Al-Risala · December 1980

The Book That Is Shaking The Communist world

Al-Risala, December 1980, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

(وہ کتاب جس نے کمیونسٹ دنیا کو ہلا دیا ہے) مگر ہم جانتے ہیں کہ عملاً جو کچھ ہوا وہ یہ کہ میلووان جیلاس جیل میں پڑے پڑے مر گئے اور کمیونسٹ دنیا بدستور اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے ۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میلووان جیلاس ناحق پر تھے اور کمیونسٹ دنیا حق پر۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ میلووان جیلاس کے پاس لفظی استدلال کی طاقت تھی۔ جب کہ کمیونسٹ دنیا سیاسی اور اقتصادی قوتوں سے مسلح ہے۔ جب بھی دو فریقوں میں اس قسم کا فرق ہو تو خواہ صداقت تمام تر فرق اول کی طرف کیوں نہ ہو، وہ عملی دنیا میں بے وزن ہو جاتا ہے اور کامیابی اس کو ملتی ہے جس نے مادی طاقتوں کا زور اپنے پاس جمع کر لیا ہو۔ انسان کا ضمیر سب سے زیادہ جس چیز کو وزن دیتا ہے وہ دلیل ہے۔ انسان کی پوری اندرونی ہستی کا تقاضا ہے کہ جو بات دلیل سے ثابت ہو جائے وہ حق ٹھہرے اور جس بات کے پیچھے دلیل نہ ہو وہ ناحق قرار پائے اس کو دنیا میں کوئی جگہ نہ ملے۔ مگر موجودہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے موجودہ نظام میں دلیل کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دلیل کے اعتبار سے بالکل خالی ہو کر خوبصورت الفاظ کا دریا بہا سکے۔ استدلالی جواز نہ رکھتے ہوئے بھی وہ زمین پر کھڑا ہونے کی کوئی بنیاد دلیل سے محروم ہونے کے باوجود وہ محض طاقت کے زور پر دنیا میں اپنی جگہ حاصل کرلے۔ انسان کے ضمیر اور واقعہ میں یہ تضاد بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا نا مکمل ہے۔ انسانی عقل اور انسانی ضمیر کے مطابق مکمل دنیا وہ ہوگی جہاں دلیل ہی سب کچھ ہو۔ اور بے دلیل ہونا اور بے قیمت ہونا دونوں ہم معنی

کہ جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونا چاہئے کا فرق ختم ہو جائے۔ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے وہی عملاً بھی دنیا میں قائم

آخرت اسی قسم کی ایک دنیا کا نام ہے۔ آخرت وہ مقام ہے جہاں دلیل اور معقولیت ہی کا نام طاقت ہوگا اور بے دلیل اور غیر معقول ہونا بے ہاقتی کے ہم معنی بن جائے گا۔ عزت اور سرفرازی صرف اس کو ملے گی جو حق کی زمین پر کھڑا ہو اور وہ شخص ذلیل اور حقیرون جائے گا جو نامعقولیت کے سہارے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔ "کیا ہے" اور "کیا ہونا چاہئے" کا یہ تضاد صرف انسانی زندگی میں پایا جاتا ہے۔ بقیہ تمام کائنات اس قسم کے تضاد سے بالکل خالی ہے۔ زمین و آسمان کا پورا نظام ٹھیک اسی طرح چل رہا ہے جیسا کہ اسے چلنا چاہئے، سورج اس صحیح ترین مقدار میں روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے جو انسان کو درکار ہے۔ پانی اور ہوا میں گیسوں کا تناسب عین ہماری ضرورت کے مطابق ہے۔ درخت ٹھیک اس فطرت پر اگتے اور بڑھتے ہیں جو ان کے لئے مقرر ہے۔ شہد کی مکھیاں فطرت کے عین نقشہ کے مطابق اپنا غذائی کارخاوہ چلاتی ہیں۔ غرض کائنات کا ہر جزو انتہائی معیاری صورت میں اپنا کام انجام دے رہا ہے۔ یہ صرف انسان ہے جس کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان ایک مکمل طور پر معیاری دنیا میں ایک مکمل طور پر غیر معیاری طریقہ اپنائے ہوئے ہے۔ طرف یہ کہ جو رویہ دنیا میں ہر چیز پابند ہے۔ یہ صرف انسان ہے جو یہاں خود مختار حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں حقیقتوں کو سامنے رکھے تو اس صورت حال کی سب سے زیادہ قابل فہم توجیہہ یہ بنتی ہے کہ موجودہ بقیہ کائنات سے مجبورانہ طور پر مطلوب ہے اسی رویہ کا ثبوت انسان کو آزادانہ طور پر دینا ہے۔ بقیہ کائنات کی فلاح یہ ہے کہ وہ محکومیت کی بنا پر محکوم رہے اور انسان کی فلاح یہ ہے کہ وہ آزاد ہوتے ہوئے خود اپنے ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم بنا لے۔

حق آدمی کے سامنے "دلیل" کی صورت میں آتا ہے، آدمی اس کو ٹھکرا دیتا ہے، بے معنی الفاظ بول کر وہ اسے رد کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس کے معاملات اور کاروبار میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ حال آدمی کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ حق اور ناحق کا معاملہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں ہے۔ اصل چیز مفادات اور مصالح ہیں اور مفاد اور مصلحت اگر محفوظ ہے تو کسی پریشانی میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ سب سے بڑا دھوکہ ہے جس میں کوئی انسان مبتلا ہوتا ہے۔ مفاد اور مصلحت تو وہ حالات ہیں جن میں کسی کا امتحان کیا جا رہا ہے نہ کہ وہ نتیجہ جو امتحان کی بنیاد پر کسی کو ملنے والا ہے۔ اس طالب علم سے زیادہ نادان کون ہوگا جو امتحان کے پرچہ کو اپنے "قبضہ" میں پا کر خوش ہو جائے اور یہ نہ سوچے کہ نہ اس پرچہ کے حل کے بارے میں کس قسم کی اہلیت کا ثبوت اپنے ممتحن کے سامنے پیش کر رہا ہے۔

Printed page