فسادات کا مسئلہ
Al-Risala, October 1980, pp. 21–42
By Maulana Wahiduddin Khan
فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہمارے قائدین کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ پچھلے ۳۵ سال میں ہماری قیادت نے جس واحد مسئلہ پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے وہ یہی مسئلہ ہے۔ ہر بار جب کوئی فساد ہوتا ہے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تقریریں کی جاتی ہیں۔ بیانات جاری ہوتے ہیں۔ ریلیف فنڈ قائم غرض سرگرمیوں کا ایک طوفان امڈ پڑتا ہے۔ ان فسادات کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ کرنا ہے وہ اگر یہی ہو جواب تک ہوتا رہا ہے تو یہ کام اس ملک میں اتنے بڑے پیمانہ پر ہو چکا ہے کہ اب تک فسادات کا خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر عملی ضرورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ موجودہ کوششوں کی یہ ناکامی آخری طور پر ثابت کر رہی ہے کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ اگر وہ اس کا حل ہوتا تو ۳۵ سال کی مدت کافی تھی کہ اس کا کوئی مفید مطلب نتیجہ برآمد ہو۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس معاملہ پر از سر نو غور کریں اور اپنے طریق عمل کو دوبارہ نئے ڈھنگ سے مرتب کریں۔ فسادات کا پس منظر ہمارے ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں، عام طور پر ان کے آغاز میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے واقعہ پر مبیت ناک فساد کا پیدا ہو جانا اتفاقاً نہیں ہوتا۔ اس کے تاریخی اور نفسیاتی اسباب ہیں۔ اس کو مانیں یا نہ مانیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ پڑوسی قوم میں ہمارے خلاف مستقل طور پر ایک حریفانہ جذبہ پیدا ہو گیا اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب تقسیم کی سیاست ہے۔ ملک کی تقسیم بجائے خود برادران وطن کو اشتعال کرنے کے لئے کافی تھی۔ مزید یہ کہ تقسیم اس ڈھنگ سے ہوئی کہ تقسیم ہو کر بھی بہت سے نازک مسائل غیر حل شدہ حالت میں باقی رہ گئے۔ اس طرح کے مختلف تاریخی اسباب ہیں جنھوں نے برادران وطن کو مسلسل طور پر ہمارے خلاف مشتعل کر رکھا ہے۔ گویا ایک لاوا ہے جو دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کوئی موقع پاتے ہی اچانک پھٹ پڑتا ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ کوئی شخص معقول بنیادوں پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ تقسیم کی تحریک خود بھی فرق ثانی کے کسی عمل کار عمل تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس دعوے کا عملی فائدہ کیا ہے ؟ اس قسم کے دعوے کی اہمیت اس وقت ہوتی ہے جب کہ کسی مسئلہ کا صرف منطقی تجزیہ کرنا مقصود ہو، آدمی کے حقیقی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ مگر جب کوئی معاملہ فوری زندگی کا معاملہ بن جائے تو ہر عقل مند آدمی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ منطقی سلسلہ کو توڑ کر عملی پہلو کو سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے عملی اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ لے سکے۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بحث کو اگر لمبا کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم اپنے اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکیں گے اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہے گا۔ چھری اگر خربوزہ کی سطح تک پہنچ چکی ہو تو اس وقت منطق کی عدالت میں چھری کو ملزم ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے وقت میں اپنے کو فریق ثانی کی زد سے ہٹانے کا سوال ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کی دنیا میں فریق ثانی کو ذمہ دار ثابت کرنے کا۔ یہ ایک معلوم اور مسلمہ حقیقت ہے کہ کیجی منطقی تقاضے کے مقابلہ میں عملی پہلو زیادہ اہم ہوتا ہے، اور زیر بحث معاملہ میں صورت حال بلا شبہ یہی ہے۔
شہر کی ایک عمارت میں ایک مسلمان نے نیچے کا حصہ کرایہ پر لیا۔ کچھ دن کے بعد اس نے محسوس کیا کہ چھت ٹپک رہی اوپر کے حصہ میں جو صاحب رہتے تھے ۔ ان کا غسل خانہ ٹپکنے لگا تھا۔ مستقل پانی کا ٹپکنا ایک مصیبت تھا۔ مزید یہ کہ یہ گندا پانی تھا، کیونکہ غسل خانہ اور بیت الخلاء دونوں ایک ساتھ ملے ہوئے تھے۔ نیچے والے نے اوپر والے سے کہا تو انھوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد اس نے محلہ والوں سے کہا اور اپنی مصیبت ان کو دکھائی۔ مگر انھوں نے بھی کوئی درد مندی ظاہر نہ کی ۔ ایک شخص نے کہا ” بھائی ، ہمارے شہر کا رواج تو یہ ہے کہ جس کے سر پر ٹپکے وہ بنوائے۔ کرایہ دار نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہیں ۔ اصول یہ ہونا چاہئے کہ ” جو ٹپکائے وہ بنوائے“، مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے دلائل بے زور ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ مسلماں ہی تھے۔ اس نے قرآن وحدیث کے احکام سنائے مگر قرآن وحدیث کے الفاظ بھی ان کے دل کو پگھلانے کے لئے کافی ثابت نہ ہوئے۔ کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ تم ان کے خلاف نوٹس دو اور مقدمہ قائم کرو۔ مگر اس نے غور کیا تو مقدمہ کے اخراجات اور اس کی مدت اتنی زیادہ تھی کہ عملاً اس کے لئے اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ بالآخر اس نے اپنے پاس سے خرچ کر کے خود اس کو بنوا دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑتا تاکہ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔ وہ جانتا ہے کہ موجودہ دنیا میں دلیل سے زیادہ کمزور کوئی چیز نہیں۔ دلیل سے خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کسی کو ملزم ثابت کر دیا جائے عملاً اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ آج کی دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو دلیل کے آگے اپنے کو جھکا دے۔ اس سلسلہ میں مسلمان اور غیر مسلمان حتی کہ دین دار اور بے دین کا بھی کوئی فرق نہیں ۔ یہ بات اپنے ذاتی معاملہ میں ہر شخص جانتا ہے۔ اس لئے جب کوئی ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر ” پانی اپنے سر پرٹپکتا ہے “ تو وہ فوراً جان لیتا ہے کہ دلیل اور بحث سے کوئی فائدہ نہیں ۔ وہ اپنے آپ پر ذمہ داری لیتے ہوئے فوراً یہ کرتا ہے کہ معاملہ کو خود درست کر لیتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ زندگی کا یہی سادہ اصول ملت کے معاملہ میں کوئی شخص اپنانے کے لئے تیار نہیں۔ ملت کا سوال آتے ہی ہر شخص اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ وہ فریق ثانی کو ملزم ثابت کرے۔ یہ سنگین واقعہ بھی لوگوں کے جوش میں کوئی کمی نہ کر سکاکہ ۳۵ سالہ کوشش کے باوجود ابھی تک اس طریق عمل کا کوئی فائدہ نہیں نکلا۔
یہ صورت حال اتفاقاً نہیں۔ اس کے گہرے اسباب ہیں۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا سب سے آسان کام ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اس کے مقابلہ میں اتناہی مشکل ہے۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا ہو تو الفاظ بول کر ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے۔ مگر جب آدمی خود ذمہ داری قبول کرے تو پھر عمل اور جد وجہد کے طویل تقاضے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ ہے کہ ہمارے قائدین صرف الفاظ بول کر قیادت کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں ۔ وہ کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ فی الواقع کرنے کی تڑپ رکھتے تو ان کا انداز بالکل دوسرا ہوتا۔
زندگی کا راز یہ ہے کہ حالات کے اندر موجود عوامل کو استعمال کیا جائے۔ اور حالات کے غیر معمولی بگاڑ کے باوجود یہاں ایسے عوامل موجود ہیں جن کو ہم اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دو فریقوں کے درمیان
خواہ کتنی ہی تلخ یادیں ہوں، زندگی کے روزمرہ کے مسائل ان پر غالب آجاتے ہیں۔ برادرانِ وطن کے معاملہ میں اس عمل کی اور بھی زیادہ اہمیت ہے کیونکہ ”زر“ ان کے نزدیک معبود کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کا ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کو پانا چاہتا ہے وہ دولت ہے۔ ان کی خوش قسمتی سے تلک میں دولت حاصل کرنے کے تمام بڑے ذرائع پر ان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے حتیٰ کہ خود مسلمان ان کی دولت کی فراہی کے عمل میں ایک معادن پرزہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اس ملک میں فساد کے خلاف سب سے بڑا روک ہے۔ کیونکہ فساد کاروبار کے سارے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ پھر جن لوگوں کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہو وہ اپنے ملے ہوئے مقصد کو خود اپنے ہاتھوں ویران کرنا کیوں پسند کریں گے۔
مراد آباد کی مثال لیجئے جہاں اگست ۱۹۸۰ میں بھیانک فساد ہوا۔ مراد آباد ایک صنعتی شہر ہے، یہاں سے سالانہ تقریباً ۶۰ کروڑ روپے کا سامان تیار ہو کر باہر جاتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سامان بنانے کا کام سب کا سب مسلمان کرتے ہیں۔ مگر کاروبار عملاً دوسرے فرقہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خام مال کی سپلائی اور تیار شدہ سامان کی فروخت دونوں کام کا تقریباً ۹۰ فی صد حصہ دوسرے فرقہ کے قبضہ میں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کارخانوں میں دھوئیں اور گندگی کے درمیان ساری مشقت مسلمان اٹھاتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی محنت کے بل پر کروڑوں روپے کما رہا ہے۔ ایک زمر پرست قوم کو اس کا مطلوب جب اتنے شان دار طریقہ پر مل رہا ہو تو وہ آخر فساد کیوں چاہے گی۔ وہ بازار کو ویران کر کے اپنے ملتے ہوئے فائدے کو بھنگ کس لئے کرے گی۔ اس کے باوجود اس ملک میں فساد ہوتا ہے۔ حتی کہ ۱۸۷۹ء سے لے کر اب تک تقریباً ہزار فسادات ہو چکے اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ ہر آدمی دو آدمی ہوتا ہے۔ ایک غصہ دلانے سے پہلے، دوسرا غصہ دلانے کے بعد ۔ بظاہر سیدھا سادا آدمی بھی غصہ میں آنے کے بعد بھیٹریا بن جاتا ہے۔ یہ فرق ہر آدمی میں پایا جاتا ہے۔ کسی اشتعال انگیز واقعہ کے بعد اس شخص یا گروہ کا ”دوسرا انسان‘‘ جاگ اٹھتے جس کے اندر فریق ثانی کے لئے پہلے سے نفرت کے اسباب چھپے ہوئے تھے اور وہ اس کے مقابلہ میں طاقتور بھی ہو تو اس کے بعد وہ جو کچھ کرے گا وہ وہی ہوگا جس کا نمونہ ہم پچھلے ۳۵ سال سے دیکھ رہے ہیں۔
زر پرستی آدمی کے اندر انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ اس لئے ایک شخص کی طرف سے کسی کے خلاف ابتدائی اشتعال کا واقعہ پیش آنے کے بعد بھی شاید ایسا نہ ہوتا کہ ایک فرقہ میں عمومی سطح پر اشتعال و انتقام کی فضا پیدا ہو جائے ۔ مگر یہاں بقیہ کی سیاسی لیڈر پوری کر دیتے ہیں۔ ہر بار جب الیکشن ہوتا ہے تو فطری طور پر کوئی جیتتا ہے اور کوئی ہارتا اب جو ہارنے والے لیڈر ہیں وہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو اس کو ہوا دے کر عمومی فساد کرا دیں۔ ایک طرف جیتی ہوئی حکمراں پارٹی کو بدنام کیا جائے اور دوسری طرف ان ووٹرو کو سزا دی جائے جنھوں نے ان کو ووٹ اور بدقسمتی سے یہ ” ووٹ نہ دینے والے‘‘ اکثر مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اگر ہر فساد نہیں تو اکثر فساد کے پیچھے یہی الیکشنی سیاست کار فرما ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لوگ اپنی مرضی کے خلاف فیصلہ قبول کرنے پر راضی نہ ہوں،
وہاں الیکشن مسئلہ کو ختم نہیں کرتا بلکہ مسئلہ کوئی صورت میں زندہ رکھنے کا سبب بن جاتا ہے۔ فساد کیسے ہوتا ہے کوئی فساد کس طرح شروع ہوتا ہے اور وہ کس طرح بڑھتا ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے علی گڑھ اور مراد آباد کے فساد کی مثال کیجئے ۔ علی گڑھ میں ہر سال دنگل ہوتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان دونوں حصہ لیتے ہیں۔ کے دنگل میں مسلم پہلوان کو یہ شکایت ہوئی کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ اس کی شکایت کا خاص نشانہ سریش بھورے تھا جس سے اس کی پہلے سے بھی رقابت چلی آہی تھی۔ دنگل کی شکایت کے بعد مسلمان پہلوان نے طے کر لیا کہ سریش بھورے سے انتقام لینا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی اسی فکر میں رہے۔ یہاں تک کہ ۳ اکتوبر ۱۹۷۸ء کی شام کو انصار احمد اور اس کے ساتھی سریش بھورے کو اکیلا پاگئے ۔ انھوں نے اس کے اوپر چھرے سے حملہ کیا۔ سریش بھورے کو سخت زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا ۔ جہاں اس نے اپنے قاتلوں کے بارے میں نام زد بیان درج کرایا۔ وہ زخم سے جانبنر نہ ہوسکا اور ۶ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو مرگیا۔
سریش بھورے کے مرنا شہر کے ہارے ہوئے فرقہ پرست لیڈروں کو سنہری موقع ملنا تھا۔ انھوں نے سریش بھورے کا جلوس نکالا اور نعرہ لگایا کہ "خون کا بدلہ خون" انھوں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے پورے شہر کی فضا خراب یہاں تک کہ وہ فساد شروع ہوا جس نے علی گڑھ کو خاکستر بنا دیا۔
اب مراد آباد کو لیجئے ۔ ۱۹۸۰ء کے آغاز میں یوپی اسمبلی کا جو الیکشن ہوا اس میں کانگریس آئی کے امیدوار حافظ محمد صدیق بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ جن سنگھ (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے امیدوار ڈاکٹر ہنس راج چو ٹیرہ کو اتنے کم ووٹ ملے کہ ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ حافظ محمد صدیق کو نہ صرف مسلمانوں کے ووٹ ملے بلکہ ہندوؤں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ان کو ووٹ دیا۔ ہارے ہوئے سیاست دانوں کو اس واقعہ کا شدید غم تھا۔ وہ کسی موقع کی تلاش میں ان کی خوش قسمتی سے جلدی ہی ان کو یہ موقع ہاتھ آگیا۔ ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ء کو سرائے کشوال میں مہتروں کی ایک بارات جارہی تھی۔ یہ شام کا وقت تھا اور مغرب کی اذان ہونے والی تھی ۔ بارات کے ساتھ ان کے رواج کے مطابق ناچ اور باجا بھی تھا۔ اس وقت چند مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بارات کو روکا اور کہا کہ مسجد کے پاس شور بند کرو اور بارات کو دوسرے راستہ سے لے جاؤ۔ بارات والے اس کے لئے راضی نہ ہوئے۔ اس پر تکرار ہوگئی۔ یہاں تک کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی۔ اس لڑائی میں مزید مسلمان شریک ہو گئے ۔ وہ مہتروں کا پیچیا کرتے ہوئے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر مہتر بستی ٹپ گئے، وہاں انھوں نے مہتروں کو مارا اور مکانات کو آگ لگائی۔
اب ڈاکٹر ہنس راج چو ٹیرہ اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کی باری تھی ۔ انھوں نے مراد آباد اور اطراف مراد آباد میں اشتعال انگیز تقریریں کرکے فضا کو انتہائی تکد کر دیا۔ اس کے بعد ۱۳ اگست ۱۹۸۰ء عید کا دن تھا۔ اس دن عید گاہ میں سور کے داخلہ سے مسلمان مشتعل ہو گئے اور انھوں نے پولیس پر پتھر مارے۔ فضا تیار تھی۔ فورا بعد مکمل پیمانہ پر فساد شروع ہو گیا ۔ اور مراد آباد کی مسلم آبادی خاک وخون کی نذر ہو کر رہ گئی ۔