Al-Risala · December 1980

علم کی وپسی

Al-Risala, December 1980, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم ترین زمانہ سے انسانی فکر پر مذہب کا غلبہ تھا۔ اسی کے زیر اثر فلسفہ بنا۔ فلسفہ کا رجحان ہمیشہ یہ رہا کہ عالم کی توجیہ کسی نہ کسی طرح روح یا نفس کی اصطلاحات میں کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ کی بنیاد ہمیشہ تصوریت (Idealism) پر رہی ہے۔ تاہم سائنس کے جدید دور میں ایک خاص عرصہ تک انسانی فکر پر مادیت کا غلبہ ہو گیا۔ قدیم زمانہ میں انسانی فکر کے دو دھارے نہیں تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں انسانی فکر تصوریت اور مادیت کے دو دھاروں میں تقسیم ہو گیا ۔ اب موجودہ صدی میں یہ فاصلہ بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے ۔ وائٹ ہیڈ کے الفاظ میں ”فلسفہ سائنس سے دور ہو گیا تھا۔ مگر اب ذہن اور مادہ کا فرق جیسے جیسے مٹ رہا ہے، فلسفہ دوبارہ اپنی پرانی اہمیت کی طرف واپس آ تا جارہا ہے “ Science and the Modern world, پروفیسرہیزن برگ (۱۹۰۱ء - ۱۸۷۲) کا شمار جدید طبیعیات کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ا انیسویں صدی کے سائنس دانوں کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ نفسیاتی مظاہر کی کوئی توجیہ دماغ کی طبیعیات اور کیمیا کے ذریعہ کی جاسکے۔ مگر اب کوانٹم نظریہ کے آنے کے بعد اس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بلکہ کوانٹم نظریہ کے متعلق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ فطرت (Nature) کی کامل خارجی تشریح کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ اس کے بعد ناممکن ہو گیا ہے کہ فلسفہ اور سائنس اپنی تشدد غیر جانب داری (Armed Neutrality) کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کو اب یا تو دوست بن جانا چاہئے یا دشمن۔ اور ان کے درمیان دوستی اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ سائنس وہ امتحان پاس کرے جو فلسفہ اس سے اس کے مقدمات کی بابت لے گا :

They cannot be friends unless science can pass the examination which philosophy must set to its premises. Physics & Philosophy, pp. 95-96 نیوٹن (۱۷۲۷ء - کا ظہور تاریخ میں ایک نئے فکری دور کا آغاز تھا۔ اس کی تحقیق یہ تھی کہ کائنات اپنے متعین قوانین کے تحت عمل کرتی ہے، کچھ طبیعی اسباب ہیں جو واقعات عالم کے پیچھے کارفرما ہیں۔ کہ کائنات کا ماضی، حال اور مستقبل سب علت و معلول کی مسلسل کڑیوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ نیوٹن اگرچہ ذاتی طور پر خدا کو مانتا تھا، مگر بعد کے مفکرین نے کہا کہ جب کائنات کے متعلق معلوم ہو گیا کہ وہ معلوم طبیعی قوانین کے تحت حرکت کرتی ہے تو پھر ایک نا معلوم خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔ اس طرح افکار کی دنیا میں اصول تعلیل (Principle of Causation) کا رواج ہوا جو خدا کو پوری طرح خدا اور مذہب کا بدل سمجھ لیا گیا۔ نیوٹن پہلا شخص ہے جس نے اصول تعلیل کا علمی انطباق طبیعی دنیا پر کیا۔

ڈارون - ۱۸۰۹) پر منکشف ہوا کہ یہی اصول تعلیل حیاتیات کی دنیا میں بھی کام کر رہا ہے۔

آخری نتیجہ تھی۔ ڈارون بذات خود اس عمل ارتقاء کو ایک خالق (Creator) کا منصوبہ سمجھتا تھا۔ مگر بعد کے مفکرین نے خالق کے تصور کو ڈارون کا ذاتی عقیدہ قرار دیا اور نظریہ ارتقاء کو الحاد کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ان کے نزدیک اس دنیا کا خالق "ارتھا" تھا نہ کہ کوئی "خدا"۔

مارکس (۱۸۱۸-۱۸۸۳) وہ شخص ہے جس نے اس اصول تعلمیل کو انسان کی سماجی زندگی پر منطبق کیا اور کہا کہ انسانی سماج اور انسانی تاریخ بھی ایک ناگزیر مادی قانون کے تحت سفر کر رہے ہیں۔ سماجی سفر میں جدلیاتی عمل (Dialectical Process) کی کار فرمائی کا تصور اگر چہ اس نے ہیگل (۱۸۳۱ - ۱۷۷۰) سے لیا تھا جو اس عمل کے پیچھے ایک روحِ عالم (ورلڈ اسپرٹ) کو مانتا تھا۔ مگر مارکس نے روحِ عالم کے بجائے معاشی قوانین کو جدلیاتی عمل کا ہیرو قرار دیا اور اس طرح ہیگل کی تصوریت (آئیڈیلزم) کو خالص مادیت (مٹیریلزم) میں بدل ڈالا۔ اس طرح تقریباً ڈیڑھ سو سال کے مسلسل عمل سے وہ فکر بنا جس کو جدید الحاد کہا جاتا ہے۔ اس الحاد کا کہنا تھا کہ اب علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک کوئی خدا نہیں ہے بلکہ اسباب و علل (Cause and Effect) کا ایک طبعی قانون ہے۔ اسی طبعی قانون نے بے عمل کے بعد عالم کو بنایا۔ اسی قانون کے ذریعہ ارتقائی مراحل سے گزر کر انسان تیار ہوا۔ اور پھر یہی وہ قانون ہے جو سماجی عمل کے اندر کار فرما ہے اور انسانی سماج کو غیر ترقی یافتہ حالت سے ترقی یافتہ حالت کی طرف لے جا رہا ہے۔

مگر بیسویں صدی کے آتے ہی ان خیالات کی علمی بنیاد بالکل ڈھ گئی۔ اس صدی کے آغاز میں پلانک اور آئن سٹائن اور ہیزن برگ اور ڈیراک اور ردر فورڈ نے جو تحقیقات کیں اس کے بعد علم کا وہ پورا ڈھانچہ بدل گیا جس کے تحت مذکورہ ملحدانہ مفروضات قائم کئے گئے تھے۔ اب اصول تعلمیل کا وہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا جس کو انیسویں صدی میں خدا کا علی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ برکلے کی تصوریت (آئیڈیلزم) سوریس کی معرونی کے بعد، فلاسفہ میں دوبارہ واپس آگئی۔

انیسویں صدی علی دنیا میں الحاد کی صدی تھی۔ یہی صدی ہے جس میں عالم فطرت کے بارے میں کثرت سے نئے حقائق دریافت ہوئے۔ یہ حقائق اگر چہ بذات خود مذہب سے متصادم نہیں تھے۔ مگر ملحد فلسفہ نے اپنے تعمیری اضافہ سے ان کے اندر الحادی عناصر ڈھونڈ لئے۔ اب ایک پورا نظام فکر ترتیب دیا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنسی دریافتوں نے مذہبی صداقت کی تردید کر دی ہے۔ اب انسان کو فکری یا علمی اعتبار سے مذہب کی کوئی ضرورت نہیں، وہ سب کچھ جو مذہب دیتا تھا یا جس کے لئے مذہب کو ضروری سمجھ لیا گیا تھا، اب انسان اس کو زیادہ بہتر طور پر سائنس کے ذریعہ حاصل کر سکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں علمی طور پر اس دعوے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ بعد کی تحقیقات اور بعد کے تجربات نے ایک ایک کر کے ان تمام باتوں کی تردید کر دی جن کی امید سائنس سے قائم کر لی گئی تھی۔

پر یہ اقرار کرنے پر مجبور کیا ہے کہ خدا کو مانے بغیر اس دنیا کی توجیہ ممکن نہیں۔ حتی کہ خدا اگر موجود نہ ہو تب بھی ہمیں اپنے مسئلہ کے حل کے لئے خدا کو ایجاد کرنا ہوگا :

If God did not exist, it would be necessary to invent Him کہا گیا تھا کہ حقیقت اعلی کا ادراک کرنے کے لئے انسانی علم سے اوپر کسی علم (الہام) کی ضرورت نہیں، سائنس تمام حقیقتوں کو جاننے کے لئے بالکل کافی ہے، مگر آج سائنس داں متفقہ طور پر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ سائنس ہم کو حقیقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے :

Science gives us but a partial knowledge of reality. کہا گیا تھا کہ انسان کے اندر ذمہ داری کا احساس اور حق شناسی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے خدا کا خوف دلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ علمی اور تعلیمی ترقی خود بخود اس قسم کا احساس آدمی کے اندر پیدا کر دے گی ۔ تقریبا سو سالہ تجربہ کے بعد آج کا انسان یہ اقرار کر رہا ہے کہ علم اور اخلاقی احساس لازمی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں :

Knowlege and moral responsibility are not necessarily interlinked کہا گیا تھا کہ زندگی کے عیش کے لئے کل کی جنت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمدنی تعمیر کے جدید امکانات جو انسان کی دسترس میں آئے ہیں وہ ہماری اسی زمین کو ہمارے لئے جنت بنا دیں گے۔ مگر تمدنی ترقیوں کے بعد اس سے پیدا شدہ بے شمار مسائل نے انسان کو اس قدر پریشان کر دیا ہے کہ آج کا خوش نصیب انسان جس کو جدید معنوں میں تمام اسباب عیش حاصل ہیں، وہ حیران ہو کر کہتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کو جدید معیار کے مطابق خوشگوار بنا لیا مگر اس کے باوجود میں اب بھی خوش نہیں :

Printed page