اللہ کی راہ میں خرچ
Al-Risala, December 1980, pp. 30–28
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کے پاس جو کچھ ہے خدا کا دیا ہوا ہے۔ آدمی کی زندگی اور اس کا اثاثہ سب کچھ خدا کی بخشش ہے۔ اس بخشش کا شکر یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ آدمی کو دیا ہے وہ اس کو اللہ کے قدموں میں ڈال دے۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا اللہ کے لئے اسی حوالگی کی ایک علامت ہے ۔
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اسی لئے کماتا ہے کہ خدا نے اس کو ہاتھ اور پاؤں دئے ہیں جن سے وہ عمل کرے ، اس کو آنکھ اور زبان دی ہے جس سے وہ دیکھے اور بولے۔ اس کو دماغ دیا ہے جس سے وہ سوچے اور منصوبہ بنائے ۔ اسی کے ساتھ خدا نے آدمی کو ایک ایسی دنیا میں رکھا جو پوری طرح اس کے تابع ہے۔ دنیا کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ انسان اس کو جس طرح چاہے اپنے کام میں لائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آدمی جسم و دماغ کی تمام طاقتیں رکھتے ہوئے بھی دنیا سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے گا۔ اگر گیہوں کا دانہ فصل کی صورت میں نہ اگے بلکہ پتھر کے ٹکڑے کی طرح زمین میں پڑا رہے تو انسان کے لئے زمین سے غلہ حاصل کرنا نا ممکن ہو جائے ۔ فطرت کی طاقتیں اگر اپنا مقررہ عمل ظاہر نہ کریں تو نہ بجلی پیدا ہو اور نہ کوئی سواری حرکت کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان جو کمائی کرتا ہے وہ براہِ راست خدا کا احسان ہوتی ہے۔ اس احسان کا بدلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو اللہ کے دین کی راہ میں خرچ کرے۔ وہ اس سے اللہ کے کمزور بندوں کی مدد خدا کی دی ہوئی دولت کو وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقوں میں لگائے۔ اللہ کی راہ کا خرچ وہ جو صرف اللہ کے لئے ہو، نہ کہ شہرت، یا عزت، یا دلداری کے لئے
موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ سب اللہ اپنے مالک حقیقی کی طرف واپس لائے جائیں گے۔ سن لو، حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔ ۶۲ - ۶۰ خدا نے یہ دنیا اس طرح بنائی ہے کہ وہ ان حقیقتوں کی عملی تصدیق بن گئی ہے جن کی طرف انسان کو دعوت دی جارہی اگر آدمی اپنی آنکھوں کو بند نہ کرے اور اپنی عقل پر مصنوعی پردے نہ ڈالے تو پوری کائنات اس کو قرآن کی فکری دعوت کا عملی مظاہرہ دکھائی دے گی۔
درخت کے تنے میں شاخ نکلتی ہے اور شاخ میں پتے۔ مگر دونوں کے جوڑوں میں فرق ہوتا ہے۔ بنانے والے کو معلوم ہے کہ شاخ کو اپنے تنے سے جڑا رہنا ہے اور پتے کو الگ ہو کر گر جانا ہے۔ اگر شاخ کی جڑ کے مقابلہ میں پتہ کی جڑ میں یہ انفرادی خصوصیت نہ ہو تو پتہ شاخ سے جدا نہ ہو اور درخت کو ہر سال نئی زندگی دینے کا نظام ابتر ہو جائے۔ اسی طرح جب ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو زمین میں پہلے سے اس کے لئے وہ تمام ضروری خوراک موجود ہوتی ہے جس سے رزق پا کر وہ بڑھتا ہے اور بالآخر پورا درخت بنتا ہے۔ ممکن ہے کہ جو خدا پتہ اور دانہ تک کے احوال سے باخبر ہو وہ انسانوں کے احوال سے بے خبر ہو جائے (۵۹) ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہاں کا نظام استثنائی طور پر انسان جیسی ایک مخلوق کے حسب حال بنایا گیا ہے۔ زمین کے اندر کا ایک بڑا حصہ آگ ہے مگر وہ پھٹ نہیں پڑتا۔ صحیح حسابی فاصلہ پر ہے، وہ اس سے نہ دور جاتا ہے اور نہ قریب ہوتا ہے۔ آدمی کو ہر وقت ہوا اور پانی کی ضرورت چنانچہ ہوا کو گیس کی شکل میں ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے اور پانی کو رقیق سیال کی صورت میں زمین کے نیچے رکھ دیا گیا اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کو زمین پر مسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ان میں معمولی فرق آجائے تو انسان کے لئے زمین پر زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔
نیند بڑی عجیب چیز ہے۔ آدمی چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور بولتا ہے۔ مگر جب وہ سوتا ہے تو اس کے تمام حواس اس طرح معطل ہو جاتے ہیں جیسے زندگی اس سے نکل گئی ہو۔ اس کے بعد جب وہ نیند پوری کر کے اٹھتا ہے تو وہ پھر ویسا ہی انسان ہوتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ یہ زندگی اور موت کی تمثیل ہے۔ سوچو اور اس سے عبرت حاصل کرو۔
الانعام - ۶ کہو، کون تم کو نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے، تم اس کو پکارتے ہو عاجزی سے اور چپکے چپکے کہ اگر خدا نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکر گزار بندوں میں سے بن جائیں گے۔ کہو، خدا ہی تم کو نجات دیتا ہے اس سے اور ہر تکلیف سے ، پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔ کہو، خدا قادر ہے اس پر کہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے تمھارے اوپر سے یا تمھارے پیروں کے نیچے سے یا تم کو گروہ گروہ کر کے ایک کو دوسرے کی طاقْت کا مزہ دیکھو، ہم کس طرح مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔ اور تمھاری قوم نے اس کو جھٹلا دیا ہے حالاں کہ وہ حق ہے۔ کہو، میں تمھارے اوپر داروغہ یں ہوں۔ ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور تم جلدی جان لو گے ۔ ۶۳ - ۶۷ انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتیں۔ اس لیے ہوتا ہے تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کئے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہو جائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سکے۔ چنانچہ جب کبھی آدمی پر کوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یک سو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہو جائے۔ شرک کی ایک صورت یہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہرِ پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خود اپنے کو بت بنائے ، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم و جان پر اعتماد کر رہا ہے آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کر رہا ہے۔ آدمی جب ایک حق کو نظر انداز نہ کرتا ہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میں اس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں ، اس کے حق میں اپنی من مانی کرنے سے مجھے کوئی روکنے والا نہیں ۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیونکہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔
آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے ۔ وہ ایسی ہواؤں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کر کے اس کی زندگی کو تہس نہس کر سکتی ہیں ، وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہ رہا ہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لئے کافی ہے۔
اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں عیب نکالتے لیں تو ان سے الگ ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ۔ اور اگر کبھی شیطان تم کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے بے انصاف لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان پر ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری نہیں، البتہ یاد دلانا ہے شاید کہ وہ ان لوگوں کو چھوڑ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتے رہو تاکہ کوئی شخص اپنے کئے میں گرفتار نہ ہو جائے، اس حال میں کہ اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار اور سفارشی اس کے لئے نہ ہو۔ اگر وہ دنیا بھر کا معاوضہ دے تب بھی قبول نہ کیا جائے۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتار ہوگئے ۔ ان کے لئے کھولتا پانی پینے کے لئے ہوگا اور درد ناک سزا ہوگی اس لئے کہ وہ کفر کرتے تھے۔ ۶۸ - ۷۰ عبد اللہ بن عباس رض نے فرمایا کہ اللہ نے ہر امت کے لئے ایک عید کا دن مقرر کیا تاکہ اس دن وہ اللہ کی بڑائی کریں اور اس کی عبادت کریں اور اللہ کی یاد سے اس کو معمور کریں۔ مگر بعد کے لوگوں نے اپنی عید (مذہبی تہوار) کو کھیل تماشا بنا لیا (تفسیر کبیر)
ہر دینی عمل کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ایک اس کا ظاہری پہلو ہوتا ہے۔ عید کا مقصد اللہ کی بڑائی اور اس کی یاد کا اجتماعی مظاہرہ ہے۔ مگر عید کی ادائیگی کے کچھ ظاہری پہلو بھی ہیں، مثلاً کپڑا پہننا یا اجتماع کا سامان کرنا اب عید کو کھیل تماشا بنایا ہے کہ اس کے اصل مقصد پر توجہ نہ دی جائے، البتہ اس کے ظاہری اور مادی پہلوؤں کی خوب دھوم مچائی جائے ۔ مثلاً کپڑوں اور ساماناروں کی نمائش، خرید و فروخت کے ہنگامے ، تفریحات کا اہتمام، اپنی حیثیت اور شان و شوکت کے مظاہرے، وغیرہ۔
امتوں کے بگاڑ کے زمانہ میں یہی معاملہ تمام دینی اعمال کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لوگ دینی عمل کی اصل حقیقت کو الگ کرکے اس کے ظاہری پہلو کو لے لیتے ہیں۔ اب جو لوگ اس نوبت کو پہنچ جائیں کہ وہ دین کے مقصدی پہلو کو بھلا کر اس کو اپنے دنیوی تماشوں کا عنوان بنالیں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں ان کو اس معاملہ کی کوئی ایسی بات سمجھائی نہیں جاسکتی جو ان کے مزاج کے خلاف ہو۔ مزید یہ کہ مادی چیزوں کا مالک ہونا ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ سچائی کے مالک بھی وہی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کی ضرورتیں بظرافت پوری ہو رہی ہیں۔ ہر جگہ وہ رونق محفل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس لئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ آخرت میں بھی وہی کامیاب رہیں گے۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر آخرت کی باتوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ مگر وہ جان ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ یوں ہی ختم ہو جانے والا نہیں۔ ان کا عمل ان کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ عنقریب وہ اپنی سرکشی میں پھنس کر رہ جائیں گے اور کسی حال میں اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے۔
کہ رہنمائی تو صرف اللہ کی رہنمائی ہے اور ہم کو حکم ملا ہے کہ ہم اپنے آپ کو عالم کے رب کے حوالے کردیں ۔ اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اللہ سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا ۔ اس کی بات حق ہے اور اسی کی حکومت ہوگی اس روز جب صور پھونکا جائے گا ۔ وہ غائب و حاضر کا عالم اور حکیم وخبیر ہے ۔ جو لوگ خدا کے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا میں بھٹک رہا ہو ۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتا ہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے ۔ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے ۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی ۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے ، ادھر آ جاؤ مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے ، صحیح راستہ کو دیکھنے میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کی عقل شیطان کے زیر اثر آ جاتی ہے ، اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیں کرتی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا ۔
خدا کے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ ونقصان کی طاقت نہیں رکھتیں ۔ زمین و آسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کر رہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصد بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائی اور انصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے ، وہ بھی سراسر بالکل ہے ۔ کیوں کہ انانیت زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہو جائے تو یہ دنیا باطل بے معنی قرار پاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انسانی پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے ۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس با کمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے ۔
دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے ۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا ۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہو جائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہو جائے گا جس طرح موجودہ کائنات پر قائم ہے ۔ جو وقت کا حساب اور دوسرے حقائق فراموش کر کے انسانوں کے زمانے میں جیا ، وہ خدا کے ہاں مجرم ٹھہرائے
نے کہا میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ پھر جب اس نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا اگر میرا رب مجھ کو ہدایت نہ کوے تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں ۔ سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے لوگو، میں اس شرک سے بری ہوں جو تم کرتے ہو ۔ میں نے اپنا رخ ایک سو ہو کر اس کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کر لیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۷۹ - ۷۴۔
حضرت ابراہیمؑ کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدہ حق کی کہانی حضرت ابراہیمؑ دو ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہوتی تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں ۔ کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔
رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتا ہوا ان کے سامنے آتا ہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہئے۔ تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا رڈ بنانا ان کے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے ۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لئے چمکے اور پھر غائب ہو جائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پو جا جائے ۔ باطل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چک کر تھوڑی دیر کے لئے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے ۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جوان کے اپنے لئے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے، اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور اندازِ کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کر اصطلاح میں حجتِ الزامی کہا جاتا ہے یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجتِ الزامی کا طریقہ دانہ درود رند پارتل تم دو گے، سوال ماؤ دائہ ال النور الذي ظلمت عليه عالب (ص (90)
اور اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ اس نے کہا کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالاں کہ اس نے مجھے راہ اور میں ان سے نہیں ڈرتا جن کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو مگر یہ کہ کوئی بات میرا رب ہی چاہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، کیا تم نہیں سوچتے۔ اور میں کیوں کر ڈروں تمھارے شریکوں سے جب کہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نہیں اتاری۔ دونوں فریقوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے، اگر تم جانتے ہو۔ جولوگ ایمان لائے اور نہیں ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی نقصان، انھیں کے لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ یہ ہے ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، بے شک تمھارا رب حکیم علیم ہے۔ ۸۰ - ۸۳ جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کا درجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کہیں کوئی وبال نہ آپڑے۔ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے۔ تم برباد ہوجاؤ گے۔ اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات ہے جس کی کبریائی دلیل و برہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی ہستیاں ہیں سب تو ہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں، اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔
ظاہر حالات کو دیکھ کر ان معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل اور برہان پر کھڑا ہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لئے محفوظ دیوار حاصل کرلے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ با عزت زندگی حاصل کرنے کی اس سے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کر لینا ہے جو خود کو ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنادے
نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ اللہ زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی، ان میں سے ہر ایک صالح تھا۔ اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی، اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ اور ان کے باپ دادوں اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی، اور ان کو ہم نے چن لیا اور ہم نے سیدھے راستہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس سے سرفراز کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔ اگر وہ شرک کرتے تو ضائع ہو جاتا جو کچھ انہوں نے کیا تھا۔ یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا پس اگر یہ مکہ والے اس کا انکار کردیں تو ہم نے اس کے لیے ایسے لوگ مقرر کر دئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ کہہ دو، میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں یہ تو بس ایک نصیحت ہے دنیا والوں کے لئے۔ 10| «فضیلت» کسی کا نسلی یا قومی لقب نہیں، یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقق صرف ان افراد کے لئے ہوتا ہے جو خدا کی ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، مشرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور بلا معاوضہ نصیحت “ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کردیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتا ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتا ہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتا ہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لئے ہو یا عام انسانوں کے لئے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتا ہے نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوت حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہو چکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچارہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبات کی مہم نہیں چلا سکتے۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر بھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت قوم“ مکہ والوں نے آپ کا انکار کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کر دئے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتیٰ کہ آپ کے لئے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
اور انھوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب انھوں نے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری، کہو کہ وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے لے کر موسیٰ آئے تھے، وہ روشن تھی اور رہنمائی تھی لوگوں کے واسطے، جس کو تم نے ورق ورق کر رکھا ہے ۔ کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو ۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمھارے باپ دادا۔ کہو کہ اللہ نے اتاری ۔ پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی کج بحثیوں میں کھیلتے رہیں۔ ایک کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے، برکت والی ہے، تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلے ہیں، اور تاکہ تو ڈرائے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو۔ اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اس پر ایمان لائیں گے۔ اپنی نماز کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ۹۱ - ۹۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مکہ کے لوگوں کے سامنے آئی تو ان کے کچھ لوگوں نے بعض یہود سے پوچھا کہ تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا محمد پر واقعی خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ یہود نے جواب دیا "خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے" یہ بظاہر یہ بات بڑی عجیب ہے، کیونکہ یہود تو خود نبیوں کو ماننے والے تھے۔ اس طرح گویا وہ اقرار کر رہے تھے کہ بشر پر خدا کا کلام اترتا ہے۔ مگر جب آدمی مخالفت میں اندھا ہو جائے تو وہ مخالفت کی تردید کے جوش میں کبھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ یہود کے اندر یہ ڈھٹائی اس لئے پیدا ہوئی کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو ورق ورق کر دیا تھا۔ وہ خدا کی تعلیمات کے کچھ حصے کو سامنے لاتے اور بقیہ کو کتاب میں بند رکھتے مثلاً وہ انعام والی آیتوں کو خوب سنتے سناتے اور ان آیتوں کو چھوڑ دیتے جن میں وہ اعمال بتائے گئے ہیں جن کے کرنے سے کسی کو مذکورہ انعام ملتا ہے۔ وہ ایسی آیتوں کا خصوصی تذکرہ کرتے جن سے ان کی شور و غل کی سیاست کی تائید نکلتی ہو اور ان آیتوں کو نظر انداز کر دیتے جن میں خاموش اصلاح کے احکام دئے گئے ہوں ۔ وہ ایسی آیتوں کے درس میں بڑا اہتمام کرتے جن میں ان کے لئے لفظی موشگافیوں کا کمال دکھانے کا موقع ہو مگر ان آیتوں سے سرسری گزر جاتے جن میں دین کے ابدی حقائق بیان کئے گئے وہ ایسی آیتوں کا خوب چرچا کرتے جن سے اپنی فضیلت نکلتی ہو اور ان آیتوں سے بے توجہی برتتے ہیں جن سے ان کی ذمہ داریاں معلوم ہوتی ہیں۔ جو لوگ خدا کی کتاب کو اس طرح "ورق ورق" کریں، ان کے اندر فطری طور پر ڈھٹائی آ جاتی ہے۔ وہ غیر سنجیدہ بحثیں کرتے ہیں، متضاد بیانات دیتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تعاون کی امید نہیں کی جو لوگ خدا کی کتاب کے ساتھ انصاف نہ کریں وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کیسے انصاف کر سکتے ہیں ۔ دین کی دعوت اصلاً لوگوں کو ہوشیار کرنے کی دعوت ہے۔ اس قسم کی دعوت خواہ کتنے ہی کامل انسان کی طرف سے پیش کی جائے وہ سننے والے کے دل میں اس وقت جگہ کرے گی جب کہ وہ اپنے سینہ میں ایک اندیشہ ناک دل رکھتا ہو اور آخرت کے معاملہ کو ایک سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہو۔ سننے والے میں اگر یہ ابتدائی مادہ موجود نہ ہو تو سنانے والا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔