تذکیرالقرآن البقرہ2
Al-Risala, February 1980, pp. 36–30
By Maulana Wahiduddin Khan
اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کے لیے خبردار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو اصل رقم کے تم حق دار ہو، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔ اور اگر ایک شخص تنگی والا ہے تو اس کی فراخی تک مہلت دو۔ اور اگر معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔ اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔ پھر ہر شخص کو اس کا کیا ہوا پورا پورا مل جائے گا ۔ اور ان پر ظلم نہ ہوگا ۴۸۱ - ۲۷۸ معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔ نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے، اس لیے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے ۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیں کرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگ دست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہو جائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم سرے سے معاف کر دینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالا خر سب کے لیے مفید ہے۔
تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح و فلاح کا ضامن نہیں۔ حقیقی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس لئے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتا ہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردار موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طور پر وقوع میں آتا ہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کا نام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس لئے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔
اور وہ شخص لکھوائے جس پر حق آتا ہے۔ اور اللہ سے جو اس کا رب ہے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے ۔ اور اگر وہ شخص جس پر حق آتا ہے بے سمجھ ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہئے کہ اس کا ولی انصاف کے ساتھ اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کر لو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ انکار نہ کریں جب وہ بلائے جائیں۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کے تعین کے ساتھ اس کو لکھنے میں کاہلی نہ کرو۔ یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیاوہ انصاف کا طریقہ ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ لیکن اگر کوئی سودا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں کہ تم اس کو نہ لکھو۔ یہ سودا کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور کسی لکھنے والے کو یا گواہ کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لیے گنہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرو اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن رکھنے کی چیزیں قبضہ میں دے دی جائیں۔ اور اگر ایک دوسرے کا اعتبار کرتا ہو تو چاہئے کہ جس پر اعتبار کیا گیا وہ اعتبار کو پورا کرے۔ اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہوگا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادائیگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لئے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بنائے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لئے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر کتابت شدہ شرائط کے مطابق دہ اپنے حقوق کو ادا کر کے خدا اور خلق کے سامنے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔ جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہئے کہ اس کو ظاہر کر دے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش نہ کرناہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا کرنا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے ۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیا جائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہے۔
لایا ہے اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا ہے۔ اور مسلمان بھی اس پر ایمان لائے ہیں۔ سب ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق یں کرتے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب۔ اور تیری ہی طرف نہ اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق ۔ اس کو ملے گا وہی جو اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا وہی جو اس نے کیا۔ اے ہمارے رب ہم کو نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا ہم غلطی کر جائیں۔ اے ہمارے رب ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اے ہمارے رب ہم سے وہ نہ اٹھوا جس کی طاقت ہم کو نہیں۔ اور درگزر کر اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ تو ہمارا کارساز ہے۔ پس انکار کرنے والوں کے مقابل میں ہماری مدد کر کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لئے خدا نے ان کو پابند کر دیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خودمختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے، مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لئے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزار کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرناہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے ، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کر رہا ہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔ وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری خوانگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی خوانگی شعور کے اعتبار سے مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتارے۔ وہ اس حقیقت کو پا گیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لئے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر و خیال کا جزو بنا چکا ہو رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آ کر کائنات کو اس طرح اپنے داروغہ گم سمٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی کا ہر قدم اس کے نقشہ پر ڈھال رہا ہے۔
آل عمران ۳ سورہ آل عمران مدنیۃ - ۳ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الف ل م۔ اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زنوہ اور سب کا تھامنے والا۔ اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ، سچا کرنے والی اس چیز کو جو اس کے آگے ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے اور اللہ نے فرقان اتارا۔ بے شک جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ زبر دست ہے، بدلہ لینے والا ہے۔ بے شک اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ وہی تمہاری صورت بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے ۶-۱ کائنات کا خالق و مالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لئے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات و انجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل و تشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لئے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کیا جا سکے ۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا۔ اپنی جھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئے۔ اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کر سکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طور پر بتا سکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے۔ یہی معاملہ انسان کے لئے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور دہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لئے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لئے صحیح رویہ وہی ہو سکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لئے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کر سکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خدا کے سوا کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ انسان کے لئے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
رہی ہے جس نے تمھارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنہ کی تلاش میں اور اس کے مطلب کی حالاں کہ ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ اے ہمارے رب، ہمارے دلوں کو نہ پھیر جب کہ تو ہم کو ہدایت دے چکا۔ اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت دے۔ بے شک تو ہی سب کچھ دینے والا اے ہمارے رب، تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کوئی شبہ نہیں۔ بے شک اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں، مثلاً تاریخی واقعات، کائنات کی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لئے ناقابل مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہ راست اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیں اس لئے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل و تشبیہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً انسان کا ہاتھ کہا جائے تو یہ براہ راست زبان کی مثال ہے اور اللہ کا ہاتھ تمثیلی زبان کی مثال۔ جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اورکبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ "انسان کے ہاتھ" کو متعین طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر "خدا کے ہاتھ" کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ متشابہات کے سلسلہ میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لئے ان حقائق کا کلی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعینات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہئے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہو جائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہئے۔ وہ کسی اور رخ سے دیکھنے لگتا ہے عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کر سکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے جیسا کہ آگے سے کوئی رہنمائی