قدرت کا سبق
Al-Risala, October 1980, pp. 19–2
By Maulana Wahiduddin Khan
جانوروں کے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں ۔ غذا اور دفاع ۔ جانوروں میں ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور ہر جانور کو مستقل طور پر اپنے بچاؤ کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ جانوروں میں اپنے بچاؤ کے جو طریقے رائج ہیں وہ انسان کے لئے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ حیوانات کا طریقہ دراصل قدرت کا طریقہ ہے۔ حیوانات جو کچھ کرنے ہیں اپنی جبلت کے تحت کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر، وہ براہ راست قدرت کے سکھائے ہوئے ہیں۔ جانور گویا قدرت کے مدرسہ میں تربیت پائے ہوئے طالب علم ہیں۔ ان کا عمل قدرت کا بتایا ہوا سبق ہے۔ ان کے طریق کار کو پیدا کرنے والے کی تصدیق حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں ۔
ہاتھی اور شیر جنگل کے دو سب سے بڑے جانور ہیں۔ اگر دونوں میں ٹکراؤ ہو جائے تو یہ ٹکراؤ دونوں کے لئے مہلک ہوتا ہے، ہاتھی اور شیر دونوں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لئے وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے کتر اک نکل جائیں ۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ دونوں یہ نوبت آنے دیں کہ ان کے درمیان براہ راست جنگ شروع ہو جائے ۔ دو ایسے حریفوں کی جنگ جن میں دونوں میں سے کوئی دوسرے کو فنا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ہمیشہ دو طرفہ تباہی پر ختم ہوتی ہے۔ اور شیر اور ہاتھی اپنی زندگی میں اس کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی معاملہ سانڈ کا ہے۔ دو سانڈ ( بھینسے یا بیل) اگر ایک دوسرے سے لڑ جائیں تو اس کا بہت کم امکان ہے کہ ایک دوسرے کو ختم کر دے ۔ سانڈرا ایسے بے فائدہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے حدود بانٹ لیتے ہیں۔ دو سانڈ ایک علاقہ میں پہنچ جائیں تو چلتے چلتے جب کسی مقام پر دونوں کی مڈبھیڑ ہوتی ہے تو دونوں ایک دوسرے کو سینگ مار کر علامتی طور پر اظہار کرتے ہیں کہ یہاں سے ایک طرف تمھارا علاقہ ہے اور یہاں سے دوسری طرف میرا علاقہ ۔ اس علامتی ٹکراؤ کے بعد دونوں اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس کے بعد دونوں مکمل طور پر اس سرحدی تقسیم کی پابندی کرتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دو سانڈ آپس میں لڑ جائیں ۔ آپ نیلی گھوڑی یا بیر بہوٹی کو چھوئیں تو وہ پاؤں سمیٹ کر بے حس و حرکت زمین پر پڑ جائے گی۔ سے جانوروں کے لئے اپنے دشمن سے بچنے کا یہ آسان طریقہ ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ دشمن سر پر آ گیا ہے اور اس سے بھاگنا ممکن نہیں ہے تو وہ اپنے کو بے حس و حرکت بنا لیتے ہیں۔ ان کا دشمن ان کو دیکھتا ہے مگر وہ مردہ سمجھ کر ان کو چھوڑ وہ اپنے کو غیر موجود ظاہر کر کے اپنے کو دشمن سے بچا لیتے ہیں اور جب دشمن ہٹ جاتا ہے، تو بھاگ جاتے ہیں۔ جو جانور بلوں کے اندر رہتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ان کا دشمن ان کی بل کے اندر گھس جائے اور دشمن سے وہ اس طرح گھر جائیں کہ بل کے محدود رقبہ کی وجہ سے وہ بھاگ نہ سکیں۔ چنانچہ بل والے جانور ہمیشہ اپنی بل میں ایک عقبی گزرگاہ رکھتے ہیں جو ہنگامی حالات میں کام آسکے ۔ جب بلی کوئی جانور دیکھتا ہے کہ سامنے کے سوراخ سے اس کا دشمن اس کے گھر میں گھس آیا ہے، وہ پیچھے کے سوراخ سے نکل کر باہر بھاگ جاتا ہے اور
دشمن کی زد سے اپنے کو بچا لیتا ہے۔
ایک بہت چھوٹا کیڑا ہے، وہ اپنے حریف کیڑے کو ختم کرنے کے لئے بہت دلچسپ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے حریف کیڑے کے جسم میں اپنا ڈنک چھپاتا ہے جو انجکشن کی سوئی کی مانند ہوتا ہے یعنی نکلیلا اور اندر سے سوراخ وہ نہایت پھرتی سے اپنے بے حد چھوٹے انڈے کو اس کے جسم میں داخل کر دیتا ہے۔ یہ انڈا جو در اصل زندہ بچے کی ابتدائی صورت ہوتی ہے، اپنے میزبان جانور کے جسم کا اندرونی حصہ کھانا ر ہتا ہے، یہاں تک کہ وہ لا روا (چھوٹے بچہ) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب یہ لا روا باہر نکلنے کے لئے زور کرتا ہے۔ میزبان جانور کے لئے یہ سخت ترین لمحہ ہوتا ہے مگر وہ ایک ایسے دشمن کے مقابلہ میں اپنے کو بے بس پاتا ہے جو خود اس کے پیٹ میں گھسا ہوا ہو۔ طرح لاروا اندر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان جانور کے جسم کو پھاڑ کر باہر آ جاتا ہے۔ یہ عمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کے بعد میزبان جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
قدرت کے تربیت یافتہ حیوانات میں بچاؤ کے جو طریقے رائج ہیں وہی انسان کے لئے بھی پوری طرح کار آمد انسان کے لئے بھی اپنے حریف کے مقابلہ میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ وہ براہ راست تصادم سے بچے اور کتر اکر نکلنے کی کوشش کرے ۔ حریف کو کبھی یہ محسوس کرنے کا موقع نہ دیا جائے کہ آپ اس کے دائرہ میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اگر حریف کا سامنا ہو جائے تو اس کے مقابلہ میں اپنے کو غیر فعال ظاہر کر کے اپنے کو اس کی زد سے ہٹایا جائے یا اپنے دائرہ میں سمٹ کر اس کو یہ احساس دلایا جائے کہ میری وجہ سے تمھارا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں۔ اسی کے ساتھ ایسی تدبیروں کا اہتمام کیا جائے جن کے ذریعہ ہنگامی حالات میں دشمن کا وار خالی دبا جا سکے ۔ اور اگر حریف کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہو تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ حریف کے اپنے جسم میں اس کا ایک عد و داخل کر دیا جائے جس کی غذا حریف کا جسم ہو۔ وہ اس کو خاموشی کے ساتھ کھا تا ر ہے، یہاں تک کہ اندر ہی اندر دشمن کا خاتمہ کر دے۔ جانوروں نے اپنے بچاؤ کے یہ اصول خود نہیں بنائے، وہ ان کو خدا نے سکھائے ہیں۔ ان طریقوں کو خدا وندی تصدیق حاصل ہے۔ پھر یہ کہ جانوروں کی دنیا میں اس قسم کی دفاعی تدبیر کسی بزدلی کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ خالص حقیقت پسندی کی بنا پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنی "خود تعمیری " کے عمل کو جاری رکھا کوئی جانو ر چارہ کی تلاش میں جا رہا ہے۔ کوئی اپنے جوڑے سے ملنے کے لئے سفر کر رہا ہے ۔ کوئی اپنا گھر بنانے کی جد جہد میں مصروف ہے۔ کسی کو اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لئے موقع در کار ہے۔ ایسی حالت میں اس کی اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے ۔ اب اگر جانور اپنے حریف سے لڑائی شروع کر دے تو اس کا اپنی تعمیر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جانور حریف کے براہ راست تصادم سے گریز کرتا ہے، لایا کہ وہ مجبوراً اس میں گرفتار ہو جائے۔ وہ اپنے تعمیری کام کو جاری رکھنے کی خاطر تصادم سے بچ کر نکل جاتا ہے ۔ یہ طریقہ جو حیوانات جبلت کے تحت اختیار کرتے ہیں وہی انسان کو شعوری طور پر انجام دینا ہے۔