رسول کی پیروی سے
Al-Risala, December 1980, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح مکہ کے بعد عرب کے قبائل کثرت سے مسلمان ہوئے۔ مگر یہ لوگ زیادہ تر اسلام کا سیاسی غلبہ دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ ان کے اندر وہ ذہنی و فکری انقلاب نہیں آیا تھا جو ابتدائی لوگوں میں آیا تھا۔ اسلام کے بعض احکام، خاص طور پر زکوٰۃ ان کی آزادانہ زندگی کے لئے ناقابل برداشت معلوم ہونے لگی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند ماہ پہلے یمن اور نجد کے علاقوں میں ان کے درمیان ایسے لیڈر ابھرے جو اسلام کا ایسا تصور پیش کرتے تھے جس میں زکوٰۃ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ان لیڈروں، مثلاً اسود اور مسیلمہ نے اپنی بات کو خدا کی بات ثابت کرنے کے لئے نبوت کا دعویٰ کر دیا، تا کہ جس الہامی زبان میں زکوٰۃ کو فرض کیا گیا ہے اسی الہامی زبان میں اس کی فرضیت کو ساقط کیا جا سکے۔ اس قسم کی ”نبوت“ ان قبائل کی پسند کے عین مطابق ہوئی جو زکوٰۃ کو اپنے اوپر ایک بوجھ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوق در جوق ان جھوٹے مدعیان نبوت کا ساتھ دینا شروع کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ان لوگوں کا حوصلہ اور بڑھا اور یہ فتنہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ حتیٰ کہ یہ حال ہوا کہ مکہ، مدینہ اور طائف کے سوا تمام عرب میں بیشتر لوگ باغی ہو گئے۔ اسی کے ساتھ یہ خبریں بھی پھیلنے لگیں کہ یہ لوگ منظم ہو کر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں جو کام کئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ رومیوں کے مقابلہ کے لئے شام کی طرف جائے جہاں اس سے پہلے موتہ کے مقام پر رومیوں کے والد حضرت زید کو شہید یہ لشکر روانہ ہو کر ابھی مدینہ کے باہر پہنچا تھا کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی اور وہ خلیفہ اول کے حکم کے انتظار میں وہیں ٹھہر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر نے اس لشکر کو آگے روانہ کرنا چاہا تو بیشتر صحابہ نے اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ سارا عرب باغی ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں لشکر کو مدینہ کے دفاع کے لئے یہاں رکھنا چاہئے نہ کہ ایسے نازک موقع پر اس کو دور بھیج دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق نے ایسی کسی رائے کو ماننے سے شدت کے ساتھ انکار کر دیا۔
تمام بڑے صحابہ اسامہ بن زید رض کی سرداری میں مدینہ کے باہر جمع تھے۔ اس وقت لوگوں کے اندر دو باتیں بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں ۔ ایک یہ کہ اتنے نازک موقع پر اسلامی لشکر کا مدینہ سے دور
کو ان کی سرداری پر انقباض تھا۔ نیز وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اسامہ ابھی صرف سترہ سال کے نوجوان ہیں اور ان کی ماتحتی میں بڑے بڑے صحابہ ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی معمر قریشی کو سردار مقرر کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو۔ عمر فاروق رض بھی ابتداؤ اس لشکر میں شامل تھے، وہ لوگوں کا پیغام لے کر حضرت ابو بکر رض کے پاس روانہ ہوئے۔ حضرت ابو بکر نے پہلی بات سن کر فرمایا: لشکر کی روانگی کے بعد اگر میں مدینہ میں تنہا رہ جاؤں اور درندے مجھ کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں ایک ایسے لشکر کی روانگی کو روک نہیں سکتا جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا ہو۔ دوسرے پیغام کو سن کر آپ نے فرمایا "کیا ان کے دلوں میں ابھی تک جاہلی فخر وتکبر کا اثر باقی ہے" یہ کہہ کر آپ اٹھے اور لشکر کو خود رخصت کرنے کے لئے پیدل چل کر لشکر گاہ اسامہ بن زید کو ان کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، جب اسامہ اپنی سواری پر چلے تو آپ ان کے ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے۔ اسامہ نے کہا کہ یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں، یا میں سواری سے حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا: نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم کو سواری سے اترنے کی ضرورت یہ خلیفہ اول کی طرف سے گویا لوگوں کے سوال کا عملی جواب تھا۔ خلیفہ کو اسامہ کی رکاب میں چلتے دیکھ کر سب کا انقباض ختم ہو گیا۔
اسامہ کی سرکردگی میں صحابہ کا لشکر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوا تو اس کی خبریں چاروں طرف پھیل گئیں، ہیبت سے مخالفین کے لئے یہ مسلمانوں کے اعتماد کا مظاہرہ بن گیا۔ انھوں نے سوچا کہ مدینہ کی حکومت کے پاس کافی طاقت ہوگی جو کہ وہ اس نازک وقت میں اتنا بڑا لشکر دار السلطنت سے دور بھیج رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سوچا کہ مدینہ پر اقدام کرنے میں ہم کو توقف کرنا چاہئے۔ پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ مسلمانوں اور رومیوں کی جنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر مسلمانوں کو اس جنگ میں شکست ہوتی ہے تو وہ اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان کے اوپر اقدام کرنا زیادہ مناسب ہوگا اسامہ بن زید کے لشکر کو رومیوں کے خلاف مہم میں زبر دست کامیابی ہوئی ۔ اس مہم میں ان کو چالیس اسامہ بن زید اس مہم کی قیادت کے لئے موزوں ترین شخص تھے۔ کیونکہ ان کے باپ زید بن حارثہ کو رومیوں نے موتہ کی جنگ میں شہید کیا تھا اور ان کے دل میں اپنے باپ کا انتقام لینے کا جذبہ بھڑک رہا تھا۔ اسامہ کی رہنمائی میں اسلامی لشکر انتہائی بے جگری سے لڑا اور رومیوں کو شکست دی۔ اس کے بعد وہ کافی قیدی اور مال غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر باغیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ اور نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ ان کو زیر کر لیا گیا۔ رسول کی پیروی ان کے لئے دشمنوں پر غلبہ کا ذریعہ بن گئی۔