کمانے والا اپنے کو افضل نہ سمجھے
Al-Risala, December 1980, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا اور دوسرا بھائی گھر کے لئے کمائی کرتا تھا۔ کمائی کرنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی کہ وہ کام نہیں کرتا، مجھے کو تنہا دونوں کے لئے کمانا پڑتا ہے) آپ نے فرمایا : شاید تم کو روزی اسی کے سبب سے ملتی ہو (لعلک ترزق به ، رياض الصالحين صفحه ۳۵) کسی کی مدد کے لئے دوڑنا بہت بڑی عبادت ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مدینہ کی مسجد نبوی میں معتکف تھے ۔ ایک شخص آکر آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ چہرہ پر پریشانی کے آثار دیکھ کر آپ نے اس سے پریشانی کا سبب پوچھا ۔ اس نے جواب دیا : فلاں آدمی کا قرض میرے اوپر ہے ۔ اور اس قبر والے کی حرمت کی قسم ، میں وہ قرض ادا کرنے پر قادر نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا ، پھر کیا میں اس قرض خواہ سے بات کروں ۔ آدمی نے کہا ضرور ۔ آپ فوراً مسجد سے نکل کر چلنے لگے ۔ آدمی نے کہا ، آپ تو اعتکاف میں ہیں ، کیا آپ بھول گئے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا نہیں ، میں بھولا نہیں ہوں ۔ بلکہ میں نے اس قبر والے (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے ، اور یہ ابھی گویا کل کی بات ہے ، یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، کہ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کے لئے چلے اور اس میں پوری کوشش کرے تو اس کا یہ عمل دس سال اعتکاف کرنے سے بہتر ہے (من مشى فی حاجة أخيہ مبلغ فيها كان خيرا من اعتكاف عشر سنين، بيہقى)