Al-Risala · February 1980

دنیا ستی اُن کا دین بھی ہے اور اِن کا بھی

Al-Risala, February 1980, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان دنیوی چیزوں پر عرض دنیا کا حریص ہے، جب کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ آخرت کو اپنا مقصود بنائے (انفال، ۶۷) دنیا کی چیزوں کا شوق کرنا اور ان کی طرف دوڑنا انسان کا عام مرض ہے۔ کی اصل جڑ یہی ہے۔ خدا فراموشی اور بے انصافی کی تمام قسمیں اسی سے وجود میں آتی ہیں۔ جو لوگ خدا کے دین کو نہیں مانتے، وہ یہ کہہ کر دنیا طلبی میں مشغول ہوتے ہیں کہ "زندگی بس یہی موجودہ دنیا کی زندگی ہے۔ یہیں جینا اور یہیں مر جانا ہے ۔ گردش ایام کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو ہمارے اوپر حکمراں ہو (جاشیہ ۲۴) ان کے سوا وہ لوگ جو دین خدا کے قائل ہیں ، ان کے درمیان دنیا طلبی اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ وہ دھیرے دھیرے یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ ہم خدا کے خاص بندے ہیں اور ہماری مغفرت ضرور ہو جائے گی (سبیخض لنا) یہ عقیدہ ان کو خدا کی پکڑ اور آخرت کے عذاب سے بے خوف کر دیتا ہے۔ وہ اسی دنیا میں غرق ہو جاتے ہیں جس کی بابت ان کی آسمانی کتاب میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ جو اس میں غرق ہوا اس کے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (بقرہ ۲۰۰) دین کے منکر جس دنیا پرستی کو آخرت کا انکار کر کے لئے ہوئے ہیں ، اسی دنیا پرستی کو وہ اس احساس کے تحت اختیار کر لیتے ہیں کہ ہم آگ سے محفوظ لوگ ہیں ، ہم جن نبیوں اور ریزہ رگوں کو مانتے ہیں وہ بہر حال ہم کو خدا کے یہاں بخشوالیں گے خواہ ہم جو کچھ کرتے رہیں، حتی کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے گروہ کی دنیا پرستی پہلے گروہ سے زیادہ بھیانک ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ وہ دوسروں کی طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر نہیں رکھتے بلکہ اپنی مخصوص نفسیات کے تحت یہ بھی کرتے ہیں کہ اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے اس کی دینی توجیہات شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح خود اللہ کے دین کو ایک دنیوی سودا بنا دیتے ہیں، وہ اپنی خلاف حق کارروائیوں میں اللہ کو بھی ایک فریق بنا لیتے ہیں وہ دنیا کے مال و دولت پر فریفتہ ہو کر اس کے اوپر ٹوٹتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ رسمی قسم کی دین داری کر کے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ وہ عہدہ اور شہرت اور لیڈری کے لئے اٹھتے ہیں اور کتاب آسمانی کے حوالے دے کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ عین خدا کے دین کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ان کو اللہ کی طرف سے مشن سپرد کیا جاتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو آنے والے ہولناک دن سے باخبر کریں مگر وہ سماجی امن معاشی انصاف اور سیاسی اصلاح کے نام پر جلسوں اور جلوسوں کا طوفان مچاتے ہیں اور خدائی تعلیمات کی خود ساختہ تشریح کر کے اعلان کرتے ہیں کہ وہ عین اسی کام کے لئے اٹھے ہیں جس کے لئے خدا نے اپنے نبیوں کو بھیجا تھا۔

مگر جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوں، جو اپنے آپ کو اس اصلاحی نقشہ پر ڈھالنا چاہتے ہوں جو اللہ کو پسند ہے، وہ موجودہ عارضی دنیا کی چیزوں میں گم نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کی ابدی دنیا کو اپنا مقصود بنائیں گے۔ وہ نفسانی رجحانات سے آزاد ہو کر خدا کی کتاب کو پکڑیں گے - ان کا شعار اللہ کے آگے جھکنا ہوگا نہ کہ دنیوی مصالح کی پرستش کرنا (اعراف ۱۷۰) — دنیا کی جن چیزوں کے پیچھے ایک گروہ دوڑ رہا ہے، انہیں کے پیچھے اگر دوسرا گروہ دوڑنے لگے تو وہ اس لئے نہیں چھوٹ جائے گا کہ اس نے دین کے نام پر ایسا کیا تھا۔

دنیا کی زندگی میں حقیقتوں سے پردہ نہیں ہٹایا گیا ہے۔ یہاں آدمی کے لئے ممکن ہے کہ وہ خوبصورت الفاظ میں اپنی اندرونی بے مانگی کو چھپا سکے۔ زرق برق سواریوں اور شان دار مجالس میں ظاہر ہو کر لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر سکے کہ جس شخص کے جلو میں اتنی عزتیں اور شوکتیں چل رہی ہیں وہ ضرور حق پر ہوگا۔ تاہم "خصام" کے وقت ایسے شخص کا بھرم کھل جاتا ہے۔ جب کسی سے اس کا جھگڑا پیش آجائے تو خوبصورت باتیں کرنے والا شخص فوراً بد کلامی پر اُتر آتا ہے، وہ اپنے لبادہ کو اتار پھینکتا ہے۔ اس وقت لوگ دیکھتے ہیں کہ حسین پردہ کے اندر ایک بدہیئت انسان چھپا ہوا تھا۔ ایسے شخص کا حال یہ ہوتا ہے کہ جہاں صرف باتوں اور تقریروں کا جوہر دکھانا ہو وہاں تو وہ خوب اونچی اونچی باتیں کرتا ہے اس کی زبان سے قومی تعمیر، باہمی امن، بزرگوں کی روایات کا تحفظ اور معیاری انسانی سماج کے قیام کی باتیں نکلتی ہیں ۔ مگر تقریر کے اسٹیج سے اتر کر جب وہ اپنے عملی دائرہ میں آتا ہے جہاں اس کو خود ان اچھی باتوں کے قائم کرنے کا اختیار ہے جو اس نے اپنی تقریر میں کہی تھیں تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ یہاں وہ اپنی کبریائی قائم کرنے کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں خاندان برباد ہوں، کسی کی معاشیات تباہ ہو جائیں، ماحول میں اصلاح کے بجائے فساد برپا ہو۔ جب اس کو یاد دلایا جاتا ہے کہ تمھارا عمل تمھاری بات کے مطابق نہیں تو گھمنڈ کی نفسیات اس کے لئے اعتراف میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ جانتے ہوئے بھی اپنے کو گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ اللہ کے نزدیک ایسے خوش گفتاروں کی کوئی قیمت نہیں، اس کو تو وہ لوگ پسند ہیں جو اپنی زندگی کی قیمت پر حق کو جب حق کو قبول کرنے کے لئے اپنے کو بے عزت کرنے کا سوال ہو، جب اپنے مقابلہ میں دوسرے کی بُرائی کا اعتراف کرنا پڑے، جب دنیوی مصلحت سے بے پروا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہو تو آدمی ہچک کر بیٹھ جاتا ہے۔ ذاتی حصار کو توڑ کر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہی تو حق کی واحد قیمت ہے۔ اور جو شخص حق کی قیمت دینے کے لئے تیار نہ ہو وہ اس کا خریدار کیسے بن سکتا ہے ۔

اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو اللہ کی طرف اس طرح بڑھیں کہ اپنی ذات اور اپنے قلب و دماغ کو انھوں نے ہمہ تن اللہ کے حوالے کر دیا ہو، اس کے سوا کسی اور کی وفاداری ان کے دل میں باقی نہ رہے۔ شیطان مختلف طریقوں سے آدمی کی وفاداری کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ کبھی مصلحتوں کو سامنے لاتا ہے، کبھی کسی فائدے کا لالچ دیتا ہے۔ کبھی کسی نقصان سے ڈراتا ہے، کبھی عزت کے سوال کو سامنے کھڑا کرتا ہے۔ اس قسم کے وساوس ڈال کر شیطان چاہتا ہے کہ آدمی خدا سے بس رسمی تعلق رکھے اور اپنے حقیقی معاملات اور اپنی روز و شب کی زندگی میں اپنی دل پسند راہوں پر چلتا رہے ۔ "اسلام میں پورا داخل نہ ہونا " یہ ہے کہ آدمی عباداتی آداب میں خدا کے سامنے سر جھکائے مگر جب خدا کا کوئی بندہ اس کے سامنے خدا کی ایک دلیل پیش کرے تو وہ اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہو۔ وہ نماز میں صف بندی کا اہتمام کرے مگر جب راہ خدا میں متحدہ جد و جہد کا سوال ہو تو اتحاد میں شامل نہ ہو۔ وہ قرآن کے الفاظ کو ادا کرنے میں مخارج کی درستگی پر خوب زور دے مگر قرآن میں اپنی زندگی کی رہنمائی ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے۔ روزہ میں وہ کھانا پینا ترک کرنے میں کو تاہ نہ ہو مگر جھوٹ بولنے اور جھوٹے کام کرنے سے روزہ نہ رکھے ۔

Printed page