Al-Risala · February 1980

جب شور و غل کو کام سمجھ لیا جائے

Al-Risala, February 1980, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

عرب کے مشرکین معروف معنوں میں لا مذہبی لوگ نہیں تھے بلکہ مذہب کو ماننے والے لوگ تھے۔ حتیٰ کہ وہ نماز بھی البتہ ان کی نماز یہ تھی کہ خدا کے گھر میں جمع ہو کر تالیاں بجاتے اور سیٹی کی آوازیں نکالتے (ماکان صلاتھم عند البیت الا مکاء وتصدية انفال ۳۵) مشرکین کی یہ سنت اب بھی مشرکانہ عبادت گھروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ تاہم شور و غل کو عبادت سمجھنے میں نام نہاد غیر مشرکین بھی ان سے زیادہ پیچھے نہیں ہیں۔ مزاروں پر قوالیاں، شب برات کے تماشے، میلاد کے ہنگامے، تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر پر "اسلامی گانوں" کی ریکارڈنگ، سب اسی کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس بدعت کے اثرات بہت دور تک ہماری زندگی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مسائل ملت کے نام پر آئے دن کانفرنسوں اور کنونشنوں کی دھوم، دینی سیاست کے نام پر توڑ پھوڑ اور ایجی ٹیشن، اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر گوڑوں اور گولیوں کی جھنکار ، سب اسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ لوگ شور و غل کو دین سمجھے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ خدا کی دنیا خاموش سرگرمیوں کی دنیا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اپنی آواز کو پست رکھو کیوں کہ آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے (لقمان (۱۹) گدھا اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ آواز کا ایک نمونہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اس طرح چیخ پکار میں مشغول ہیں جیسے ان کو تمام آوازوں میں یہی آواز سب سے زیادہ پسند آگئی ہو۔

صلاحیتیں اسلام کے کام نہ آسکیں پروفیسر رشید احمد صدیقی مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵-۱۸۸۷) کے ساتھیوں میں سے تھے۔ مولانا سہیل کی علی گڑھ کی تعلیمی زندگی کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ اس طرح بیان کیےتے ہیں۔ 1918 یا ۱۹۱۹ کا واقعہ ہے۔ یونین میں "ام الالسنه عربی، پر پروفیسر خواجہ کمال الدین مرحوم کی اردو میں تقریر تھی۔ مرحوم نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ مولانا سہیل کی آنکھوں میں تکلیف سردیوں کا زمانہ تھا۔ مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونین میں مجمع دیکھا تو کہا: مولانا تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔ مولانا نے کہا اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھ آئیں گے۔ لوگ یونین میں آئے۔ مولانا سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادہ میں ملفوف تھے۔ سر پر اونی کنٹوپ تھا۔ پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس پر ایک ہرے رنگ کا چھجا (رشید) لگا ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے کم و بیش دو گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محوِ حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو پریسیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل فاضل مقرر کا طلبا ئے کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف سازش کامیاب ہوئی ۔ دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میز کے پاس کھڑے کر گئے۔ ناک، اس سے ذرا ابڑی ٹھوڑی اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ مولانا نے بے تکلف تقریر شروع اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی مبحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمع سے واقف ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لئے کوئی نہیں ٹھہرتا اور صدر کا شکر یہ بھی اسی بد نظمی کا ایک سلسلہ ہوتا مولانا سہیل نے بھی "ام الالسنه عربی" پر تقریر شروع کی۔ پون گھنٹہ تک تقریر کی، نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی ۔ نئی نئی مثالیں پیش کیں ۔ تقریر کو اس درجہ دل نشین اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ کمال الدین نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے سے لگا لیا اور فرمایا: "تمھارے ایسا جامع کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو میں اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں" (مضامین رشید، صفحه (۳۴) مولانا اقبال احمد سہیل ایم اے، ایل ایل بی غیر معمولی ذہین آدمی تھے اردو کے علاوہ ان کو عربی، انگریزی اور فارسی پر بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ ان کے دو شعر یہ ہیں:

اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر کہ دانہ بار ور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر اے کاروانِ ملت اٹھ تو بھی گام زن ہو ہر سمت سے صدائیں آتی ہیں طرّق کی اسلامی دعوت کا کام وہ انتہائی اعلیٰ معیار کے ساتھ کر سکتے تھے۔ مگر ان کی تمام صلاحیتیں شاعری اور وکالت کی نذر ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانہ میں اس طرح کے کتنے لوگ ہیں جو فطرت سے اعلیٰ درجہ کی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے۔ مگر ان کی اعلیٰ صلاحیتیں اسلام کے کام نہ آسکیں۔ وہ سطحی چیزوں کے پیچھے لگے رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے گئے۔

Printed page