Al-Risala · September 1980

یہ اسلام نہیں

Al-Risala, September 1980, pp. 32–42

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مقام کے کچھ مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی۔ وہاں کچھ دن پہلے ایک چھوٹا سا فرقہ وارانہ فساد ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے ذوق کے مطابق ”صبر“ کا طریقہ اختیار کرنے کی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں تو مسلمانوں کی طرف سے کوئی اشتعال کا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ دوسری قوم کے لوگ خواہ مخواه هم سے لڑگئے ۔ میں نے کہا کہ لڑائی کیسے پیش آئی، انھوں نے قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں ہماری ایک مسجد ہے۔ مسجد سے قریب ہی غیر مسلم بھائیوں کی عبادت گاہ ہے۔ نے مسجد میں اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر لگایا تو انھوں نے بھی اپنے عبادتی مواقع پر گھنٹی بجانی شروع کر دی جس کی آواز مسجد تک آتی تھی۔ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ ان سے کہا کہ آپ لوگ ہماری نماز کے اوقات میں گھنٹی نہ بجائیں۔ وہ نہیں مانے ۔ جب کئی باران سے کہا گیا تو وہ بگڑ گئے ۔ اس کے بعد جھگڑا ہو گیا۔

میں نے کہا کہ یہ کون سا شرعی مسئلہ ہے کہ نماز کے اوقات میں کوئی غیر قوم کا آدمی اپنی عبادت گاہ میں گھنٹی نہ یہ نہ کہیں قرآن میں لکھا ہوا ہے اور نہ حدیث میں ہے اور نہ ہمارے فقہا میں سے کسی کا یہ مسلک ہے۔ اسلامی حکومت کے پورے زمانہ میں کبھی کسی مسلم حکمران کی طرف سے یہ ہدایت جاری نہیں کی گئی کہ نماز کے اوقات میں دوسرا قوموں کے عبادت خانہ میں ناقوس اور گھنٹیاں نہ بجائی جائیں ۔ ایسی حالت میں آپ کیوں اس پر برہم ہوتے ہیں۔ اگر گھنٹی بجاتا ہے تو بجانے دیجئے۔ اس سے نہ نماز میں کوئی خلل واقع ہوتا اور نہ شریعت نے ہمیں ایسے کسی حکم کا مکلف تاہم مذکورہ بزرگ نے میری بات نہیں مانی، ان کے پاس اگر چہ میری دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا مگر وہ اپنی بات کو پر جوش انداز میں بدستور دہراتے رہے ۔

اس ملک کے اکثر فسادات اسی قسم کی باتوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ جب شریعت نے ہمیں ایسے کسی حکم کا پابند نہیں کیا ہے تو ہم کیوں چاہتے ہیں کہ ہماری مسجد کے سامنے کوئی باجے کا جلوس نہ گزرے۔ اس کے پاس گھنٹی نہ بجائے۔ اس کی وجہ تمام تر قومی ہے نہ کہ دینی مسلمانوں نے پچھلے سوسال کی سیاست کے نتیجہ میں انھیں چیزوں کو اپنی قومی عظمت کا نشان بنا لیا ہے۔ وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ سمجھتے ہیں یہ مسجد کے پاس ایسا کوئی واقعہ ہو تو وہ اس میں اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ اور اگر وہ اس کو رد کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی قوم کی عزت کو اونچا کیا۔

یہ سراسر جاہلانہ طریقہ ہے۔ یہ طریقہ ہم کو خدا اور رسول نے نہیں بتایا۔ بلاشبہ یہ ہم کو نفس نے سکھایا ہے۔ نفس چاہتا ہے کہ ہم اپنے مدعو کے خلاف ایسے ہنگامے کرتے رہیں جس سے ہمارے اور دوسروں کے درمیان قومی نفرت تو خوب بڑھے ، مگر داعی اور مدعو کے رشتے کبھی قائم نہ ہوں۔ کیونکہ ایسے ماحول میں جہاں داعی اور مدعو کے درمیان شبہ اور نفرت کی فضا قائم ہو وہاں کبھی اسلام کی دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کی قومی معرکہ آرائی پر ہم کو اللہ کے یہاں انعام تو کیا ملے گا، البتہ شدید اندیشہ ہے کہ ہم اپنی قومی نادانیوں کو اسلام کا نام دینے کی وجہ سے کہیں خدا کی پکڑ میں نہ جائیں ۔

اور تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے۔ پھر ہم نے ان کو پکڑ سخت میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑائیں، پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے۔ بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھی تو ہم نے اچانک ان کو پکڑ لیا۔ اس وقت وہ نا امید ہو کر رہ گئے۔ پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور ساری تعریف اللہ کے لئے ہے، تمام جہانوں کا رب ۴۵۔ آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً انہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے، زندگی کے حوادث محض حوادث نہیں ہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لئے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کر لیتا ہے کہ یہ تو آثار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے آثار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتا ہے تو حق و باطل اور صحیح و غلط کے بارے میں اس کے دل کی حسّاسیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ قسادت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کر دے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لئے خدا کا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے ۔ اس کی عزت و مقبولیت میں اضافہ کیا جائے۔ یہ در حقیقت ایک سزا ہے جو اس لئے ہوتی ہے تاکہ اس کا اندر اور زیادہ باہر آ جائے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور ٹرے ھالے، وہ حق کو نظر انداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہو جائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لئے پوری طرح ثابت ہو جائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کر کے آخرت کی عدالت میں حاضر کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لئے جہنم کا فیصلہ ہو۔

یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں ہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لئے ہے۔ اس لئے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کر دیتا ہے تو وہ دراصل خدا کی نافرمانی کرتا ہے۔ وہ خدا کی عظمتوں کی دنیا میں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایسا ظلم کرتا ہے جس سے بُرا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتا ہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لئے درست نہیں۔

کہو، یہ بتاؤ کہ اللہ اگر چھین لے تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو اس کو واپس کو واپس لائے۔ دیکھو ہم کیوں کر طرح طرح سے نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر بھی وہ اعراض کہو، یہ بتاؤ اگر اللہ کا عذاب تمھارے اوپر اچانک یا علانیہ آجائے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک اور رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والے یا ڈرانے والے کی حیثیت سے بھیجتے ہیں۔ پھر جو ایمان لایا اور اپنی اصلاح کی توان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا توان کو عذاب پکڑے گا اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ کہو، میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کو جانتا ہوں اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ غور نہیں کرتے ۵۰ - ۴۶ آدمى کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات کو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہا ہے کہ اس کو نااہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بہرا اور بے عقل بنا دیا جائے کیونکہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لئے بہرے ہو جائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لئے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہو جائے۔ چھینے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔

آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھینٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لئے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیکٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لا کر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔

اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لئے طلسمات و عجائبَات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لئے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔

Printed page