وقت کی اہمیت
Al-Risala, March 1981, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
نپولین (۱۸۲۱ء - ۱۷۶۹ء) دنیا کا ایک مشہور ترین فاتح ہے۔ اس نے بے شمار جنگی کامیابیاں حاصل کیں۔ آفت کے سوا کوئی اس کو زیر نہ کر سکا۔ نپولین نے اپنی کامیابیوں کا راز ان الفاظ میں بیان کیا۔ ” میں اپنے حریفوں کے اوپر اس لئے غالب آتا ہوں کہ وہ لمحات جن کو لوگ کچھ نہیں سمجھتے ، میں ان کی اہمیت کو پالیتا ہوں اور ان کو فورا استعمال کرتا ہوں“ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے بڑے مواقع اکثر چھوٹے لمحات میں آتے ہیں۔ کو جاننا اور ان کے مطابق فوری اقدام کرنا ہی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ ان نازک لمحات میں معمولی کوشش سے وہ کام ہو جاتا ہے جو بعد کو بڑی کوششوں سے بھی نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں یہاں چند اقوال نقل کئے جاتے ہیں میں نے وقت کو برباد کیا تھا، اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے
ایک موقع تمہارا دروازہ صرف ایک بار کھٹکھٹاتا ہے کہاوت انسان کے لئے زندگی میں کامیابی کا راز ہر آنے والے موقع کے لئے تیار رہنا ہے وقت کی ٹرین اس کے لئے تیزی سے بھاگ رہی ہے جو کنارے کھڑا ہوا اس کا تماشا دیکھ رہا ہو مگر وقت کی ٹرین اس کے لئے ٹھہر جاتی ہے جو برابر کی پٹری پر خود بھی اسی کی رفتار سے دوڑنا شروع کر دے آئن سٹائن وقت ایسی نعمت ہے جس کا دوسرا کوئی بدل نہیں بابا فرید جس کام کو تم آج کر سکتے ہو اسے کبھی کل پر نہ ٹالو کیونکہ کل کبھی نہیں آتا۔ تم ہر چیز کو قیمت دے کر خرید سکتے ہو مگر وقت ہی ایک ایسا سودا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں خان خاناں اگر تم کو زندگی عزیز ہے تو وقت کو ضائع نہ کرو۔ کیونکہ زندگی وقت ہی کے لمحات کا دوسرا کسی کام کو شروع کرنے کا ابھی اسی وقت سے بہتر کوئی وقت نہیں چھوٹے موقع کا صحیح استعمال اس کو بڑا بنا دیتا ہے اور بڑے موقع کا غلط استعمال اس کو چھوٹا کر دیتا ہے سویٹ مارٹین نہ ہر گز نوش واپس لی جا سکتی ہے اور نہ ہر موقع دوبارہ ہاتھ آتا ہے آدمی کے پاس سب سے بڑی دولت وقت اور موقع ہے، وہ وقت نہیں جو کل ملنے والا ہے بلکہ وہ وقت جو ابھی ملا ہوا جو شخص وقت کے انتظار میں ہے وہ تیز بھاگتی ہوئی گاڑی کے سست رفتاری سے دوڑ رہا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اس کو کبھی نہیں پکڑ سکے گا۔ جس چیز کو کامیابی کہا جاتا ہے وہ حقیقۃ اس کا نام ہے کہ آپ وقت کو استعمال کر لیں اور ناکامی یہ ہے کہ آپ وقت کو صحیح طور پر استعمال نہ کر سکیں۔ وقت ہر ایک کے لئے یکساں طور پر آتا ہے مگر وقت کو پانے والا صرف وہ ہے جس نے وقت سے فائدہ اٹھایا ہو۔
وقت کی مثال برف کی مانند ہے۔ دو آدمی برف کی ایک ایک سل اپنے گھر میں لاتے ہیں بظاہر ہر دونوں کا معاملہ مگر برف کا مالک صرف وہ ہے جو برف کو فوراً کام میں لائے۔ جو برف کو کام میں نہ لاسکے وہ برف کو پانے کے باجود برف کا مالک نہیں۔ کیونکہ بہت جلد وہ دیکھے گا کہ برف پگھل کر ختم ہو چکا ہے اور اب اس کے پاس برف کے نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔ وقت کبھی ہمارے پیچھے نہیں دوڑے گا۔ بلکہ خود ہمیں وقت کے پیچھے پیچھے دوڑنا ہوگا۔ ہمیں جو کچھ کرنا ہے وقت ہی کے درمیان کرنا ہے۔ وقت کو کھو کر ہم کوئی اور موقع نہیں پا سکتے جہاں ہم وہ کر سکیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے بھر پور حرکت میں آنے کا وقت وہی ہے جو ابھی فوری طور پر آپ کو حاصل ہے۔ اگر آپ نے ابھی وقت کو نہیں پکڑا تو وہ آپ سے اتنی دور جا چکا ہوگا کہ آپ کبھی اس کو پکڑ نہ سکیں گے۔
نوٹ: یہ تقریر ۲۴۔ دسمبر ۱۹۸۰ء کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔