Al-Risala · December 1980

تنظیم

Al-Risala, December 1980, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا! اور ان میں بارہ نقیب مقرر کئے اور اللہ نے ان سے کہا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ، اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور میرے رسولوں کو مانو اور ان کی مدد کرو اور اللہ کو قرض حسن دو، اگر تم ایسا کرو تو یقیناً میں تمھاری برائیوں کو تم سے دور کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس اس کے بعد تم میں سے جس نے انکار کیا تو اس نے سواء السبیل کھو دی (مائدہ ۱۲)

ایک دانہ کے انور خدا نے ایک سرسبز و شاداب پودا چھپا رکھا ہے اور ایک گٹھلی کے اندر ایک پورا درخت موجود ہے۔ مگر یہ امکانات صرف اس وقت بروئے کار آتے ہیں جب کہ دانہ یا گٹھلی کو مٹی میں ڈالا اگر ان کو شیشہ کی میز پر سجا کر رکھ دیا جائے تو نہ دانہ سے پودا نکلے گا اور نہ گٹھلی کبھی درخت کی صورت اختیار کرے گی۔ اسی طرح اللہ نے دنیا کی ہر چیز کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ قاعدہ ہمیشہ کے لئے اٹل ہے۔ ہر چیز اسی مقررہ قاعدہ پر قائم ہوتی ہے اور اسی کے مطابق بڑھتی ہے۔ اگر اس قاعدہ کی خلاف ورزی کی جائے تو کبھی مطلوبہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ جو قوم آسمانی کتاب کی حامل ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا مخصوص ایسی قوم کس طرح زمین میں جڑ پکڑتی ہے اور دنیا و آخرت میں فلاح حاصل کرتی ہے، اس کا ضابطہ مذکورہ آیت میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس قرآنی ضابطہ کو یہاں سواء السبیل کہا گیا ہے۔ سواء السبیل (اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ) یہ ہے کہ آدمی دنیا میں ایک قسم کی پابند زندگی گزارے۔ وہ اس طرح رہے گویا کہ وہ خدا کے عہد کی رسی میں بندھا ہوا ہے، اس عہد کی زندگی کی پہلی شرط، ایمان کے بعد، یہ ہے کہ آدمی نماز قائم کرے یعنی اللہ کے آگے اپنے کو جھکا دے ، وہ اللہ کی قربت تلاش کرنے والا بن جائے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔ یعنی وہ دوسرے بندوں کا اس حد تک خیر خواہ ہو کہ اپنی کمائی میں ان کا لازمی حق سمجھنے لگے۔ یہ کہ اللہ کے دین کی دعوت کے معاملہ میں وہ غیر جانب دار نہ رہے ، بلکہ اس میں اپنے آپ کو پوری طرح شامل کرے ، وہ داعیان دین کی مدد کرے، اپنے بہترین اثاثہ کو اس کام کو مؤثر اور طاقت در بنانے میں لگا دے ۔ یہی وہ عہد کی زندگی ہے جو ہر فرد مسلم سے مطلوب ہے، اس زندگی کو اختیار کئے بغیر کوئی شخص خدا کی قربت و معیت حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اس قابل قرار پا سکتا کہ خدا اس کی مدد کرے۔

اس خدا پرستانہ زندگی کو اس کی صحیح صورت میں باقی رکھنے کے لئے تنظیم کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر مسلم معاشرہ

اپنا سر براہ مقرر کرے اور جب ان کا تقرر ہو جائے تو پسند ناپسند کو نظر انداز کر کے ان کی اطاعت کرے، نماز کی باقاعوہ اقامت ، زکوٰۃ کی اجتماعی وصولی اور تقسیم ، دعوت دین کا عمومی نظام ، سب اسی وقت بہتر طور پر ادا ہو سکتے ہیں جب کہ مسلمانوں کے درمیان اجتماعی نظم قائم ہو ، ان میں کچھ ایسے لوگ مقرر ہوں جو اس کی نگرانی کریں اور تمام لوگ اس کو ایک وہی فریضہ سمجھ کر اپنے سربراہوں کی اطاعت کریں۔

اس تنظیم سے مراد حکومتی تنظیم نہیں ہے۔ بلکہ وہ تنظیم ہے جو ہر حال میں مسلمانوں کے اپنے بس میں ہے، خواہ ان کے پاس سیاسی اقتدار ہو یا نہ ہو۔ اسلامی تنظیم حقیقتاً ایک عبادت ہے اور عبادت دینی مطلوب اور نتیجہ خیز ہے جو اختیاری طور پر نہ کہ کسی خارجی دباؤ کے تحت ۔ اسلامی تنظیم دراصل اس بات کی ایک دنیوی علامت ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خدا کے حکم کے حوالے کر دیا ہے۔ اسلامی تنظیم میں اپنے کو باندھنا یا خدائی اطاعت کے امتحان میں پورا اترنا ہے اور اسلامی تنظیم میں بندھنے کے لئے تیار نہ ہونا گویا اس خدائی امتحان میں ناکام ہو جانا ہے۔

مزید یہ کہ سیاسی اقتدار بذات خود تنظیم کے وجود کا ضامن نہیں ہے۔ حضرت عثمان رضیہ اور حضرت علی رضی کے زمانہ میں حکومتی اقتدار موجود تھا ، اس کے باوجود مسلمانوں کی تنظیم منتشر ہوگئی ۔ اسی طرح بعد کے دور میں بھی اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تنظیم سے مراد ویسی ہی ایک اختیاری تنظیم ہے جیسی کہ مسجد میں امام کی سربراہی میں نماز کی جماعت بندی کے لئے ہر روز ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی خاطر اپنی آزادی پر پابندی لگانا ہے۔ یہ تمام تر ایک اختیاری تنظیم ہے اور اس کا ثواب کسی آدمی کو صرف اس وقت ملے گا جب کہ اس نے اپنے آزاد ارادہ سے اس کی ماتحتی قبول کی ہو۔ جبر کے تحت قائم شدہ تنظیم محض دنیوی فائدے دے سکتی ہے مگر وہ آدمی کو خدا کے یہاں ثواب کا مستحق نہیں بناتی، نہ اس سے وہ برکتیں ظاہر ہو سکتیں جو حقیقی اسلامی تنظیم کے لئے خدا نے مقدر کی ہیں ۔

دور نبوت میں اس قسم کی تنظیم کی ایک مثال وہ ہے جو ابتدائی دور میں مدینہ میں اختیار کی گئی۔ سے پہلے مدینہ کے ۷۳ آدمی مکہ پہنچے اور آپ سے بیعت ہوئے ۔ اس وقت مدینہ میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی۔ مگر آپ نے بیعت کے بعد ان سے کہا کہ تم لوگ بارہ آدمی منتخب کر دو جن کو میں تمھارے اوپر نقیب (نگراں) بنا دوں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے اندر سے بارہ آدمی چنے ۔ آپ نے ان کو مدینہ کے مسلمانوں پر نگران مقرر فرمایا اور کہا کہ تم اپنی قوم کی اجتماعی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہو (انتم کفلاء علی قومکم) مسلمان عرب سے نکل کر جب مختلف ملکوں میں گئے تو اسی طرح دہ اپنی تنظیم بنا کر اس کی ماتحتی میں منظم زندگی گزارتے رہے۔ جب تک انھوں نے ایسا کیا ان کے اوپر خدا کا سایہ باقی رہا۔ جب انھوں نے تنظیمی پابندی قبول کرنے سے انکار کر دیا تو خدا کا سایہ بھی ان کے اوپر سے اٹھ گیا اور وہ دوسری قوموں کے حوالے کر دیئے گئے ۔

جو لوگ اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو ایک اسلامی تنظیم کا پابند کر لیں وہ اس بات کا ثبوت دیتے ہیں

کہ وہ بے نفس لوگ ہیں، انھوں نے اللہ کی خاطر اپنی انانیت کو ختم کر دیا ہے۔ اس طرح اپنے آپ کو بے نفس بنا لینا موجودہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔ اللہ کی نظر میں جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں ان کے لئے وہ اپنی ہر قسم کی نعمتیں انڈیل دیتا ہے، وہ دنیا میں بھی عزت اور غلبہ حاصل کرتے ہیں اور آخرت کی سرفرازی بھی ان کے لئے مقدر کر دی جاتی ہے۔ جو لوگ بے نفسی کی حد تک خدا کے فرماں بردار بن جائیں ان کے سامنے جب کوئی صحیح بات آتی ہے تو وہ فورا اُس کو مان لیتے ہیں۔ ان کا باہمی اتحاد کبھی وہیں ٹوٹتا۔ کے راستہ کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ ان کی بے نفسی ان کو ہر اس چیز کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے جو دنیا و آخرت میں برباد کرنے والی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کا راز بے نفسی ہے۔ اور کوئی آدمی بے نفس بنا ہے یا نہیں، اس کا سب سے بڑا ثبوت تنظیم کے ذریعہ ملتا ہے۔ تنظیمی زندگی میں اپنے کو باندھنا اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ آدمی نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ گیا ہو۔ وہ تنقید اور تعریف سے بلند ہو۔ وہ اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم نہ کرتا ہو۔ اس کا رویہ پسند ناپسند کی بنیاد پر نہ بنتا ہو۔ وہ اس سے بے نیاز ہو چکا ہو کہ اس کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا۔ تنظیمی زندگی میں اس طرح کے مواقع بار بار آتے ہیں۔ اگر آدمی ان چیزوں سے اوپر اٹھا ہوا نہ ہو تو وہ اسی قسم کی باتوں میں الجھ کر رہ جائے گا اور تنظیم کی پابندی کو قبول کرنے میں ناکام رہے گا۔

اللہ کے مومن بندوں پر اللہ کی روپ سے بڑی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں، وہ دنیا میں اپنے مخالفین کے مقابلہ میں خدا کی مدد سے غالب آتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد وہ جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیئے جاتے ہیں۔ اللہ کی یہ دونوں نعمتیں صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ کی خاطر اپنی انفرادیت کو ختم کرکے اجتماعیت کے بندھن میں بندھ جائیں اور اس کے تحت اپنی دینی اور اخلاقی زندگی کو منظم کریں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ میں اس طرح شامل کر لیں کہ اپنی انفرادیت کو وہ اس کے حوالے کر دیں، ان کی طاقت بے پناہ ہو جاتی ہے، کیوں کہ ان کے درمیان وہ تمام اسباب بالکل ختم ہو جاتے ہیں جو ایک کو دوسرے سے جدا کرنے والے ہیں۔ اجتماعیت کو توڑنے والی چیز انفرادیت پر اصرار ہے اور اپنی انفرادیت کو اللہ کے حوالے کرکے پہلے ہی وہ اس سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کا پورا گروہ ایک متحدہ طاقت میں ڈھل جاتا ہے۔ جہاں اتحاد ہو، وہاں مغلوبیت کا گزر نہیں۔

جو لوگ انفرادی قربانی کی سطح پر دین کو اختیار کر لیں، ان کی زندگی خدا رخی زندگی بن جاتی ہے۔ اس شاہ راہ پر چل پڑتے ہیں جو خدا کی قربت اور اس کی جنت کی طرف جانے والی ہے، ان کا سفر کبھی کھوٹا نہیں ہوتا، وہ کبھی راستہ کے دائیں بائیں نہیں مُڑتے۔ وہ دین کے سیدھے راستے پر چلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ خدا کی جنت میں پہنچ جاتے ہیں۔

Printed page