خو کی رحمت
Al-Risala, March 1981, pp. 11–13
By Maulana Wahiduddin Khan
بارش کے موسم میں بارش نہ ہو تو کسان پریشان ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بارش ہی کے اوپر کھیتی کا دارو مدار بارش سے کھیتوں میں فصل اگتی ہے۔ سال بھر کی روزی حاصل ہوتی ہے۔ بارش نہ ہو تو کسانوں کے کھیت ویران ہو جائیں، ہم کو اپنی خوراک کے لئے غلہ نہ ملے۔ اسی طرح ایک اور بارش ہے۔ یہ اللہ کا وہ فیضان ہے جس سے نیک عمل کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ جس سے ہمارے ایمان کی زمین پر اسلامی کردار کی کھیتیاں اگتی ہیں۔ رہ اللہ کی توفیق نہ ملے تو ہمارے ایمان کی زمین سوکھی پڑی رہ جائے اور اس سے نیک اعمال کی وہ فصل نہ اگے جس سے کسی کے اوپر جنت کے دروازے کھلتے ہیں۔ توفیق کی اہمیت اسلامی کردار پیدا کرنے کے لئے ویسی ہی ہے جیسے بارش کی اہمیت کھیتوں سے فصل اگانے کے لئے۔
جب بادلوں والی بارش رکتی ہے تو کسان بے حد پریشان ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح عمل کی توفیق والی بارش بھی رکھتی ہے۔ اور مسلمان کو اس وقت بے چین ہو جانا چاہئے جب وہ دیکھے کہ اس کے اوپر توفیق الہیٰ کی بارش رک گئی ہے۔ اس کے اندر وہ جذبات نہیں امنڈ رہے ہیں جو اللہ کے پسندیوہ اعمال کا محرک بنتے ہیں۔
جب آپ کو ایک اچھی نماز پڑھنے کی سعادت ملتی ہے تو در حقیقت وہ رحمت الہی کی بارش کی ایک بوند ہوتی ہے جو آپ کے اوپر ٹپکتی ہے۔ جب آپ کو خالص اللہ کی خاطر روزہ رکھنا اور حج کرنا نصیب ہوتا ہے، جب آپ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی خوشی حاصل کرتے ہیں تو یہ سب بھی اللہ کی اسی بارش کے چھینٹے ہوتے ہیں جو آپ کو اللہ کی توفیق سے اسی طرح جب اللہ کی یاد سے آپ کا دل بھر جاتا ہے۔ جب آپ کی آنکھیں اللہ کی راہ میں رونے کی توفیق جب آپ کی زندگی میں درد کے دہ لمحات آتے ہیں جو آپ کو اللہ کے خوف و محبت سے تڑپا دینے والے ہوں تو یہ سب بھی اسی ان دیکھی بارش کا فیضان ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کے اوپر برستا ہے۔ جب آپ اپنے بھائی کی کوئی خدمت کرتے ہیں۔ جب دوسرے کے دکھ سے آپ کو دکھ اور دوسرے کے سکھ سے آپ کو سکھ پہنچتا ہے۔ آپ دل کی سچائی کے ساتھ ان کاموں میں سے کوئی کام کرتے ہیں جن کو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام دیا گیا ہے تو یہ سب اسی خدائی بارش کے چھینٹے ہوتے ہیں جو آپ کے اوپر اس کی رحمت خاص سے برستے ہیں۔
ہم سب مسلمان ہیں اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مگر یاد رکھئے مسلمان ہونا یا مسلمان گھر میں پیدا ہونا صرف یہ معنیٰ رکھتا ہے کہ آپ کو ایمان دا اسلام کی زمین حاصل ہے۔ مگر ہر کسان جانتا ہے کہ صرف زمین کا مالک ہونا کافی
بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس زمین کو پانی کی سہولتیں حاصل ہوں۔ صحرا میں ہر طرف زمین ہی زمین ہوتی ہے مگر وہ کھیتی کے لئے بے کار ہے۔ وہاں ہری بھری فصل کے بجائے ہر وقت ریت اڑتی رہتی ہے۔ کہ وہاں پانی کا ایک قطرہ نہیں، ایک کسان صرف اس بات کو کافی نہیں سمجھتا کہ اس کے پاس کھیت موجود ہے۔ کھیت ہزاروں ایکڑ سے بھی زیاوہ کیوں نہ ہو۔ کھیت سے فصل اگانے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کی بارش اسے پہنچے۔ جب کھیت بارش سے سیراب ہوتا ہے اسی وقت وہ لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح ہمارے لئے صرف یہ بات کافی نہیں کہ ہم ایمان واسلام کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری اسلامی زمین پر خدا کی توفیق کی بارش بھی ہورہی ہو۔
ہمارے دل میں اللہ سے خوف ومحبت کی وہ بوندیں ٹپکیں جو آدمی کے اندر رہانی ہل چل پیدا کرتی ہیں اور اس کو نیک کام کرنے پر ابھارتی ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خدا کی اس بارش میں اس کو حصہ مل رہا ہے یا نہیں۔ اس کے اوپر رحمتوں کا دہ فیضان برس رہا ہے یا نہیں جس سے خدا کے پسندیدہ اعمال کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس روحانی بارش کی بوندیں آپ کے اوپر ٹپک رہی ہوں تو خدا کا شکر ادا کیجئے، کیوں کہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتی ہے۔ اور اگر اس بارش کے چھینٹے آپ کی ہستی کو نم نہ کر رہے ہوں تو آپ کو اس سے زیادہ بے چین ہو جانا چاہئے جتنا کوئی کسان اس وقت بے چین ہوتا ہے جب کہ بادل اس کی زمین پر بارش برسانے سے رک گئے ہوں۔ کیوں کہ بادلوں والی بارش کسی کو صرف ایک سال کے غلہ سے محروم کرتی جب کہ توفیق عمل کی بارش کا رکنا آدمی کو اس سخت ترین اندیشہ میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ آخرت کی ابدی زندگی میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائے۔
کوئی آدمی نماز روزہ اور اس طرح کے دوسرے اعمال کر رہا ہے۔ مگر ان کی حیثیت اس کے لئے ایسی ہے جیسے کچھ بے روح رسم ہو جس کو وقت پر ادا کر لیا جائے ، تب بھی اس کو مطمئن نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہی عمل اسلامی عمل ہے جس کے ساتھ آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں، جس کے اندر اس کی روح کی بیتابیاں گھل مل گئی ہوں۔ جو عمل آدمی کی زندگی کا محض ایک خشک ضمیمہ ہے وہ محض ایک بے فائدہ رسم ہے جس کی کوئی قیمت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔
ہم میں سے ہر شخص کو اس اعتبار سے اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ اگر بارش برسانے والے بادل رک جائیں تو ہم استسقائی نماز پڑھتے ہیں۔ لوگ پانی حاصل کرنے کے دوسرے طریقوں کی طرف دوڑنا شروع کرتے ہیں۔
طرح توفیق عمل کی بارش رکنے پر آپ کو چوکنّا ہو جانا چاہئے۔ آپ کو خدا سے دعا اور التجا کرنا چاہئے کہ وہ آپ کو اپنی مدد سے محروم نہ کرے۔
اگر آپ کو زندہ عبادت کی توفیق نہ مل رہی ہو۔ اگر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا شوق آپ سے رخصت ہو گیا اگر دوسروں کا بھلا دیکھ کر آپ خوش نہ ہوتے ہوں۔ اگر اپنے بھائیوں کی خدمت کرنے کا جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرتا ہو۔ اگر آپ اپنے فائدہ کے پیچھے دوسرے کا نقصان بھول جاتے ہوں۔ اگر اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف کرنا آپ کو گوارا نہ ہوتا ہو۔ کسی سے شکایت پیدا ہونے کے بعد اگر آپ اس کو معاف کرنے پر راضی نہ ہوتے اگر اس طرح کی باتیں ہوں تو سمجھ لیجئے کہ آپ کے ایمان کی زمین سوکھی پڑی ہوئی ہے۔ آپ کے اوپر اللہ اپنی توفیق کی بارش نہیں برسار ہاہے۔ خدا کی رحمتوں کے چھینٹے سے محرومی نے آپ کے اسلام کے پودے کو خشک کر دیا ہے۔ اسی طرح آپ کو اس وقت بھی بے چین ہو جانا چاہئے جب کہ آپ اپنا یہ حال پائیں کہ آپ کے لئے اٹھیں دینی کاموں میں رغبت ہو جن میں آپ کی دنیا کھنڈت نہیں ہوتی۔ جس میں آپ کے مفادات پوری طرح محفوظ رہتے ہیں۔ جس میں سستی قیمتوں پر جنت کے دروازے کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس میں کچھ کئے بغیر کرنے کا تمغہ مل جاتا ہے۔ جس میں الفاظ بول کر عمل کا کریڈٹ حاصل ہوتا ہے۔ اس قسم کے "دین" ، کی طرف لپکنا اور نفس کو دبانے اور جذبات کی قربانی دینے والے دین سے بے پروا ہونا دین داری کی حالت نہیں بلکہ غفلت کی حالت ہے۔ اگر آپ کا یہ حال ہو کہ آپ اٹھیں دینی کاموں کی طرف دوڑتے ہوں جن میں دنیوی نفع ملنے والا ہو۔ شہرت اور عزت کی چاشنی ہو۔ جن میں آپ کی عوامی تصویر میں اضافہ ہوتا ہو۔ جن میں آپ اپنے کو نمایاں کرنے کے مواقع پارہے جن میں عمل کی قیمت دنیوی صورت میں وصول ہوتی ہو۔ جن میں دینی کام کی قیمت لیڈری اور پیشوائی کی صورت میں مل آپ دنیوی پہلو رکھنے والے دینی کام میں تو خوب تیزی دکھائیں اور جس دینی کام میں کوئی دنیوی چاشنی نہ ہو اس سے بے رغبت رہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی توفیق میں حصہ پانے سے محروم ہیں۔ کیونکہ دولت اور عزت والے دین کی طرف دوڑنا دین کے نام پر اپنے نفس کی طرف دوڑنا ہے نہ کہ حقیقۃً خدا کے دین کی طرف دوڑنا۔ ایسی تمام حالتوں میں آپ کے لئے مطمئن ہونے کا موقع نہیں۔ آپ کو بے تاب ہو کر خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ آپ کو خدا کی بارش رحمت کو اپنی طرف مائل کرنا چاہئے۔ قبل اس کے کہ آپ کا سوکھا ہوا پودا خدا کے باغ سے اکھاڑ کر پھینک
نوٹ: یہ تقریر ۱۲ جولائی ۱۹۷۰ء کو اعظم گڑھ کے ایک اجتماع میں کی گئی