کیا اس کا کوئی بنانے والا نہیں
Al-Risala, February 1980, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
آئزک نیوٹن (۱۶۴۲ء-۱۷۲۷ء) نے شمسی نظام کی حرکت کے اصول معلوم کئے اس نے شمسی نظام (سورج اور اس کے تابع سیاروں) کا ایک ماڈل بنوایا جو اس کی میز پر رکھا ہوا تھا ، کہا جاتا ہے کہ ایک روز نیوٹن کا ایک دوست اس کے کمرہ میں آیا جو خدا کے وجو د کو نہیں مانتا تھا۔ میز پر رکھے ہوئے ماڈل کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ نیوٹن کے نظریہ کے مطابق نظام شمسی کا ماڈل ہے۔ تاہم اس کے بنانے والے کا نام اس پر لکھا ہوا نہیں تھا۔ اس نے نیوٹن سے پوچھا: "یہ ماڈل کس نے بنایا ہے" نیوٹن کو یاد آ گیا کہ اس کا دوست یہ کہتا ہے کہ یہ دنیا خود سے بن گئی ہے ، اس کا کوئی بنانے والا نہیں ہے۔ اپنے دوست کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: "یہ ماڈل خود بخود بن گیا ہے ، اس کو کسی نے بنایا نہیں ہے! " دوست بولا "مذاق مت کرو، یہ بتاؤ کہ اتنا اچھا ماڈل کس نے بنایا ہے ، نیوٹن نے دوبارہ کہا: " اس کا بنانے والا کوئی نہیں، وہ اپنے آپ بن گیا ہے، دوست نے گھبرا کر کہا: " مذاق چھوڑ و، میری بات کا جواب دو کہ اس کو کس کاریگر نے بنایا ہے ؟ آخر نیوٹن نے کہا: " ’’تمہارے اوپر حیرت ہے۔ تم اس بات کو تو بغیر کسی بحث کے مان رہے ہو کہ شمسی نظام کا معمولی سا ماڈل کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بنا ہے ۔ ضرور اس کا کوئی بنانے والا ہے۔ مگر اس معمولی ماڈل کی عظیم اصل (شمسی نظام) کے متعلق تم نے یہ یقین کر لیا ہے کہ وہ اپنے آپ بن گیا ہے ، اس کا کوئی بنانے والا نہیں ؟