جان اور مال کی قربانی کے بغیر جنت نہیں
Al-Risala, February 1980, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کے لئے آیا۔ میں نے پوچھا : اے خدا کے رسول ! آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لیں گے ۔ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا : گواہی دو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الہ اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پانچ وقت کی نمازیں ان کے وقتوں پر ادا کرو۔
کرنی پڑی تو مجھ پر در پر غالب آجائے اور میں بھاگ کھڑا ہوں۔ اور اللہ کے غضب کا مستحق بن جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا:
لا صدقة ولا جهاد، فبم ادخل اے بشیر! نہ صدقہ نہ جہاد، پھر کیسے تم جنت میں داخل الجنة (كنز العمال) ہو گے سوال اور غیر سوال کا فرق مالک نے عطار بن یسار سے روایت کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عطیہ بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو واپس کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : تم نے کیوں اس کو واپس کر دیا۔ انھوں نے کہا : اے خدا کے رسول ! کیا آپ نے ہم کو نہیں بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہ لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
انما ذلك عن المسألة، فاما ما كان عن غير وہ بات میں نے سوال کے بارہ میں کہی تھی ، مگر جو چیز بغیر سوال کے آئے تو وہ رزق ہے جو اللہ نے تم کو دیا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، اب کسی چیز کے لئے میں کسی سے سوال نہیں کروں گا۔ مگر جو چیز بغیر سوال کے میرے پاس آئے گی اس کو ضرور لوں گا۔