اختلاف کا نقصان
Al-Risala, December 1980, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
پندرھویں صدی میں عرب تاجر جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں کی تجارت پر چھائے ہوئے تھے۔ اس زمانہ میں ہندوستان اور بیرونی دنیا کے درمیان تمام بری اور بحری راستوں پر مسلمانوں کا قبضہ تھا، وہ ان کے ذریعہ نہایت کامیاب تجارت کر رہے تھے۔ مگر سولھویں صدی کے آغاز سے تاریخ بدلنا شروع ہوئی، واسکوڈی گاما(م ۱۴ - ۱۵۳۰) نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان بحری راستہ دریافت کیا۔ اس کے بعد پرتگالی تاجروں کے قافلے اس علاقہ میں داخل ہونے لگے، دھیرے دھیرے انھوں نے ہندوستان کی بیشتر ساحلی تجارت پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کو اپنی ہوشیاری سے اس علاقہ کی تجارت سے بے دخل کر دیا۔ اس زمانہ میں ہندوستان کے گرم مسالے بیرونی ملکوں میں بہت اچھی قیمت پر فروخت ہوتے تھے، پرتگالی جہاز یہاں سے سیاہ مرچ، دار چینی، لونگ، جاوتری وغیرہ قیمتی پیدا وار اپنے جہازوں میں بھر بھر کر لے جانے لگے اور مسلمانوں کے پاس صرف ڈلی اور ناریل کی معمولی تجارت رہ گئی۔ مسلمان صرف انھیں چیزوں کی تجارت کر سکتے تھے جن کو پرتگالی لائق اعتنا نہ سمجھتے تھے۔ تمام اہم اور فائدہ بخش چیزوں کی تجارت پرتگالیوں نے اپنے قبضہ میں لے رکھی تھی، پرتگالیوں نے اپنی ہوشیاری سے ساحلی راجاؤں کو اپنا مطیع بنا کر بندر گاہوں پر قبضہ کر لیا، اسی طرح ملاکا، اٹی، دناسری، وغیرہ خشکی کے راستے انھوں نے عربوں کے لئے بند کر دئے۔ حتیٰ کہ ان کے امان اور ان کے اجازت نامہ کے بغیر کوئی اس علاقہ میں بحری سفر نہیں کر سکتا تھا۔ مسلمانوں کی معمولی تجارت بھی پرتگالی جہازوں کے ذریعہ ہوتی تھی۔ مسلمانوں کی تجارتی کامیابیوں کے جلو میں اس علاقہ میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا تھا، خصوصاً ساحلی علاقے بہت بڑے پیمانہ پر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا مرکز بن گئے تھے۔ عین اس وقت اس علاقہ کی سیاست اور اقتصادیات پر پرتگالیوں کا قبضہ ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اسلامی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔ اسلام کی اشاعت کا کام رک گیا۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔
مسلمانوں کے اوپر پرتگالیوں کی فتح کا راز کیا تھا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں نا اتفاقی پھیلی ہوئی تھی۔ جب کہ پرتگالی حد درجہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ کام کرتے تھے، سیاح زین الدین نے لکھا ہے : ’’پرتگالی بڑے ہوشیار، فریبی اور اپنی مصلحت کے بڑے ماہر ہیں۔ ضرورت کے وقت اپنے دشمنوں کی خوشامد کرنے میں بھی ان کو عار نہیں ہوتا۔ ان میں بڑا اتحاد ہے۔ وہ اپنے سرداروں کے حکم سے کبھی سرتابی نہیں کرتے۔ دارالحکومت سے دوری کے باوجود ان میں کبھی اختلاف نہیں ہوتا۔ آج تک یہ سننے میں نہیں آیا کہ انھوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنے کسی بڑے آدمی کو قتل کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تعداد کی کمی کے باوجود وہ مالابار وغیرہ کے راجاؤں کو اپنا مطیع بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی فوج اور ان کے سرداروں میں بہت اختلاف ہے۔ ان کا حصولِ اقتدار کا جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ اس کی خاطر وہ باہم ایک دوسرے کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ‘‘ (تاریخ الحضارۃ العربیہ از محمد کرد علی شامی)
سے بغاوت کر کے مشرقی بنگال میں خود مختار حکومت قائم کر لی تھی۔ اس زمانہ میں ڈھاکہ کا شہر وجود میں نہ آیا تھا اور حکومت کا مستقر سونارگاؤں تھا۔ اس مسلمان بادشاہ کا ایک واقعہ ایک انگریز مورخ ایف بی بریڈے برٹ (Bradley Birt) DACCA: The Romance of one Eastern Capital کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن مطبوعہ لندن ۱۹۱۴ء میں یہ واقعہ اس طرح درج ہے :
" ایک دن شاہ غیاث الدین تیر اندازی کی مشق کر وہا تھا۔ اتفاق سے اس کے تیر سے ایک بیوہ عورت کا اکلوتا لڑکا زخمی ہو گیا۔ بیوہ عورت کو معلوم نہ تھا کہ یہ تیر بادشاہ نے چلایا ہے۔ وہ قاضی شرع کے پاس فریاد لے کر گئی۔ نے اپنی فراست سے اندازہ لگایا کہ یہ تیر بادشاہ کا ہی چلایا ہوا تھا۔ وہ دیر تک مہذب رہا کہ بادشاہ کے خوف اور خوف خدا میں سے کس کو ترجیح دوں۔ بالآخر خدا کا خوف قاضی صاحب پر غالب آیا اور انھوں نے بادشاہ کو جواب دہی کے لئے اپنی عدالت میں طلب کیا۔ بادشاہ کو جو نہی بلاوا پہنچا وہ بلا کسی تامل کے قاضی کی عدالت کی طرف روانہ ہوا۔ نے اپنے کپڑوں میں ایک چھوٹی سی تلوار بھی چھپائی ۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بادشاہ کا کسی قسم کا احترام نہیں کیا۔ اور معاملہ کی جانچ کے بعد حکم دیا کہ وہ اس بیوہ عورت کو معقول مالی معاوضہ دے کر اس سے اپنا قصور معاف کرائے بادشاہ نے بے چون و چرا اس حکم کی تعمیل کی اور بیوہ عورت کو ایک بڑی رقم پیش کر کے اس سے اپنا قصور معاف کرایا۔ ختم ہونے کے بعد قاضی صاحب اپنی کرسی عدالت سے اٹھ کر بادشاہ کے قدموں پر گر پڑے ۔ بادشاہ نے فوراً انھیں اٹھایا اور وہ تلوار ان کو دکھائی جو رہ اپنے کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھا اور کہا کہ یہ تلوار میں اس لئے لایا تھا کہ اگر تم میرے اس مقدمہ میں شریعت کے حکم سے ذرا بھی روگردانی کرو گے تو میں تمھارا سر اڑا دوں گا۔ لیکن تم نے شرع کے مطابق فیصلہ صادر کرنے میں میرا کوئی خوف نہیں کیا اس کے لئے تم انتہائی اعزاز کے مستحق ہو (صفحہ ۵۵ - ۵۶) شریعت کی پابندی کی یہ مثال قائم کرنے والے بادشاہ کا مقبرہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت تک سونار گاؤں میں موجود تھا (صدق جدید ۳۰ مئی (۱۹۸۰)
کسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کے اندر اس قسم کے زندہ افراد موجود ہوں۔ زندہ افراد کی موجودگی سے قوم زندہ ہوتی ہے اور زندہ افراد نہ ہونے سے قوم مر جاتی ہے ۔ زندہ آدمی وہ ہے جو مصلحت کے مقابلہ میں اصول کو اہمیت دیتا ہو۔ جو اپنی غلطی پر عذرات اور توجیہات کا پردہ ڈالنے کے بجائے اس کو مان لیتا ہو، جو ذاتی شکایت کو نظر انداز کر دے بلکہ اس کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ جو اس وقت بھی ایک انسان کی قدر کرے جب کہ اس نے اس کے خلاف کارروائی کی ہو۔