ ہو، وہ صرف اس وقت بیان اور تقریر کا کرشمہ دکھانے کے لئے باہر آئیں جب کہ اس کے اندر اخباری اہمیت (نیوز ویلیو) پیدا ہو چکی ہو، ایسے معاشرہ میں ہر وقت فساد کے اسباب پرورش پاتے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی پھوٹ پڑتے ہیں۔ آج لوگوں میں انفرادیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ایک شخص خواہ کتنا ہی پکارے، کوئی اس کی مدد کے لئے نہیں دوڑتا۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اس کی مدد کے لئے اپنے اندر کوئی تڑپ نہیں پاتے جو بے انصافی کے خاتمہ کے عنوان پر اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ اور بے انصافی کے نام پر تقریریں کرتے ہیں۔ مگر جب ایک واقعی مظلوم ان کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے کہ ان مقرر لیڈروں کو اس کی مدد پر پہنچنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ موجودہ فرقہ وارانہ فساد کا کم از کم ایک جزئی سبب یہ بھی ہے۔ ایک مقام پر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو ستایا۔ اس نے اپنی قوم کے لیڈروں کو مدد کے لئے پکارا۔ مگر کوئی ایک شخص بھی اس کی مدد پر نہ اٹھا۔ اس واقعہ کا اس پر اس قدر شدید ردّ عمل ہوا کہ مسلمانوں سے اس کو نفرت ہوگئی۔ ایک سازش کر کے اپنے مقام پر ایک فرقہ وارانہ فساد کرا دیا۔ اور جب فساد کا ہنگامہ شروع ہوا تو اس کے دوران اس نے ان لوگوں کے گھر جلا ڈالے جن سے اس کو شکایت پیدا ہوگئی تھی۔ کسی معاشرہ کا سب سے بڑا فساد باہمی بے اعتمادی ہے اور انفرادی ظلم پر نہ دوڑنا معاشرہ کے اندر برائی پیدا کرتا ہے۔

Printed page