انفاق
Al-Risala, December 1980, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں انفاق پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے: تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی وہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے (آل عمران ۹۲) اور جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل کرتے ہیں، یہ خیال نہ کریں کہ یہ ان کے حق میں اچھا ہے، بلکہ یہ ان کے حق میں نہایت برا ہے، جس چیز میں وہ بخل کر رہے ہیں اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور زمین و آسمان کی وراثت اللہ ہی کے لئے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے (آل عمران ۱۸۰) اے ایمان والو، جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی۔ اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی دراصل ظالم ہیں (بقرہ ۲۵۴) جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور اس کی ہریالی میں سو دانے ہوں۔ اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے لئے وہ چاہتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے اور نہ دکھ دیتے ہیں، انھیں کے لئے اللہ کا ثواب ہے ان کے رب کے پاس، ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ نرم جواب دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ اور اللہ بے پروا اور نہایت تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو! احسان جتا کر اور دکھ دے کر اپنی خیرات کو اکارت نہ کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر کچھ مٹی ہو، پھر جب اس پر زور کا مینہ برسا تو مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں گے، اور اللہ منکروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے لئے اور اپنے دلوں کو ثابت کرکے خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو بلند زمین پر ہو، اس پر زور کی بارش ہوئی تو وہ دگنا پھل لایا اور اگر بارش نہ ہوئی تو پھوار ہی کافی ہے۔ اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اس باغ میں اس کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں، اور اس پر بڑھاپا آجائے اور اس کے بچے ضعیف ہوں، اس وقت بارش پر ایک بگولا پڑے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے۔ اللہ اس طرح اپنی باتیں تمھارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔ اے ایمان والوں! اپنے کمائے ہوئے پاک مالوں میں سے خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے
اور فضل کا۔ اور اللہ بہت وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بہت بڑی خوبی مل گئی ، اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (بقره ۴۹ - ۴۱) آخرت کی بہتر چیز دنیا کی بہتر چیز کی قیمت ہے۔ دنیا میں جب آدمی اپنی سب سے بہتر چیز کو اللہ کے لئے خرچ کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ آخرت کی سب سے بہتر چیز کو پانے کا حق دار بن سکے۔ میں آدمی کی سب سے زیادہ محبوب چیز مال ہے۔ جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ خالص خدا کے لئے اپنے محبوب مال کو خرچ کرے، وہ خدا کی رحمتوں کا مستحق نہیں ہو سکتا۔
جو آدمی اپنے کمائے ہوئے مال کو بچاتا ہے یا اس کو اپنی دنیا بنانے میں لگاتا ہے وہ بظاہر سمجھتا ہے کہ میں ہوشیاری کر رہا ہوں، میں اپنے مستقبل کو محفوظ کر رہا ہوں ۔ حالانکہ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اگر موت کے پردہ کو ہٹا دے اور پورے دائرہ حیات کے اعتبار سے اپنے معاملہ کو دیکھے تو اس کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں اپنا گھر بنا کر وہ آخرت کے طویل تر مرحلہ حیات میں اپنے کو بے گھر کر رہا ہے۔ وہ اپنے کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہا ہے کہ دنیا میں اس کی مال داری آخرت میں اس کے لئے بد ترین مفلسی بن کر اس سے لپٹ جائے ۔ آخرت میں جو کچھ کام آئے گا وہ دیا ہوا مال ہے نہ کہ دنیا میں جمع کیا ہوا مال۔
دنیا میں اللہ نے ایسی مثالیں قائم کردی ہیں جن سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ میں دانہ ڈالتا ہے تو ایک دانہ ایسے پودے کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس میں سات سو دانے ہوں ۔ اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کسی بندے کی محنت کا بدلہ دینے میں کتنا زیادہ فیاض ہے۔ یہی معاملہ وہ آخرت میں بھی اپنے وفادار بندوں کے ساتھ کرے گا ۔ اللہ کے لئے خرچ کرنا گو یا آخرت کی زمین میں ” دانہ“ ڈالنا ہے۔ آدمی مر کر وہاں پہنچے گا تو وہ دیکھے گا کہ اس کا خرچ کیا ہوا مال کس طرح بے انتہا اضافہ کے ساتھ اس کی طرف لوٹایا جا رہا ہے۔
خرچ کرنے والوں کی بقیہ قسموں کی مثالیں بھی اسی دنیا میں موجود ہیں۔
جو لوگ اپنا مال ” دکھاوے “ کے لئے خرچ کرتے ہیں یعنی بظاہر ان کا خرچ دین کی کسی مد میں ہوتا ہے مگر اس دینی مدد سے انہیں صرف اس لئے دلچسپی ہوتی ہے کہ اس میں نمائش کا پہلو ہے اور اس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دین کی خاموش مدد جس میں خدا کی رضا کے سوا کوئی اور پہلو نہ ہو اس میں وہ خرچ نہیں کرتے ۔ البتہ ایسی مدد جس میں شہرت وعزت کی چاشنی ہو اس میں خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسے نمائشی لوگوں کی مثال اس پتھر کی سی ہے جس کے اوپر اتفاقاً کچھ مٹی جمع ہو جائے اور اس کی وجہ سے وہاں اوپر اور پر کچھ سبزہ مگر جب تیز بارش آتی ہے تو ایسی مٹی سبزہ کو لئے ہوئے بہہ جاتی ہے اور اس کے بعد پتھر کا پتھر باقی رہتا ارسال (دسمبر ۱۹۸۰)
ہے، اسی طرح جو لوگ نمائشى جذبہ کے تحت خرچ کرتے ہیں ان کا معاملہ موجودہ استحقاق دنیا میں چھپا رہ سکتا ہے۔ مگر آخرت میں جب حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے گا تو ان کی نمائشى دین داری اچانک غائب ہو جائے گی اور وہ دھلے ہوئے پتھر کی طرح دین سے بالکل خالی نظر آنے لگیں گے۔
جو لوگ اپنی ساری کمائی صرف دنیا کی تعمیر میں لگاتے ہیں ان کے انجام کی مثال بھی اسی دنیا میں دیکھی جاتی ایک شخص نے باغ لگایا، اس کے بڑھاپے کی عمر تک باغ خوب سر سبز ہو گیا۔ پھلوں کا موسم آیا تو سارا باغ پھلوں سے لد گیا۔ عین اس وقت شدید اولہ باری ہوئی یا صحرائی طوفان اٹھا اور سارا باغ جھلس کر رہ گیا۔ زندگی کی کمائی سے آدمی ٹھیک اس وقت محروم ہو گیا جب کہ اس کو سب سے زیادہ اس کی ضرورت تھی۔ جو لوگ اپنی ساری طاقت اپنی دنیا بنانے میں لگاتے رہے وہ مرکز جب آخرت میں پہنچیں گے تو اچانک وہ دیکھیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ ہیں ۔ وہاں کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں۔
اللہ کی راہ میں دو بڑی مدیں ہیں۔ ایک خدا کے کمزور بندوں کی مدد کے لئے دینا، خواہ وہ اپنے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ دوسرے، خدا کے دین کی ضرورتوں میں دینا۔
یہ دینا بظاہمہ اگر چہ ایک انسان کو دینا ہے۔ مگر نیت کے اعتبار سے اس کا مقصد اللہ کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان اپنے کو ”دینے والے“ کی حیثیت میں پاتا ہے اور دوسرے کو ”پانے والے“ کی حیثیت میں تو اس کو وہ بھاری وقت یاد آجاتا ہے جب کہ وہ میدان حشر میں اس حالت میں کھڑا ہوگا کہ دینے کی سب چیزیں خدا کے اختیار میں ہوں گی اور وہ ہر تن محتاج بنا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوگا۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ جو کچھ وہ خدا سے اپنے لئے چاہتا ہے وہی وہ دوسرے کے لئے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایک علی دعا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ اگر آدمی کے اندر صحیح طور پر موجود ہو تو وہ کسی کو دینے کے لئے بہتر چیز چھانٹے گا۔ کیونکہ اصل مسئلہ سامنے کھڑے ہوئے انسان کا نہیں بلکہ خدا کا ہے۔ دیتے ہوئے اس کا جذبہ یہ نہیں ہوگا کہ وہ کسی کے اوپر احسان کر رہا ہے، کیونکہ وہ جو کچھ دے رہا ہے اللہ کے لئے دے رہا ہے، پھر اس کا احسان کس کے اوپر ہے۔ وہ جس کو دے گا اس کو اپنے سے کمتر نہیں سمجھے گا اور زبان سے اس کی دل آزاری کا کوئی کلمہ نہیں نکالے گا۔ معاملے کو خدا کا معاملہ سمجھنے کا ذہن اس کو ہر موقع پر متواضع بنائے رکھے گا حتیٰ کہ جب کوئی سائل اس کے دروازہ پر کھڑا ہوگا تو اس کو ایسا محسوس ہو گا جیسے اس کو خدا نے اپنی طرف سے بھیجا ہو۔ یہ احساس اس کو کسی کو جھڑکنے سے روک دے گا۔ اگر وہ کسی کو دینے والا نہ ہو تو وہ اس کو نرمی کے ساتھ جواب دے گا نہ کہ وہ اس کو جھڑکنے لگے۔ اللہ کے لئے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ فوراً دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے نفس بہکتا ہے کہ یہ بے فائدة دنیا کی راہ میں خرچ اس کو لوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور خدا کی راہ میں خرچ ضائع ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ جن لوگوں کو صحیح سمجھ حاصل ہو جاتی ہے وہ نفس کے ان بہکاووں میں نہیں آتے۔ وہ صاف جان لیتے ہیں کہ سب سے زیادہ نفع اور مدد ہی ہے جو خدا کی راہ ہے۔