تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے
Al-Risala, February 1980, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
نارلیکر (پیدائش 1939) سے ایک انٹرویو میں کہا گیا کہ " مذہبی توہمات" کی پرستش میں سائنس داں دوسرے لوگوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ حتی کہ کتنے سائنس داں دیوتاؤں تک میں عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اس کے جواب میں عالمی شہرت کے سائنس داں ڈاکٹر نارلیکر نے جواب دیا : (ٹائمز آف انڈیا ۳۰ اپریل ۱۹۷۴) مجھے یہ بات بے حد ناپسند ہے۔ عملاً میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے سائنس داں ، جب اپنی تجربہ گاہ میں کام کر رہے ہوتے ہیں تو وہ سائنٹفک نقطہ نظر کو اپناتے ہیں ۔ مگر جب وہ اپنے گھر جاتے ہیں تو وہ سائنٹفک طریقہ کا بالکل استعمال نہیں مثال کے طور پر، مغرب کے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں میں جیو تش پر عقیدہ پھیل رہا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ انسان کی اس خواہش نے اس کو جنم دیا ہے کہ وہ آسان اور فوری تسکین کو پالے۔ یہ حقیقتاً ایک ذہنی سہارا ہے “ کوئی شخص خواہ جاہل ہو یا عالم ، کامیاب ہو یا ناکام ، زندگی میں اس کو بار بار ایسے مرحلے پیش آتے ہیں جہاں وہ اپنے عجز کا تجربہ کرتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بے بس وجود ہے۔ یہ چیز اس کو اپنے سے برتر ہستی کی تلاش کی طرف لے جاتی ہے جو اس کی کمیوں کا بدل بن سکے۔ مغرب کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ، جن کے لئے مادی مواقع کے تمام دروازے کھلے ہوتے ہیں ، وہ جب اپنی ’’ ذہنی تسکین ‘‘ کے لئے مابعد الطبیعاتی عقائد کا سہارا لیتے ہیں تو با اعتبار حقیقت یہ فرضی نہیں ہوتا۔ یہ دراصل اپنی فطرت کی خاموش پکار کا جواب ہوتا ہے۔ اگر چہ اپنی تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے وہ " جیو تش " جیسی توہماتی چیزوں میں اٹک جاتے ہیں - خدا کا وجود نہ صرف یقینی ہے بلکہ وہ انسان کے لئے اتنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر وہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا۔
ہر لوگوں کے ساتھ کافی وقت گزارتے تھے۔ اب تم اداس نظر آنے لگے ہو۔ اس نے جواب دیا " میرے اوپر دولت کی بجلی گری ہے ،، دولت نے مجھ کو نئے نئے مسائل میں الجھا دیا ہے۔ پہلے ہمارے بچے ہمارے پاس تھے، ہم ان کو دیکھ کر خوش آج ہم بچہ ہم سے دور ہے۔ کوئی یورپ امریکہ پڑھنے گیا ہوا ہے۔ کوئی دور کے کسی مقام پر ملازم ہے۔ جن بچوں کو پہلے ہم میاں بیوی دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہم ان کے سایہ کے لئے بھی ترستے ہیں۔ بھیڑوں کا فارم ہے تو خیال لگیا ہوا ہے کہ اتنی قیمتی بھیڑیں ہیں، پتہ نہیں ان کا کیا ہوا۔ ٹرک چل رہے ہیں تو اس کی فکر ہے کہ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔ میں تو ان کی پریشانی کہ ملازم کہیں گڑ بڑ نہ کر رہے ہوں۔ غرض جتنی زیادہ دولت ہے اتنی ہی زیادہ فکر ہے۔ سیل ٹیکس، انکم ٹیکس اور طرح طرح کے قانونی جھگڑے اس کے علاوہ ہیں۔ غرض زندگی لطف سے خالی ہو کر بس مسائل اور پیچیدگیوں کا مجموعہ بن گئی ہے ۔ یہ دولت آدمی کو سکون نہ دے بلکہ بے چین کر دے۔ اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ ـــــــــ وہ ایک بجلی ہے جو آدمی کے اوپر گر پڑی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خوشی کا کوئی تعلق دولت یا دنیوی اعزازات سے نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ پا کر بھی خوشی سے محروم رہتا ہے۔ ایک امریکی مصنفہ کٹی کیلی نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا نام ہے : آہ جیکی ۔ یہ جیکولین کینیڈی کے نجی حالات کے بارے میں ہے جو کہ کسی وقت امریکہ کی خاتون اول تھی۔ جیکولین قدرت سے ایک پرکشش نسوانی شخصیت لے کر اس کی شادی جان کینیڈی سے ہوئی جو بعد کو امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ ۲۳ نومبر ۱۹۶۳ کو جب صدر کینیڈی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تو اس وقت جیکولین کینیڈی دنیا کی سب سے زیادہ مشہور اور معزز خاتون بن چکی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے یونانی ارب پتی او ناسس سے شادی کی۔ یہ شادی میاں بیوی دونوں کے لئے خوش گوار ثابت نہ ہو سکی یہاں تک کہ ۱۹۶۸ میں اوناسس کا انتقال اس وقت ہو گا جب کہ جیکولین اس کے پاس موجود بھی نہ تھی۔
جیکولین کو ہر چیز ملی مگر اس کو خوشی نہ مل سکی۔ مصنفہ کے الفاظ میں، جیکولین نے خوشی حاصل کرنے کی بابت اپنی ناقابل علاج خواہش کو خرید کر حاصل کرنا چاہا خواہ اس کی قیمت تین ہزار ڈالر فی گھنٹہ دینی پڑے۔ اس کے باوجود وہ خوشی حاصل نہ کر سکی :
--- AN INCURABLE DESIRE TO BUY HAPPINESS, EVEN IF IT MEANT SPENDING AS MUCH IN ONE HOUR AS 3000 DOLLARS. Jackie Oh: An Intimate Biography, By Kitty Kelley, Vikas, New Delhi, 1979, pp. 336