Al-Risala · February 1980

بے خوف انسان ایمانی جذبات کو سمجھ نہیں سکتا

Al-Risala, February 1980, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

بزار نے ابو سلمہ رض اور ابو ہریرہ رض سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ میں ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں ، تم لوگ اس کے خرچ کے لئے صدقہ دو۔ عبد الرحمن بن عوف رض ایک تاجر آدمی تھے انھوں نے کہا اے خدا کے رسول ! میرے پاس چار ہزار ہیں۔ دو ہزار میرے گھر والوں کے لئے ہیں اور دو ہزار میں اپنے رب کو قرض دیتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بارك الله لك فيما أعطيت وبارك لك اللہ تمہیں اس چیز میں برکت دے جو تم نے دیا اور اس چیز فيما أمسكت میں برکت دے جو تم نے روکا ابو عقیل انصاری رض ایک غریب آدمی تھے۔ انھوں نے ساری رات ایک باغ والے کے یہاں میٹھے پر پانی لاد کر اس کی مزدوری میں ان کو دو صاع (سات سیر) کھجوریں ملیں۔ انھوں نے ایک صاع کھجور اپنے گھر والوں کے لئے چھوڑی اور ایک صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے ان کے لئے بھی برکت کی دعا فرمائی جس طرح عبد الرحمن بن عوف رض کے لئے کی تھی ۔

مگر مدینہ کے منافقین نے دونوں پر طعن و طنز شروع کر دیا۔ عبد الرحمن بن عوف رض کے متعلق کہا : اس شخص نے محض دکھانے کے لئے دیا ہے (ما اعطی الارياء) دوسری طرف ابو عقیل رض کی بابت کہا : " اللہ اور رسول کیا اس کے اس صاع سے مستغنی نہ تھے “ ۔

Printed page