امتحان کس بات کا
Al-Risala, February 1980, pp. 37–48
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں آدم کا قصہ بتے ہوئے کہا گیا ہے : ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گر پڑے ۔ مگر ابلیس نے کہنا نہ مانا اور تکبر کیا اور انکار کرنے والا ہو گیا ۔ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمھاری عورت جنت میں رہو اور اس میں سے با فراغت کھاؤ جہاں چاہو ۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم ظلم قرار پاؤ گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور ان کو اس عیش سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ ہم نے کہا: تم سب اترو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تم کو زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ایک مدت تک (بقره) اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ابلیس نے آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا۔ اس کی وجہ اس کا یہ احساس تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں (انا خیر منہ ص ۷۶) اس کے مقابلہ میں فرشتے ذاتی بڑائی کے احساس سے خالی تھے۔ وہ ساری بڑائی صرف اللہ کے لئے تسلیم کرتے تھے۔ اس لئے اللہ کا حکم پاتے ہی وہ ایک حقیر مخلوق کے آگے سجدے میں گر پڑے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتدا میں دو واضح کردار انسان کے سامنے رکھ دئے ۔ ایک ابلیسی کردار ۔ دوسرا ملکوتی کردار۔ دن اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ انسان کو اپنا ہم مسلک بنائے۔ مگر انسان کو تمام ترغیبات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو فرشتوں کا ہم مسلک بنانا ہے ۔
کوئی دولت، شہرت، اقتدار میں بڑھ جائے تو آر میں جینے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے سوا کسی کو بڑا دیکھنا نہیں چاہتا غیر شخص کی زبان سے حق کا اعلان ہو تو وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا کیونکہ ایسا کرنا دوسرے کی فکری عظمت تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، کسی پر تنقید کر دی جائے تو وہ پھر اٹھتا ہے ۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ ناقد اس کی بڑائی کو چیلنج کر رہا ہے۔ خاموش تعمیری کام میں ساتھ دینے کے لئے مشکل چند آدمی ملتے ہیں۔ اور کسی حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلائیے تو بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس قسم کی سیاست میں برے کی بڑائی کا انکار کرنے کے جذبہ کو تسکین مل رہی ہے۔ انسان کی اصل کمزوری ہے اپنے سوا کسی کے لئے بڑائی کو تسلیم نہ کرنا۔ اس کے مقابلہ میں انسان کی اصل خوبی اللہ کی نظر میں یہ ہے کہ آدمی ذاتی بڑائی کے احساس کو مٹا دے اور اللہ کا حکم آتے ہی فوراً جھک جائے خواہ یہ جھکنا اپنے سے کمتر کا اعتراف کرنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔
جو لوگ ’’ظالم‘‘ حکمرانوں کے خلاف اٹھتے ہیں بہت جلد ان کے گرد انسانوں کا غول جمع ہو جاتا ہے۔ ہجوم کو دیکھ کر اس قسم کے قائدین اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ ان کے ملک میں ظلم کرنے والا بس وہی ایک شخص ہے جو اقتدار کی گدی پر بیٹھا ہوا ہے۔ تمام لوگ عدل و انصاف کے عاشق ہیں۔ اگر اس ظالم کو کسی طرح تخت سے ہٹا دیا جائے تو اس کے بعد ہر طرف انصاف کا سیلاب بہہ پڑے گا ۔ ہر طرف امن کی ہوائیں چلنے لگیں گی ۔ مگر یہ شدید ترین غلط فہمی ہے۔ ’’ظالم‘‘ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والی تحریکوں کے گرد انسانوں کا غول حقیقۃً ملکوتی نفسیات کے تحت جمع نہیں ہوتا ۔ یہ صرف اس غیر ملکوتی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا شکار ہمیشہ تمام قومیں ہوتی رہی ہیں کسی کے اقتدار کو چیلنج کرنا تا اس نفسیات کے لئے مرغوب ترین چیز ہے۔ جب کوئی قائد اس قسم کا منفی نعرہ
لے کر اٹھتا ہے تو یہ نفسیات مدد کرتی ہے اور لوگ بآسانی اس کے گرد جمع ہو جاتے میں۔ یہی وجہ ہے کہ "ظلم" کو مٹانے کے نام پر جتنی تیزی سے اتحاد قائم ہوتا ہے، "عدل" کو قائم کرنے کے وقت وہ اتنی ہی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کو گرانے کے لئے اٹھنا غیر حکومتی نفسیات کے تحت اٹھنا ہے۔ ایسی تحریکیں اٹھانا زمین میں فساد برپا کرنا ہے نہ کہ اصلاح اور انصاف قائم کرنا۔ بے دینی کو اگر دین کا نام دے دیا جائے تو محض نام کی وجہ سے وہ دین داری نہیں ہو جائے گی۔
ابلیس کو انسان کے اوپر کوئی اقتدار حاصل نہیں۔ اس کے بہکانے کا طریقہ تزئین (حجر ۳۹) ہے۔ یعنی غلط روش کو صحیح بنا کر دکھانا۔ اسی تدبیر کے ذریعہ وہ رات دن اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ انسان کو اپنا ہم مسلک بنائے۔ ہر وہ موقع جہاں حق کا تقاضا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے سامنے "جھک" جائے، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے مقابلہ میں دوسرے کی صداقت کا اعتراف کرلے ، بس وہیں ابلیس آجاتا ہے اور آدمی کی نفسیات میں داخل ہو کر اس کو اکسانے لگتا ہے کہ وہ فرشتوں والی روش پر نہ جائے اور اس کی اپنی روش کو اختیار کرلے۔ وہ "جھکنے" کے بجائے انکار کا طریقہ اختیار کرے۔ انسانی تعلقات کی تمام برائیاں خواہ وہ خاندان کے اندر ہوں یا خاندان سے باہر، ہمیشہ کسی نہ کسی شکایت پر شروع ہوتی ہے۔ ایک خلاف مزاج بات آدمی کے سامنے آتی ہے اور اس پر وہ بھڑک اٹھتا ہے۔ ہر ایسے موقع پر ایک طرف خالص حق کا تقاضا ہوتا ہے اور دوسری طرف انانیت اور بے انصافی کا۔ مگر آدمی حق کے تقاضے کو نظر انداز کردیتا ہے اور اپنے بھائی کا عدو (دشمن) بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے۔ اسی قسم کے معاملات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون وہ تھا جو فرشتوں کی راہ پر چلا اور کون تھا جس نے ابلیس کے طریقہ کو اختیار کیا۔ کس نے ابدی جنت کا استحقاق پیدا کیا اور کون اس کا مستحق ٹھہرا کہ اس کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں دھکیل دیا جائے ۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ پیش آتا ہے ، اس وقت ایک روش وہ ہوتی ہے جو حق کے مطابق ہے۔ دوسری وہ ہوتی ہے جو ضد، نفرت، انانیت، خود غرضی اور انتقام جیسے جذبات سے ابھرتی ہے ۔ دوبارہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ ایک شخص کی زندگی میں اس تاریخ کو دہرایا جائے جو تخلیق آدم کے وقت پیش آئی تھی ۔ موقع پر خدا اپنے نبیوں کے ذریعہ بھیجی ہوئی ہدایت کی زبان میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ "اے بندے حق کے آگے جھک جا! طرف شیطان اس کو ورغلا رہا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ انانیت والے اس طریقے کو اختیار کرے جو خود اس نے تخلیق آدم کے وقت اختیار کیا تھا۔ ساری انسانی تاریخ اسی دو طرفہ مکش کش کی داستان ہے۔ ہر شخص خواہ وہ امیر ہو یا غریب، جاہل ہو یا عالم، لیڈر ہو یا پیرو، عورت ہو یا مرد، سب اسی دو طرفہ پکار کے درمیان کھڑے ہوئے ہیں۔ کسی کے لئے یہ آزمائش روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں پیش آتی ہے اور کسی کے لئے بڑے قابل ذکر واقعات ہیں۔ کوئی اپنے پڑوسی، اپنے رشتہ دار، اپنے کرایہ دار، اپنے شریک تجارت کے مقابلہ میں اس امتحان میں کھڑا کیا جاتا ہے اور کوئی قوموں اور حکومتوں کے مقابلہ میں۔ جب ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کسی معاملہ پر عداوت ابھرتی ہے تو اس امتحان کا وقت آجاتا ہے۔ جو آدمی حق کے آگے "جھکنے" کی روش اختیار کرے، وہ فرشتوں کا ساتھی بنا اور جو شخص انانیت کے طریقے پر چلے وہ ابلیس کی برادری میں شامل ہوگیا۔ ایک کے لئے ابدی جنت ہے اور دوسرے کے لئے ابدی جہنم۔