وحید الدین ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰
Al-Risala, March 1981, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان ایک کامل دنیا چاہتا ہے، مگر وہ ایک ناقص دنیا میں رہنے کے لئے مجبور ہے۔ خوشیاں بے حد عارضی ہیں۔ ہماری ہر کامیابی اپنے ساتھ ناکامی کا انجام لئے ہوئے ہے۔ ہم اپنی امیدوں کی "صبح" کو بھر پور دیکھ بھی نہیں پاتے کہ اس پر "شام" آجاتی ہے۔ ہماری زندگی کے درخت پر شادابی اور بہار کے چند سال بھی نہیں گزرتے کہ حادثہ اور بڑھاپا اور موت اس کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔
پھول کس قدر حسین ہوتے ہیں، مگر پھول صرف اس لئے کھلتے ہیں کہ وہ مرجھا جائیں۔ سورج کی روشنی کتنی لطیف ہے، مگر سورج کی روشنی کے لئے مقدر ہے کہ وہ کچھ دیر کے لئے چمکے اور اس کے بعد رات کا تاریک پردہ اسے چھپا لے۔ ایک زندہ انسان کیسا معجزاتی وجود ہے، مگر کوئی انسان اپنے آپ کو موت اور حادثات سے نہیں بچا سکتا۔ یہی موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ یہ دنیا نا قابل قیاس حد تک نفیس اور با معنی ہے۔ مگر یہاں کی ہر خوبی زائل ہونے والی ہے، یہاں کی ہر چیز میں کوئی نہ کوئی نقص کا پہلو ہے جو کسی طرح اس سے جدا نہیں ہوتا۔ جو خدا اپنی ذات میں کامل ہو وہ ایک ایسی کائنات کو پیدا کرنے پر اکتفا نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں ناقص ہو۔ کامل کا غیر کامل پر ٹھیرا جانا ممکن نہیں۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ دنیا آخری نہیں۔ ضرور ہے کہ اُس کے بعد ایک اور دنیا آئے جو موجودہ دنیا کی کمیوں کی تلافی کرنے والی ہو۔ موجودہ دنیا کے متعلق یہ معلوم ہو چکا ہے کہ وہ فانی ہے۔ وہ تقریباً ۲۰ ہزار ملین سال پہلے ایک وقت خاص میں وجود میں آئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ازلی وجود رکھنے والا ہے۔ ایک ازلی خالق ہی ایک غیر ازلی مخلوق کو پیدا کر سکتا ہے۔ خدا اگر ہمیشہ سے نہ ہو تو وہ کائنات کبھی موجود نہیں ہو سکتی جو ہمیشہ سے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فانی کائنات کو ماننے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ ہم ایک غیر فانی خالق کو مانیں "فانی" کائنات کا موجود ہونا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک "غیر فانی" خالق موجود ہے۔ خالق اگر غیر ابدی ہوتا تو وہ سرے سے موجود ہی نہ ہوتا، اور جب خالق موجود نہ ہوتا تو مخلوقات کے وجود میں آنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ جب ہم کہتے ہیں کہ دنیا "۲۵ نومبر" کو پیدا ہوئی تو اس کا لازمی مطلب یہ ہوتا ہے کہ ۲۵ نومبر سے
پہلے کبھی کوئی موجود تھا جس نے اس کو پیدا کیا۔ اگر کہا جائے کہ پیدا کرنے والا بھی کسی پچھلے "25 نومبر" کو پیدا ہوا تھا تو یہ بات بالکل بے معنی ہوگی۔ پیدا کرنے والا اگر پچھلے کسی 25 نومبر کو پیدا ہونے والا ہو تو وہ بھی پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق ہمیشہ سے تھا، اسی لئے اس نے غیر ہمیشہ کو پیدا کیا، اگر وہ ہمیشہ سے نہ ہوتا تو وہ سرے سے موجود نہ ہوتا۔ پھر غیر ہمیشہ کا وجود کہاں سے آتا۔
خدا ازلی ہے اور اسی لئے خدا ایک کامل ہستی ہے۔ کیونکہ ازلیت کمال کا سب سے بڑا وصف ہے۔ جو ازلی ہو وہ لازماً کامل بھی ہوگا۔ ازلیت اور کمال دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک ظہور ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں کمی اور محدودیت کا ہونا بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا خدا کی صفات کا کامل ظہور نہیں۔ کامل اور ابدی خدا کی صفات کا کامل ظہور وہی ہے جو خود بھی کامل اور ابدی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا کو ابھی ایک اور دنیا کا انتظار ہے، خدا کی صفات کا ظہور اپنی تکمیل کے لئے ابھی ایک اور ظہور کا تقاضا کرتا ہے۔
جنت خدا کی وہ دنیا ہے جہاں اس کی صفات اپنے پورے کمال کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جنت ان تمام کمیوں سے پاک ہوگی جن کا ہم آج کی دنیا میں تجربہ کرتے ہیں۔ جنت خدا کی اس قدرت کاملہ کا مظہر ہے کہ وہ چین میں ابدیت کی شان پیدا کر سکتا ہے، وہ لذت کو لامحدود بنانے کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ ایسی دنیا کی تخلیق کر سکتا ہے جہاں اتھاہ سکون ہو اور جس کا حسن کبھی ختم نہ ہو سکے۔
ہر آدمی ایک ان دیکھے سکون کی تلاش میں ہے۔ ہر آدمی ایک ایسی مکمل دنیا کا طالب ہے جس کو وہ ابھی تک پا نہ سکا۔ یہ طلب موجودہ کائنات میں اجنبی نہیں۔ جو کائنات ایک ازلی خدا کی شہادت دے رہی ہو وہاں ازلی خوبیوں کی ایک دنیا کا ظہور اتنا ہی ممکن ہے جتنا خود موجودہ غیر ازلی دنیا کا ظہور۔ کیونکہ جس کائنات کا خالق اپنی ذات میں ازلی ہو وہ اپنی صفات کے غیر ازلی ظہور پر اکتفا نہیں کر سکتا۔ جس خدا نے نیست سے ہست کو پیدا کیا وہ یقیناً ہست میں ابدیت کی شان بھی پیدا کر سکتا ہے، اور یقیناً دوسرا کارنامہ پہلے کارنامہ سے کچھ مشکل نہیں۔ ازلیت ایک خاص الخاص خدائی صفت ہے، اس صفت میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔
اعلیٰ ترین کمال ہے جو صرف ایک خدا کے لئے سزاوار ہے۔ وہ جنت جو خدا کی صفتِ ازلیت کا ظہور ہو وہ ایسی عجیب و غریب چیز ہوگی جس کا آج کوئی انسان تصور نہیں کر سکتا۔ وہ حسن جس کے لئے کبھی مرجھانا نہ ہو، وہ لذت جو کبھی ختم ہونے والی نہ ہو، وہ عیش جس کا تسلسل ابدی طور پر باقی رہے، امیدوں اور تمناؤں کی وہ دنیا جس کے کمالات پر کبھی کوئی زوال نہ آئے ، ایسی جنتی دنیا اتنی حیرت ناک حد تک لذیذ ہوگی کہ آدمی نیند کے بقدر بھی اس سے انقطاع نہ چاہے گا خواہ اس پر اربوں اور کھربوں سال کیوں نہ گزر جائیں۔ انسان ہمیشہ ایک ایسی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے جس میں اس کو ابدی آرام حاصل ہو۔ صحیح بھی ہے اور انسانی فطرت کے مطابق بھی ۔ مگر ہمارے خوابوں کی یہ زندگی ہمیں موجودہ دنیا میں نہیں مل سکتی۔ موجودہ دنیا میں ابدی خوشیوں کا نظام بننا ممکن نہیں۔ یہاں وہ اسباب موجود ہی نہیں جو ابدی خوشیوں اور راحتوں کی دنیا کو ظہور میں لانے کے لئے ضروری ہیں۔
پیغمبر نے بتایا کہ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کی جگہ بنایا ہے نہ کہ انعام پانے کی جگہ۔ وہ اسباب جمع کئے گئے ہیں جو آدمی کے امتحان کے لئے ضروری ہیں۔ خوشیوں اور راحتوں کی ابدی زندگی حاصل کرنے کے لئے جو اسباب درکار ہیں وہ دوسری دنیا میں فراہم ہوں گے جو موجودہ دنیا کے بعد ہمارے سامنے آنے والی ہے۔ ہمارے اور اس اگلی دنیا کے درمیان موت کا فاصلہ ہے۔ موت آدمی کے امتحان کی تکمیل کا وقت ہے اور اسی کے ساتھ آگے کی ابدی دنیا میں داخل ہونے کا بھی۔
جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کو اس کے خوابوں کی زندگی ملے ، اس کو موجودہ دنیا میں اپنی ” جنت “ بنانے کی بے فائدہ کوشش میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے بجائے اس کو یہ کوشش کرنا چاہئے کہ وہ آج کی دنیا میں ہونے والے امتحان میں پورا اترے۔ وہ دنیا میں خدا کا بندہ بن کر زندگی گزارے۔ کی پیروی کو اپنا طریقہ بنائے۔ وہ اپنی آزادی کو خدا کے احکام کی پابندی میں دے دے ۔ جو لوگ آج کے امتحان میں پورے اتریں گے وہ اگلی زندگی میں اپنے خوابوں کی دنیا کو پائیں گے۔ امتحان میں ناکام رہیں گے وہ زندگی کے اگلے مرحلے میں اس حال میں پہنچیں گے کہ ابدی بربادی کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوگی جو وہاں ان کا استقبال کرے۔