آغاز سے پہلے اختتام کا اندازہ کر لیجئے
Al-Risala, February 1980, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
حاجیوں کا ایک قافلہ غارِ حرا کو دیکھنے کے لئے روانہ ہوا۔ غار حرا جس پہاڑ کے اوپر واقع ہے وہاں تک سڑک جاتی ہے۔ پہاڑ تک سواری سے جاتا ہے اور پھر وہاں سے پیدل پہاڑ پر چڑھتا ہے۔ قافلہ کے لوگ جب پہاڑ پر چڑھنے لگے تو کچھ لوگوں نے احترام و تقدس کے جذبہ کے تحت سڑک کے پاس اپنے چپل اتار دئے۔ جاتے وقت صبح کا وقت تھا اس لئے ننگے پاؤں اوپر جانے میں کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔ مگر جب وہ لوگ واپس لوٹے تو دوپہر ہو چکی تھی۔ پہاڑی کے سرخ پتھر تپنے لگے تھے۔ بغیر چپل والے لوگ سخت تکلیف کے ساتھ اس حال میں اترے کہ ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ کئی دن تک پریشان رہے۔
سفر خواہ پہاڑ کا ہو یا زندگی کا، ہر ایک کی کامیابی کا ایک ہی اصول ہے۔ اور وہ یہ کہ سفر کے آغاز میں سفر کے اختتام کا پورا اندازہ کر لیا جائے ۔ جو شخص سفر کے شروع میں سفر کے آخری حالات کا اندازہ نہ کر سکے اس کے حصہ میں اکثر ایسی مشکلات آتی ہیں جو اس کے سفر کے مقصد کو بے معنی بنا دیتی ہیں ۔ خدا کا یہ قانون اتنا بے لاگ ہے کہ ایک مخلص آدمی بھی اس قسم کی غلطی کرنے کے بعد اس کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ اچھی نیت سے ایک ایسا اقدام کر بیٹھے جس کے عواقب پر اس نے غور نہ کیا ہو تو اس دنیا میں اس کے برے نتائج سے وہ بھی اسی طرح دوچار ہو گا جس طرح ایک بدنیّت شخص اس قسم کی غلطی کر کے دوچار ہوتا ہے۔ کسی کا اخلاص اس کی غلطی کے خلاف اس کا محافظ نہیں بن سکتا۔