بھیڑ کے درمیان سناٹا
Al-Risala, February 1980, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
نمازیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر اللہ کے خوف سے جھکنے والے نظر نہیں آتے۔ دین کی خاطر بولنے والے بہت ہیں مگر دین کی خاطر چپ ہو جانے والا کوئی نہیں۔ ملت کو بربادی سے بچانے کے لئے ہر ایک مجاہد بنا ہوا ہے مگر فرد کو بربادی سے بچانے کے لئے کوئی بے قرار نہیں ہوتا۔ اپنی حق پرستی کو جاننے کا ماہر ہر ایک ہے مگر دوسرے کی حق پرستی کو جاننے کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔ چوک پر خدا پرستی کا مظاہرہ کرنے والوں کی ہر طرف بھیڑ لگی ہوئی ہے مگر تنہائیوں میں خدا پرست بننے سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ اسلام کو مکمل نظام ثابت کرنے کے لئے ہر شخص زبان و قلم کا زور صرف کر رہا ہے مگر اسلام کے جس "جزئی نظام" کا تعلق اس کی اپنی ذات اور خاندان سے ہے اس کی اہمیت کو کوئی نہیں جانتا۔ کے دین کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے ہر آدمی بے قرار ہے مگر خدا کے دین کو اپنی زندگی میں غالب کرنے کی فرصت کسی کو جنت کی کنجیوں کے گچھے ہر ایک کے پاس ہیں مگر جہنم کے اندیشے سے تڑپنے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا۔ رونق والے اسلام کی طرف ہر شخص دوڑ رہا ہے مگر اس اسلام سے کسی کو دل چسپی نہیں جو زندگی میں آخرت کا زلزلہ پیدا انسانوں کی بھیڑ میں سناٹے کا یہ عالم شاید آسمان نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔