الرسائل فروری ۱۹۸۰ء | ۱۳
Al-Risala, February 1980, pp. 14–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸ - ۱۸۷۷) ایک آفاقی شاعر تھے۔ نہ صرف چین و عرب بلکہ سارا جہان ان کا وطن تھا۔ سبق تھا: زمانہ باتو نسازد تو با زمانہ ستیز از زمانہ اگمرتم سے موافق نہ کرے تو اس سے لڑکر زمانہ کو اپنے موافقت بناؤ) انھوں نے ممسلمانوں کو اس قسم کے نغمے دئے:
کافر کی یہ تعریف کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ تعریف کہ گم اس میں ہیں آفاق مگر یہی اقبال تھے جنھوں نے ۱۹۳۱ میں ملک کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔ شاعری کی دنیا میں اقبال سارے آفاق کو اپنے اندر گم کئے ہوئے تھے۔ مگر عمل کی دنیا میں وہ پوری زمین تو درکنار ایک ملک کو بھی اپنے اندر گم کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔ کے کنارے ایک ایسا چھوٹا ٹکڑا حاصل کرنے پر قانع ہو گئے جہاں سلمان پہلے سے اپنی عددی اکثریت کی بنا پر غالب ہوں۔ جو شاعری کی سطح پر یزداں بکند اور اے ہمت مردانہ کا ترانہ گا رہا تھا وہ عمل کی سطح پر ملک کے اکثریتی فرقہ کو بھی اپنے اندر ضم کرنے کا منصوبہ نہ بنا سکا۔ اس نے نجات کی صورت اس کی سمجھ میں صرف یہ آئی کہ مبوارہ کر کے اپنے لئے علیحدگی کا ایک گوشہ یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان مفکرین اور مصلحین کا حال نظر آتا ہے۔ تقریر اور تحریر میں ان کی منزل چرخ نیلی فام سے بھی پرے ہوتی ہے۔ الفاظ کی دنیا میں آسمان کے ستارے بھی ان کی گرد راہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر عمل کی سطح پر آتے ہی ان کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے ایک پھولا ہوا غبارہ تھا جو واقعات کی چٹان سے ٹکرا کر ختم ہو گیا۔ مولانا محمد علی جوہر (۱۹۳۱ - ۱۸۷۸) عالمی اسلامی خلافت کے لئے اٹھے۔ ان کی شان دار اسلامی تقریروں سے ایک پورا براعظم گونج اٹھا۔ شعر کی فضاؤں میں وہ یہ بندہ دو عالم سے خفا تیرے لئے ہے، کی سطح پر پرواز کر رہے تھے۔ مگر ترکی کے مصطفی کمال پاشا نے 1921 میں خلافت کا ادارہ ختم کر دیا تو ان کی قیادت بے زمین ہو کر رہ گئی۔ اس کے بعد ان کے لئے کرنے کا کام اس کے سوا کچھ اور نہ رہا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ایک مشترک وطن کی آزادی پر قربان کر دیں۔ جو شخص عالمی اسلامی خلافت پر جان دینے کے لئے اٹھا تھا اس نے ایک ایسی وطنی آزادی پر جان دینا پسند کر لیا جو عملاً مسلم اقلیت کے اوپر غیر مسلم اکثریت کے غلبہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ اسلامی خلافت کا مینار گاندھیائی خلافت کی بنیاد کی ایک اینٹ بن کر رہ گیا۔ آزاد (۱۹۵۸ - ۱۸۸۸) نے اپنی زندگی کا آغاز الہلال (اور البلاغ کی پر شور تحریروں اور مسلم اجتماعات میں اپنی عالی شان تقریروں اس وقت وہ قرآن سے کم کسی چیز پر راضی ہونے والے دکھائی نہ دیتے تھے۔ انھوں نے پیغمبرانہ زبان، میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ وہ خدا کی کتاب لے کر اٹھیں اور خیر الامم کا تاج اپنے سر پر رکھ کر سارے عالم کے لئے آفتاب و ماہتاب بن جائیں۔ مگر قرآنی انقلاب کا پیغام دینے والا بالا آخر ہندوستانی قومیت کا پیغام دینے والا بن گیا۔ وہ شخص جس نے حزب اللہ کے قیام کو اپنا مقصد بتایا تھا وہ حزب الوطن کی سطح پر آکر ٹھہر گیا، ۱۹۴۰ میں ان کی دعوت پر سارے ملک کے مسلمان لکھنؤ کنونشن میں جمع ہو گئے ۔ مگر اس نازک تاریخی موڑ پر مولانا ابوالکلام آزاد کے پاس ہندوستانی مسلمانوں کے لئے جو پیغام تھا وہ صرف یہ کہ سارے مسلمان انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہو جائیں۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹) کی مثال اور بھی زیادہ عبرت ناک ہے۔ انھوں نے اپنی تحریک کی بنیاد حاکمیت خدا پر رکھی۔ انھوں نے کہا کہ زمین پر صرف خدا کے قانون کی حکمرانی قائم ہونی چاہئے۔ اس کے سوا جتنے قانون انسان نے بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ مسلمان کے لئے ایسی زندگی حرام ہے جبکہ وہ غیر خدائی قانون پر راضی ہو جائے۔ اس کو یا تو خدا کے قانون کو نافذ کرنا ہے یا اس کے نفاذ کے لئے لڑتے ہوئے مر جانا ہے: ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون - - - هم الفاسقون - - - هم الظالمون (جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں، وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں) مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا کہنا تھا کہ غیر خدائی قانون کو بنانے والا قانون ساز، اس کے تحت فیصلہ کرنے والا جج، اس کو نافذ کرنے والی حکومت، سب کے سب فعل حرام کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک شخص مسلمہ طور پر مجرم ہو اور اس کو انسانی قانون کے تحت سزادی جائے تب بھی وہ جرم کی سزا نہیں ہوتی بلکہ خود ایک جرم ہوتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی زمین پر کسی کو طے کرنے کا حق نہیں کہ کسی جرم پر کسی کو کیا سزا دی جائے کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بطور خودکسی سزا کو نافذ کرے۔ گویا کہ وہ شخص جو انسانی قانون کے تحت ایک قاتل کو قتل کرتا ہے وہ خود بھی ایک قاتل ہے۔ کیوں کہ اس نے خدا کی زمین پر خدا کی اجازت کے بغیر خدا کی پیدا کی ہوئی ایک جان کو ہلاک کیا۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ساری عمر قانون اسلامی کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے۔ عمر کے آخری حصہ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ۵ جولائی ، ۱۹۷۷ کو پاکستان میں فوجی انقلاب آیا اور جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں ایسی حکومت قائم ہو گئی جس کو نہ صرف مولانا مودودی کی مکمل تائید حاصل تھی بلکہ ان کی اپنی جماعت کے کئی افراد اس میں ذمہ دارانہ مناصب پر فائز تھے، اس حکومت کے تحت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ چلایا گیا جو خود مولانا مودودی اور ان کی جماعت کے مطالبہ ” پہلے احتساب پھر انتخاب “ کے مطابق تھا۔ ان کے لئے پورا موقع تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کو شرعی قانون کی عدالت میں کھڑا کریں اور اسلامی احکام کے مطابق ان پر باقاعدہ مقدمہ چلائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ ساری دنیا کے سامنے اسلام کی وہ ” عملی شہادت “ پیش کر دیتے جس کے وہ زندگی بھر مبلغ رہے تھے اور جس کے بغیر ان کے نزدیک دعوت اسلامی کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی پوری جماعت کی مکمل تائید و حمایت سے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے تحت چلایا گیا۔ پاکستان میں اس وقت تین قسم کی عدالتیں ہیں۔ ایک فوجی عدالت، دوسرے شرعی عدالت، تیسرے برطانوی قانون کے تحت قائم شدہ عدالت جو تقسیم کے پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ وہ مسٹر بھٹو کے مقدمہ کو شرعی عدالت میں جاری کرا سکتے بالفرض اگر شرعی عدالتوں کے اختیارات محدود ہوں تو صدارتی فرمان کے ذریعہ اس کے اختیار کو وسیع بنا کر اور حسب ضرورت قاضیوں کا تقرر کر کے یہ کام عمل میں آ سکتا تھا۔ مگر یہ سب کچھ نہیں کیا گیا ۔ حتیٰ کہ مولانا مودودی یا ان کی جماعت کے کسی شخص نے اس کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ مسٹر بھٹو کا مقدمہ ، شرعی عدالت کو چھوڑ کر، اس عدالت کے زیر سماعت لایا گیا جو برطانوی قانون پر مبنی چلی آ رہی ہے۔ مسٹر بھٹو پر قتل کا الزام تھا جس کے لئے واضح قوانین اسلامی شریعت میں موجود ہیں۔ مگر ان کا مقدمہ جانتے بوجھتے برطانوی قانون تعزیرات کے تحت چلایا گیا نہ کہ اسلامی قانون تعزیرات کے تحت۔
پاکستان کا یہ مشہور ترین مقدمہ مولانا مودودی کی مکمل تائید و حمایت کے تحت چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ۴ اپریل ۱۹۷۹ کو
مسٹر بھٹو کو پھانسی دے دی گئی جب کہ مولانا مودودی زندہ سلامت موجود تھے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے نظریہ کے مطابق یہ ساری کارروائی تحاکم الی الطاغوت (اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے اس حاکم کے پاس جانا جو قانون الہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو) کی مصداق تھی۔ وہ مکمل طور پر غیر اسلامی تھی۔ کیوں کہ وہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے تحت عمل کے لائی گئی۔ مگر مولانا مودودی نے نہ صرف یہ کہ اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا بلکہ اس کی پوری تائید کرتے رہے۔ وہ شخص جس نے اس عنوان سے شہرت پائی کہ وہ اس اصول کا سب سے بڑا مبلغ ہے کہ خدا کے نازل کردہ قانون کے سوا کسی اور قانون پر فیصلہ کرنا کفر اور ظلم اور فسق ہے، یہ طاغوتی عدالت کے پاس اپنے معاملات کے فیصلے کے لئے جاتا ہے جو سراسر ایمان کے منافی ہے۔ جو اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس اصول پر سمجھوتہ کرنے کے کسی طرح راضی نہ تھا۔ اس نے خود اپنے اختیار سے اس اصول کو دفن کر دیا۔ نے اپنی پوری تائید اور اہتمام کے ساتھ غیر خدا کے بنائے ہوئے قانون کے تحت ایک مشہور ترین "مجرم" پر مقدمہ چلوایا اور اسی غیر خدائی قانون کے مطابق اس شخص کو پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا گیا۔ وہ شخص جو ساری عمر خدائی قانون کے نفاذ کی تحریک چلاتا رہا، پہلا موقع ملتے ہی اس نے اپنے عمل سے یہ گواہی دی کہ ملک کے لئے یا کم از کم اس کے اپنے مقصد کے لئے سب سے زیادہ کار آمد قانون وہ ہے جو انسان کا بنایا ہوا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے قائدین نے بڑی بڑی اسلامی تحریکیں اٹھائیں۔ مگر وہ اپنی تحریک کی آپ تردید کرتے رہے۔ پھر جولوگ اپنی تردید آپ کریں وہ اپنے باہر کس طرح اس کو نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کی ایک انوکھی خصوصیت ہے۔ وہ شان دار کامیابی حاصل کرنے کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں اسلام پسند مفکرین کا کہنا تھا کہ ملک کے ۹۹ فی صد لوگ اسلامی نظام چاہتے ہیں، صرف بھٹو جیسے چند لوگ ہیں جو اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر ان تھوڑے سے لوگوں کو میدان سے ہٹا دیا جائے اور اس کے بعد عوامی انتخاب ہو تو سارے لوگ اسلام کو ووٹ دیں گے اور اسلامی نظام کے سوا کوئی دوسری چیز قائم نہ ہو سکے گی۔ بے شمار ناقابل بیان قربانیوں کے بعد" بھٹوؤں " کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی مفکرین کے پسندیدہ حکمراں جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ وہ ۱۸ اکتوبر ۱۹۷ کو پاکستان میں عام الکشن کرائیں گے۔ پھر اس کو ملتوی کرکے ۷ ار نومبر ۷ ۱۹۷ کی تاریخ الیکشن کے لئے مقرر کی گئی جو دوبارہ منسوخ کر دی گئی۔ دونوں بار جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ چون کہ "ثبت نتائج " کی امید نہیں اس لئے الیکشن ملتوی کئے جاتے ہیں۔ خاتمہ پر پاکستان میں اسلام پسند عام الفتح (۱۹۷۷ ء) منا چکے تھے۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ عوامی رائے کے ذریعے ان کے لئے اقتدار پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ ابتدائی اندازہ کرنے کے لئے ملک میں بلدیاتی الیکشن (ستمبر ۱۹۷۹) کرایا گیا ۔ مگر ہر قسم کی پابندیوں کے باوجود "بھٹو پارٹی " نے ۸۰ فی صد نشستوں پر قبضہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد عام انتخابات کا منصوبہ مستقل طور پر ختم کر دیا گیا۔ شاندار فتح حاصل کرنے کے باوجود صرف شان دار نا کا می اسلام پسندوں کے حصہ میں آسکی۔ اب پاکستان میں جو " اسلام پسند " حکومت قائم ہے وہ صرف جبر کے زور پر قائم ہے نہ کہ عوامی تائید کے زور پر۔
اب ایران کی مثال لیجیے۔ شاہ محمد رضا پہلوی نے جب جنوری1979میں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ملک کو چھوڑا اور فروری ۷ ۱۹۷۹ میں آیات اللہ روح اللہ خمینی فاتحانہ انداز سے تہران کے ہوائی اڈہ پر اترے تو اسلام پسندوں نے اس کو ایسا انقلاب قرار دیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مگر بے مثال کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ایران کو نئے انقلاب نے
نتائج سے لوگ بہت غیر مطمئن ہے۔ ہر طرف انتشار اور بد نظمی پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کے اسلامی انقلاب کا وہ پھل لوگوں کو نہیں ملا جس کا ان سے انقلاب سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو اندیشہ کر رہے ہیں کہ ایران کے لیے بہت مشکل ایام آنے والے ہیں۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آیات اللہ خمینی جن کی عمر دس سال ہو چکی ہے، اس کے جواب میں کہتے ہیں : "ہم اس بچے کی طرح ہیں جس کی عمر ابھی صرف چھ ماہ ہے ۔ ہمارے اسلامی انقلاب کی عمر صرف چھ مہینے ہیں۔ ہم اپنے سفر کے آغاز میں ہیں۔ آپ ایسے بچے سے کیا امید کر سکتی ہیں جس کی عمر ابھی صرف چھ مہینے ہو ٹائمز آف انڈیا ۱۸ نومبر ۱۹۷۹ء )
ایران کے اسلامی لیڈر کا یہ جواب صرف اس بات کا اقرار ہے کہ ان کا انقلاب شان دار کامیابی کے باوجود صرف شاندار ناکامی تک پہنچا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک " بچہ" ہوتی ہے، انقلاب کبھی بچہ" نہیں ہوتا۔ انقلاب تو کسی تحریک کے کمسن عمر کو پہنچنے کا نام ہے۔ پھر وہ بچہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ وہ انقلاب جو انقلاب کے مرحلہ میں پہنچ کر بچہ ہو وہ انقلاب ہی نہیں۔ صرف ایک ہٹرونک ہے جس کو غلطی سے انقلاب کا نام دے دیا گیا ہے ــــــــــ یہی وجہ ہے کہ الہی خلافت کے نام پر اٹھنے والے جب اقتدار پاتے ہیں تو فوراً انسانی آمریت قائم کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ملک کے مایوس اور ناراض عوام کے درمیان اپنی زندگی کی کوئی صورت انھیں آمریت کے سوا نظر نہیں آتی ۔ " اسلامی نظام" قائم کرنے کے دعوے دار بالآخر "غیر اسلامی نظام" قائم کرکے اس کے سایہ میں بیٹھ جاتے ہیں ۔
موجودہ زمانہ کے انتہائی بڑے بڑے اسلامی مفکرین و مصلحین کا یہ عبرت ناک انجام کیوں ہوا۔ اس کے اسباب کو مختلف طریقوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک مشترک سبب یہ ہے کہ یہ تمام مفکرین دراصل رومانی مفکرین تھے نہ کہ حقیقت پسند مفکرین ، اور رومانی دنیا میں جو خیالی محل بنایا گیا ہو وہ حقیقت کی دنیا میں کوئی واقعی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ ( Romanticism) جو اٹھارویں صدی سے لے کر جنگِ عظیم اول تک ایک خاص صورت رہی ہے۔ یورپ میں پائی جاتی تھی ، وہی انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم مفکرین پر اپنے حالات کے لحاظ سے چھاتی رہی ہے۔ ہر قوم جس کا ایک شان دار ماضی ہو اور پھر وہ زوال کا شکار ہو جائے ، اس کے بعد جب اس کے درمیان احیار نو کی تحریک اٹھتی ہے تو اس میں خوش خیال مفکرین کثرت سے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصوراتی ماضی کے زیر اثر اپنے مستقبل کے بارے میں حسین خواب دیکھتے ہیں جو ہمیشہ مبالغہ آمیز حد تک خیالی ہوتا ہے۔ حقیقی دنیا میں کوئی واقعہ پیدا کرنے کے لئے لمبا وقت اور خشک عمل درکار ہوتا ہے۔ جب کہ خیالی دنیا میں شان دار قلعہ کھڑا کرنے کے لئے الفاظ بول دینے کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ اس لئے ماضی اور مستقبل کے درمیانی فاصلہ کو طے کرنے کے لئے الفاظ کے بڑے بڑے پل بننے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے دور میں حقیقت پسندانہ بات کرنے والے کی کوئی قدر نہیں ہوتی البتہ آنے والے مستقبل کا جو شخص جتنا زیادہ مبالغہ آمیز نقشہ دکھائے اتنا ہی زیادہ وہ عوام میں مقبول ہو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام مفکرین خوش خیالیوں کا محل کھڑا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اور جس کا ۱۴ | رسال فروری ۱۹۸۰ء
فرضی محل جتنا زیادہ شان دار ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ بھیڑ اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی بھیڑ تخریبی نوعیت کا کوئی’’انقلاب‘‘ برپا کرنے میں ممکن ہے کامیاب ہو جائے۔ مگر وہ تعمیری نوعیت کا انقلاب لانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ تخریبی انقلاب کے لئے تو کسی’’بھٹو‘‘ یا کسی’’شاہ رضا‘‘ کا گلا گھونٹ دینا کافی ہے۔ مگر تعمیری انقلاب کے لئے’’مارنا‘‘نہیں بلکہ’’زندہ کرنا‘‘پڑتا ہے۔ اس کے لئے ہوش درکار ہے نہ کہ جوش۔ اس کے لئے حقیقت پسندی درکار ہے نہ کہ خوش خیالی۔ تعمیری انقلاب کے لئے لمبی خاموش جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لئے مثبت عوام درکار ہوتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے مطابق حقائق وواقعات کی زمین فراہم کی جائے۔ مگر یہ وہ چیزیں ہیں جو خوش خیال مفکرین کے یہاں سرے سے موجود نہیں ہوتیں۔ ان کا سرمایہ ہوتا ہے ۔ غلو، نقالی، خیال آرائی، شاعرانہ بلند پروازی۔ اور ظاہر ہے کہ حقیقت کی دنیا میں ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں۔ ان کا خیالی محل اپنے لئے حقیقی زمین نہ پا کر اچانک منہدم ہو جاتا ہے ۔
اوپر کی گفتگو کا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ زمانہ کے ان اسلامی مفکرین و مصلحین نے کوئی مفید کام نہیں کیا۔ ہر تحریک میں کچھ نہ کچھ مفید پہلو ہوتے ہیں اور ان کی تحریکوں کے دوران بھی بلاشبہ کئی مفید کام انجام پائے۔ مگر یہ تحریکیں مجموعی طور پر اثمهما اکبر من نفعھما (ان کا نقصان ان کے نفع سے زیادہ ہے) کا مصداق تھیں۔ اور سب سے بڑا نقصان جوان تحریکوں کے ذریعہ امت مسلمہ کو پہنچا وہ ذہنی بگاڑ تھا۔ یہ براہ راست طور پر انہیں تحریکوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں دنیا کی تمام قوموں سے زیادہ جذباتی اور غیر حقیقت پسند ہو کر رہ گئے ہیں۔ کوئی تحریک جو انسانی معاشرہ میں اٹھے ، ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقررہ عملی نشانہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو۔ تاہم عملی نتیجہ نہ پیدا کر کے بھی وہ ایک نتیجہ لازماً پیدا کرتی ہے، اور وہ فکری نتیجہ ہے۔ ہر تحریک کم از کم اپنے متاثر ہونے والوں میں، سوچنے کا ایک ڈھنگ، رائے قائم کرنے کا ایک طریقہ، معاملات کے بارے میں فیصلہ کا ایک ذہن دیتی ہے۔ اس لئے کسی تحریک کی قدر و قیمت کو اس اعتبار سے متعین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عملی طور پر اپنی مقررہ منزل تک پہنچی یا نہیں۔ بلکہ کسی تحریک کی قدر و قیمت کو جانچنے کا اصلی معیار یہ ہے کہ اس نے جن افراد کو متاثر کیا ان کے اندر اس نے کس قسم کا فکری مزاج پیدا کیا۔ اعتبار سے موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے قوم کی قوم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے مفکرین و مصلحین کا ایک طبقہ وہ ہے جس کا تمام تر سرمایہ بڑے بڑے الفاظ تھے۔ اس نے شاعرانہ ترنگوں، جوشیلی تقریروں اور خطیبانہ تحریروں کے ذریعہ اپنی تحریکیں چلائیں۔ الفاظ کے زور پر واقعات بتا دینا نہیں ہو سکتے تھے۔ ان تحریکوں نے قوم کے افراد کو صرف جذباتی بنانے میں مدد دی۔ لوگ الفاظ کو واقعہ کا بدل سمجھنے لگے۔ حقیقت پسندانہ طرز فکران سے خیال آرائیوں سے وہ اُس نتیجہ کی امید کرنے لگے جو اس دنیا میں صرف حقیقی عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ طرف نہ مفکرین تھے جو خود بھی غلو کا شکار ہوئے اور اپنے افکار سے دوسرے بہت سے لوگوں کو غلو کا شکار کیا۔ وہ سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ ملت کا مستقبل برآمد کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کی غلو پسندی صرف سیاسی عمل پر قانع نہ ہوئی۔ انھوں نے اپنے سیاسی عمل کو جائز ثابت کرنے کے لئے پورا سیاسی فلسفہ بنایا، حتی کہ خود قرآن و اسلام کو سیاسی بنا ڈالا۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے ان کے لئے خدا کا دین ایک قسم کا سیاسی نظریہ بن کر رہ گیا۔ وہ بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ انھوں نے مکمل اسلام کو پالیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے جس اسلام کو پایا اس میں سب کچھ تھا مگر وہی چیز نہ تھی جو اسلام کا اصل مقصود ہے۔ تعلق باللہ اور خوف آخرت۔
کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں حجت کی۔ کیوں کہ اللہ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ میں یہی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ سورج کو پورب سے نکولتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا موجودہ زمانہ میں عوامی تائید سے حکومت کا استحقاق حاصل ہوتا ہے۔ مگر جمہوریت کے دور سے پہلے اکثر بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا انسانی پیکر ہیں۔ قدیم عراق کے بادشاہ نمرود کا معاملہ بھی تھا جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا۔ اس کی قوم سورج کو دیوتاؤں کا سردار مانتی تھی۔ اور اس کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نے کہا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس لئے وہ لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا خدائی حق رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے اس وقت کے عراق میں جب توحید کی آواز بلند کی تو اس کا سیاست و حکومت سے براہ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ آپ لوگوں سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے۔ کوئی نہیں جو خدائی میں اس کا شریک ہو۔ اس لئے تم اسی کی عبادت اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں قائم کرو۔ تاہم اس غیر سیاسی دعوت میں نمرود کو اپنی سیاست پر زد پڑتی ہوئی نظر ایسا عقیدہ جس میں سورج کو ایک بے زور بندہ بتایا گیا ہو وہ گویا اس اعتقادی بنیاد ہی کو ڈھا رہا تھا جس کے اوپر نمرود نے اپنا سیاسی تخت بچھا رکھا تھا۔ اس وجہ سے وہ آپ کا دشمن ہو گیا۔
حضرت ابراہیم نے نمرود سے جو گفتگو کی اس سے انبیار کا طریق دعوت معلوم ہوتا ہے۔ نمرود کے سوال کے جواب میں آنجناب نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ نمرود نے مناظرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موت اور زندگی پر تو میں بھی اختیار رکھتا ہوں۔ جس کو چاہوں مروادوں اور جس کو چاہوں زندہ رہنے دوں۔ کا جواب دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے گفتگو کو مناظرہ بنانا پسند نہ کیا، اس لئے آپ نے فوراً دوسری مثال پیش کر دی جس کے جواب میں نمرود اس قسم کی بات نہ کہہ سکتا تھا جو اس نے پہلی مثال کے جواب میں کہی۔ حضرت ابراہیم کے لئے نمرود حریف نہ تھا بلکہ دعوکی حیثیت رکھتا تھا اس لئے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ استدلال کا کون سا حکیمانہ انداز ان کا اختیار کرنا چاہئے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ایک ہی چیز کو آدمی دو مختلف معنوں میں لے۔ مثلاً ایک شخص کے پاس دولت اقتدار آ جائے تو وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نظر آئے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھے کہ اس کو محسوس ہو کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ سراسر خدا کا انعام ہے۔ پہلی صورت ظلم کی صورت ہے اور دوسری شکر کی صورت۔ جس شخص کے اندر ظالمانہ مزاج ہو اس کے لئے موجودہ دنیا صرف گمراہی کی خوراک ہوگی۔ اس کو ہر واقعہ میں گھمنڈ اور خود پسندی کی غذا ملے گی۔ اس کے برعکس جس کے اندر شکر کا مزاج ہوگا، اس کے لئے ہر واقعہ میں ہدایت کا سامان ہوگا۔ خدا کی دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے لئے رزق ایمانی کا دستر خوان بن جائے گی۔
یا جیسے وہ شخص جس کا گزر ایک بستی پر سے ہوا۔ اور وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی تھی۔ اس نے کہا: ہلاک ہو جانے کے بعد اللہ اس بستی کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا۔ پھر اللہ نے اس پر سو برس تک کے لیے موت طاری کر دی ۔ پھر اس کو اٹھایا۔ اللہ نے پوچھا تم کتنی دیر اس حالت میں رہے۔ اس نے کہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم۔ اللہ نے کہا نہیں بلکہ تم سو برس اب تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ سڑی نہیں ہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو۔ اور تاکہ ہم تم کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں۔ اور ہڈیوں کی طرف دیکھو، کس طرح ہم ان کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں۔ پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پس جب اس پر واضح ہو گیا تو کہا میں جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، مجھ کو دکھادے کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ اللہ نے کہا، کیا تم نے یقین نہیں کیا۔ کہا کیوں نہیں ، مگر اس لیے کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے۔ فرمایا تم چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلا لو۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ پہاڑی پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ۔ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ اور جان لو کہ اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے ۔ یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ غالباً حضرت عزیرؓ کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیمؑ سے تعلق رکھتا ہے جن کا زمانہ ۱۹۸۵۔ ۲۱۶۰ ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں، اس لئے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کر کے دکھائی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لئے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس لئے ہوتا ہے تاکہ وہ ان چیزوں کے ذاتی مشاہدہ بن کر ان کی بابت لوگوں کو باخبر کر سکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبر دار کر رہے ہیں نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔
انبیاء کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے۔ نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی لوگوں کے سامنے اس طرح گزرتی ہے کہ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تقریباً نصف صدی تک ماحول کے اندر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دینے کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے سامنے ان غیبی حقیقتوں کے اعلان کے لئے کھڑا کرے جن کو آزمائش کی مصلحت کی بنا پر لوگوں سے چھپا دیا گیا ہے۔ ماحول کے یہ سب سے زیادہ سچے لوگ ایک طرف اپنے مشاہدہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف عقل اور فطرت کے شواہد سے اس کو مدلل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انبیاء کو ہمیشہ شدید ترین حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرتے نہیں وہ انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، اس میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ فرضی طور پر انہوں نے کوئی بات نہیں گھڑی ہے۔ کیوں کہ گھڑی ہوئی بات کو پیش کرنے والا کبھی اتنے سخت حالات میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور نہ اس کی بات خارجی کائنات سے اتنا زیادہ مطابق ہو سکتی ہے کہ وہ سراپا اس کی تصدیق بن جائے۔
رہب کے پاس ان اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے ستانا ہو۔ اور اللہ بے نیاز ہے، تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو احسان رکھ کر اورستا کر اپنے صدقہ کو ضائع نہ کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ پس اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور اس کو بالکل صاف کر دے۔ ایسے لوگوں کو اپنی کمائی کا کچھ بھی ہاتھ نہ لگے گی۔ اور اللہ منکروں کو راہ نہیں دکھاتا۔ ۴ - ۲۶۱ ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی "زمین" میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس لئے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کئے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس لئے تھا کہ اللہ اس کو دیکھے" تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میں اپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔ دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت و عزت کے لئے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لئے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لئے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنے یانہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتا تو وہ اس سے برا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کر دیتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے زبان روکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
پتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپر ی تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری لئے دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کر دے یا کسی کی طرف سے ذراسی بات سامنے آجائے، تو اس کی شرافت لگانے والی مورتی ٹوٹ کر وہ پھر سے انصاف کی حدود کو توڑ دیتا ہے۔
اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال کو اللہ کی رضا چاہنے کے لئے اور اپنے نفس میں پختگی کے لئے خرچ کرتے ہیں ایک باغ کی طرح ہے جو بلنوی پر ہو۔ اس پر زور کا مینہ پڑا تو وہ دونا پھل لایا۔ اور اگر زور کا مینہ نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی کافی اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں ۔ اس میں اس کے واسطے ہر قسم کے پھل ہوں۔ اور وہ بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، تب اس باغ پر ایک بگولہ آئے جس میں آگ ہو۔ پھر وہ باغ جل جائے۔ اللہ اس طرح تمہارے لئے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو ۔ ۲۶۵ - ۲۷۲ آدمی جب کسی چیز کے لیےعمل کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے حق میں اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرتا ہے۔ اپنی خواہش کے تحت عمل کرے تو اس نے اپنے دل کو اپنی خواہش پر جمایا۔ اس کے برعکس آدمی اگر وہاں عمل کرے جہاں خدا چاہتا ہے کہ عمل کیا جائے تو اس نے اپنے دل کو خدا پر جمایا۔ دونوں راہوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آسان حالات میں عمل کرنا ہوتا ہے اور کبھی مشکل حالات میں ۔ تاہم مواقع جتنے شدید ہوں، آدمی کو جتنا زیاوہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا عمل کرنا پڑے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے حق میں اپنے ارادہ کو مستحکم کرے گا۔ عام حالات میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ مگر جب مخالف اسباب کی وجہ سے خصوصی قوت ارادی کو استعمال کرکے آدمی اللہ کی راہ میں اپنا اثاثہ دے تو اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے۔ جس راہ میں خرچ کرنا دنیوی اعتبار سے بے فائدہ ہو اس میں اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرنا، جس کو دینے کا دل نہ چاہے، اس کو اللہ کے لئے دینا، جس سے خوش معاملگی پر طبیعت آمادہ نہ ہو اس سے اللہ کی خاطر خوش معاملگی کرنا، دہ چیزیں ہیں جو آدمی کو سب سے زیادہ خدا پرستی پر جماتی ہیں اور اس کو خدا کی خصوصی رحمت د نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آدمی جوانی کی عمر میں باغ لگاتا ہے تاکہ بڑھاپے کی عمر میں اس کا پھل کھائے۔ پھر وہ شخص کیسا بدنصیب ہے جس کا ہرا بھرا باغ اس کی آخر عمر میں اس وقت برباد ہو جائے جب کہ وہ سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو اور اس کے لئے وہ وقت بھی ختم ہو چکا ہو جب کہ وہ دوبارہ نیا باغ لگائے اور اس کو از سر نو تیار کرے۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے دین کا کام دنیوی عزت و منفعت کے لئے کیا۔ وہ بظاہر نیکی اور بھلائی کا کام کرتے رہے ۔ مگر ان کا کام صرف شکلًا ہی عام دنیا داروں سے مختلف تھا۔ باعتبارِ حقیقت دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ عام دنیا دار جس دنیوی ترقی اور ناموری کے لئے دنیوی نقشوں میں دوڑ دھوپ کر رہے تھے، اسی دنیوی ترقی اور ناموری کے لئے انھوں نے دینی نقشوں میں دوڑ دھوپ جاری کر دی۔ جو شہرت د عزت
اے ایمان والو خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین میں سے پیدا کیا ہے۔ ردی چیز کا قصد نہ کرو کہ اس میں سے خرچ کرو۔ حالاں کہ تم کبھی اس کو لینے والے نہیں الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔ شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے اور بری بات کی تلقین کرتا ہے اور اللہ وعدہ دیتا ہے اپنی بخشش کا اور فضل کا اور اللہ وسعت والا ہے، جاننے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دے دیتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بڑی دولت مل گئی سو ل的ت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں ۔ آدمي دنیا میں جو کچھ کماتا ہے، اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتا ہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائش کا ہاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔ آدمی کو چاہئے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے ۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے ۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امید واربن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خدا کے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے ۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتا ہے۔ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتا ہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانے میں مل کر زیادہ ہو جائے۔ جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت و دانا نئی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لئے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں ۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ کے برعکس جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدود در توں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کر لیتا ہے جو غنی و حمید اور وسیع وعلیم ہے، وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے کیونکہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہو جاتا ہے جو آدمی کے لئے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔
اور تم جو خرچ کرتے ہو یا نذر مانتے ہو اس کو اللہ جانتا ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار یں۔ اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے اور اگر تم انھیں چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا اور اللہ تمہارے کاموں سے واقف ہے۔ ان کو ہدایت پر لانا تمہارا ذمہ نہیں۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے، اپنے ہی لئے کرو گے۔ اور تم نہ خرچ کر ومگر اللہ کی رضا چاہنے کے لئے۔ اور تم جو مال خرچ کرو گے وہ تم کو پورا کر دیا جائے گا اور تمہارے لئے اس میں کمی کی نہ جائے گی۔ صدقات ان حاجت مندوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں گِھر گئے ہوں، زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ نا واقف آدمی ان کو غنی خیال کرتا ہے ان کے نہ مانگنے کی مد سے۔ تم ان کو ان کی صورت سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہے۔ جو لوگ اپنے مالوں کو رات اور دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ غمگین ہوں گے ۲۷۳-۲۷۰ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جد وجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہو گئے ہوں۔ ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لئے وقت نہیں ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جد وجہد کے لئے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتا ہے۔ جو شخص تجارت میں لگتا ہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستے کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ معاملہ برعکس صورت میں خادم دین کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو کیونکہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہو گئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کر سکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الہی کے لئے وقوع میں آتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے یکسو کیا تھا، اس لئے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ پانے کا امیدوار رہتا۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتا ہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں خدمت دین کی راہ میں وہ نہ کر سکا جو مجھے کو کرنا چاہئے تھا۔ اس لئے اس کی تلافی یہ ہے کہ میں اپنے مال میں اپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گو یا میری کمی کی تلافی خدا کے یہاں کر رہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہو جائے ، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیر اہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے ، ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتا ہے۔
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت میں نہ اٹھیں گے مگر اس شخص کی مانند جس کو شیطان نے چھو کر خبطی بنا دیا ہو۔ یہ اس لئے کہ انھوں نے کہا کہ تجارت کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا سود لینا۔ حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حلال ٹھہرایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ پھر جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا وہ اس کے لئے ہے ۔ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو شخص پھر وہی کرے تو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ اور اللہ پسند نہیں کرتا ناشکروں کو، گنہگاروں کو۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس ۔ ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ بندوں کے درمیان باہمی طور پر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف - یہاں تک کرتا ہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتا ہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے زرپرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کر سکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے نہ کہ سود کے اصول پر۔ تجارت میں بھی آدمی نفع لیتا ہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے ۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زراندوزی کا نتیجہ ہے۔ سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس لئے دیتا ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ نہ یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خو د اپنے اندر جو انسان تیار کرتا ہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے ۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے، جو دوسرے کی ضرورت مندی کو اپنے لئے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کر رہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ دنیا میں آدمی اس لئے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لئے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیا میں بسایا جائے ۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لئے چن لے گا۔ اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک دیے جائیں گے ۔ صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لئے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لئے دینا۔ صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے لئے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے لئے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لئے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لئے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔