ایک عجیب بات
Al-Risala, February 1980, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب میں جو یہودی علماء تھے وہ گویا اس زمانہ میں خدائی مذہب کے وارث تھے۔ ان کا مذہبی درجہ تمام لوگوں کے نزدیک مسلم تھا۔ انھوں نے اپنی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے آپ کو رد مگر ان کو معلوم نہ تھا کہ جس کو وہ رد کر رہے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو اللہ نے ان کی خدا پرستی کی جانچ کے لئے وہ آپ کو رد کر کے بظاہر حمایت دین کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ مگر اللہ کے یہاں وہ اس بات کے مجرم بن رہے تھے کہ اپنے آپ کو انھوں نے گروہی تعصبات کے خول میں اتنا زیادہ بند کر لیا کہ سچائی ان کو اپنے اصلی روپ میں نظر نہ آسکی۔ مکہ کے لوگ دین ابراہیمی کے محافظ بنے ہوئے تھے۔ یہودی اپنے کو انبیائے بنی اسرائیل کا وارث کہتے تھے۔ مگر دونوں نے اسی انسان کا انکار کر دیا جو حضرت ابراہیم کے دین کو اور بنی اسرائیل کو دی جانے والی آسمانی کتابوں کو اس کی اصلی صورت میں ان کے سامنے پیش کر رہا تھا۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں جس طرح ہدایت کے مواقع رکھے گئے ہیں اسی طرح گمراہی کے راستے بھی کھلے ہوئے یہاں جو شخص حق کی آواز کو رد کرنا چاہے اس کو بآسانی ایسے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں جن کو بول کر وہ اپنے آپ کو جھوٹے یقین میں مبتلا کرلے۔ یہاں دین کی سچی دعوت کو نظر انداز کر کے بھی آدمی ایسے درودیوار پالیتا ہے جس کے سایہ میں وہ پناہ لے سکے۔ یہاں خدا کی پکار کی طرف سے اپنے کانوں کو بند کر کے بھی ایسی چٹانیں مل جاتی ہیں جو کسی کو یہ تسکین دے سکیں کہ اس نے اپنے لئے ایک مضبوط سہارا دریافت کر لیا۔ مگر جب پردہ ہٹے گا تو یہ چیزیں اتنی بے معنی ثابت ہوں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا ۔