دینے والے کو دیا جاتا ہے
Al-Risala, December 1980, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث قدسی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! خرچ کرو تو تمھارے اوپر خرچ کیا جائے گا (انفق یا ابن آدم ينفق عليك، رواه البخاری ومسلم) سب سے زیادہ ضرورت کے وقت سب سے زیادہ بے سہارا حضرت عمرؓ نے ایک روز کہا کہ رات میں نے ایک ایسی آیت پڑھی جس نے ساری رات مجھے سونے نہیں دیا : ايود احدكم ان تكون له جنة من نخيل واعناب . . . . . بقرہ - ۲۶۶ آپ نے لوگوں سے پوچھا، اس کا مطلب کیا ہے، کسی کے لئے یہ محض کھجوروں اور انگوروں کی مثال تھی کسی کے نزدیک یہ ایک پُر اسرار آیت تھی جس کے لئے صرف اللہ اعلم کہنا کافی ہو۔ مجلس میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بھی تھے جو چپکے چپکے کچھ کہہ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! کہہ اور اپنے کو حقیر نہ سمجھ ۔ انھوں نے کہا اس سے عمل مراد لیا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کیسے ۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا؛ ایک چیز میرے دل میں القا کی گئی میں نے کہہ دیا (رشیی القی فی روعی فقلتہ) حضرت عمرؓ نے کہا، اے میرے بھتیجے تو نے سچ کہا : متى يبا العمل، ابن آدم افقر ما يكون الى جنة اس آیت میں جو مثال دی گئی ہے ، اس سے عمل مراد اذا كبر سنه و كثرت عياله ، وابن آدم افتقر ما ہے ۔ انسان اس وقت باغ کا زیادہ محتاج ہوتا ہے يكون الى عمله يوم القيامة جب اس کی عمر بڑی ہو جائے اور اولاد زیادہ ہوجائے۔
اور انسان اپنے عمل کا زیادہ محتاج ہو گا قیامت کے دن، سب سے بڑا صدقہ وہ ہے جو سب سے کمزور پر کیا جائے حضرت سراقة بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ سب سے بڑا صدقہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا؛ اپنی اس لڑکی کے ساتھ سلوک کرنا جو بیوہ یا مطلقہ ہونے کی وجہ سے تمھاری طرف لوٹا دی جائے اور جس کے لئے کمانے والا تمھارے سوا کوئی نہ ہو ( ابتعث مبرد دقة ايت ليس لھا كاسب غيرك، ، ابن ماجه)