سچائی کیا ہے
Al-Risala, March 1981, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک سیدھی لکیر صرف ایک ہوتی ہے۔ اسی طرح بندے کو خدا تک پہنچانے والا سیدھا راستہ بھی کوئی ایک ہی راستہ ہو سکتا ہے۔ اسی راستہ کا نام سچائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ سچائی کیا ہے اور اس کو کس طرح دریافت کیا جائے۔
ہماری خوش قسمتی سے سچائی جس طرح ایک ہے اسی طرح وہ میدان میں بھی تنہا ہے۔ یہاں کئی چیزیں نہیں ہیں جن کے درمیان انتخاب کا سوال ہو۔ یہاں تو ایک ہی چیز ہے اور ہمارے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس ایک کو مان لیں۔ یہ واحد سچائی محمد رسول اللہ کی تعلیمات ہیں۔ اگر آدمی سچائی کی تلاش میں فی الواقع سنجیدہ ہو تو وہ پائے گا کہ خدا نے اس کو انتخاب کی آزمائش میں نہیں ڈالا۔ خدا نے ہم کو ایک ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں انتخاب حق اور ناحق کے درمیان ہے نہ کہ حق اور حق کے درمیان۔ فلسفہ سچائی کی تلاش میں کم از کم پانچ ہزار سال سے سرگرداں ہے۔ مگر اس کی لمبی تلاش نے اس کو صرف اس مقام پر پہنچایا ہے کہ وہ خود اقرار کر رہا ہے کہ وہ آخری سچائی تک نہیں پہنچ سکا اور نہ کبھی فلسفہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عقلی غور و فکر کے ذریعہ سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی معلومات کے دائرہ میں غور کرتی ہے۔ اور سچائی کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں کوئی واقعی رائے قائم کرنے کے لئے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ کوئی فلسفی کبھی کائناتی معلومات تک نہیں پہنچ سکتا اس لئے وہ سچائی کے بارے میں کوئی قطعی رائے بھی قائم نہیں کر سکتا۔ سائنس نے اس معاملہ میں اپنے کو میدان میں کھڑا ہی نہیں کیا ہے۔ سائنس اپنی کھوج ان امور میں جاری کرتی ہے جہاں قابل اعادہ تجربات کے ذریعہ نتائج تک پہنچنا ممکن ہو۔ سائنس پھول کی کیمسٹری کو موضوع بحث بناتی ہے مگر وہ پھول کی مہک کو اپنی بحث سے خارج قرار دیتی ہے۔ کیونکہ پھول کے کیمیائی اجنار تولے اور ناپے جاسکتے ہیں مگر پھول کی مہک کو تولنے اور ناپنے کا کوئی ذریعہ سائنس کے پاس نہیں اس طرح سائنس نے اپنے دائرہ بحث کو خود ہی محدود کر لیا ہے۔ چنانچہ سائنس نے پیشگی یہ اقرار کر لیا ہے کہ وہ عالم حقائق کے صرف جزئی پہلو سے بحث کرتی ہے، وہ کلی حقائق کے بارے میں کوئی بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
روحانی شخصیات کا دعویٰ ہے یا کم از کم ان کے ماننے والے عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ سچائی سے باخبر ہیں اور سچائی کے بارے میں قطعی معلومات دے سکتے ہیں۔ مگر اس عقیدہ کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ روحانی شخصیات اپنے دعوے کے مطابق جس ذریعہ سے سچائی تک پہنچتی ہیں وہ روحانی ریاضتیں ہیں۔ نام نہاد روحانی ریاضتیں حقیقۃً جسمانی ریاضتیں ہیں اور جسمانی ریاضتوں کے ذریعہ روحانی دریافت بجائے خود ایک بے اصل بات ہے۔ دوسرے یہ کہ کوئی بھی روحانی شخصیت، اپنی ذات میں، ان محدودیتوں سے خالی نہیں ہے جو محدودیتوں کا شکار اس کے جیسے دوسرے تمام انسان ہیں۔ یہ دوسرے انسان اپنی جن محدودیتوں وجہ سے سچائی تک نہیں پہنچ سکتے وہی محدودیتیں خود ان روحانی شخصیتوں کی راہ میں بھی حائل کسی بھی قسم کی ریاضت آدمی کو اس کی فطری محدودیتوں سے بالا نہیں کر سکتی، اس لئے کسی بھی قسم کی ریاضت اس کو مطلق سچائی تک نہیں پہنچا سکتی۔
اس کے بعد میدان میں صرف پیغمبر رہ جاتے ہیں۔ پیغمبر وہ انسان ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کا انتخاب کیا ہے اور اس پر سچائی کا علم اتارا ہے تاکہ وہ اس کو دوسرے تمام لوگوں تک پہنچا دے۔ اپنی نوعیت کی حد تک یہی ایک دعویٰ ہے جو اس معاملہ میں قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ سچائی کا حقیقی علم صرف خدا ہی کو ہو سکتا ہے جو ازلی و ابدی ہے اور تمام حقیقتوں سے براہ راست واقف ہے۔ خدا کا خدا ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ حقیقت کا کلی علم رکھتا ہو۔ اس لئے جو شخص یہ کہے کہ اس کو براہ راست خدا کی طرف سے سچائی کا علم پہنچا ہے اس کا دعویٰ یقیناً اس قابل ہے کہ اس معاملہ میں اس کا لحاظ کیا جائے۔ یہاں ایک سوال ہے۔ پیغمبر ہماری دنیا میں کوئی ایک نہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی کئی کی ہیں۔ پھر کس پیغمبر کو مانا جائے۔ تاہم آدمی اگر سچائی کی تلاش میں سنجیدہ ہو تو اس سوال کا جواب معلوم کرنا کچھ مشکل اس میں شک نہیں کہ خدا نے ماضی میں بہت سے لوگوں کو پیغمبری کے لئے چنا۔ مگر ایک کے سوا تمام پیغمبر اعتقادی پیغمبر ہیں نہ کہ تاریخی پیغمبر۔ ماضی کے کسی واقعہ کو ماننے کا واحد معیار انسان کے پاس یہ ہے کہ اس کو تاریخی اعتبار یت حاصل ہو۔ مگر یہ پیغمبر اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ جو لوگ پیغمبر ہونے کے مدعی ہوئے ہیں ان ان میں صرف ایک ہی پیغمبر ہیں جن کو پورے معنوں میں تاریخی اعتبار یت کا درجہ حاصل ہے۔ اور وہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں ہر بات تاریخی طور پر معلوم اور مسلم ہے۔ موجودہ زمانہ کی کسی شخصیت کے بارے میں ہم جتنا جانتے ہیں اس سے بھی زیادہ ہم پیغمبر عربی کے بارے میں جانتے ہیں۔ آپ کے سوا دوسرے
تمام پیغمبر روایات کے اندھیرے میں گم ہیں، ان کے بارے میں مکمل تاریخی معلومات حاصل نہیں۔ ان کی چھوڑی ہوئی کتاب آج اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔ یہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی زندگی تاریخی طور پر پوری طرح معلوم ہے۔ اور وہ کتاب بھی ادنیٰ تبدیلی کے بغیر کامل صورت میں موجود ہے جس کو آپ نے یہ کہہ کر لوگوں کے حوالے کیا تھا کہ یہ میرے پاس خدا کی طرف سے آئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خالص علمی عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو ’’سچائی کیا ہے‘‘ کے سوال کا جواب نہ صرف نظری طور پر ایک ہے بلکہ علمی طور پر بھی میدان میں صرف ایک ہی جواب موجود ہے۔ یہاں دوسرا کوئی جواب حقیقی طور پر موجود ہی نہیں۔ ہمیں بہت سے جوابات میں سے ایک جواب کو چننا نہیں ہے بلکہ ایک ہی موجود جواب کو اختیار کرنا ہے یہ سچائی خدا کی بات ہے اور خدا کی بات ہمیشہ ایک رہتی ہے۔ جس طرح دنیا کی دوسری چیزوں کے لئے خدا کا حکم ہمیشہ سے ایک ہے، اسی طرح انسان کے لئے بھی خدا کا حکم ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔ زمین و آسمان کا قانون اربوں سال گزرنے پر بھی نہیں بدلتا۔ درخت اور پانی کے اصول جو ایک جغرافیہ میں ہوتے ہیں وہی دوسرے جغرافیہ میں ہوتے ہیں، یہی حال انسان کے بارے میں خدا کے حکم کا بھی ہے۔ کے بارے میں خدا کا جو حکم ہے وہ وہی آج بھی ہے جو ہزاروں سال پہلے تھا۔ وہ ایک ملک کے انسانوں کے لئے بھی وہی ہے جو دوسرے ملک کے انسانوں کے لئے۔
زندگی کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو بدلتے رہتے ہیں ۔ مثلاً سواریاں، مکانات وغیرہ ۔ مگر سچائی کا تعلق اس قسم کی چیزوں سے نہیں۔ سچائی کا تعلق اُس انسان سے ہے جو ہمیشہ ایک حالت میں رہتا ہے۔ سچائی کا تعلق اُس سے ہے کہ آدمی کس کو اپنا خالق و مالک سمجھے۔ وہ کس کے آگے جھکے اور کس کی عبادت وہ کس سے ڈرے اور کس سے محبت کرے۔ وہ اپنی کامیابی اور ناکامی کو کس معیار سے جانچے۔ اس کی زندگی کا مقصد اور اس کے جذبات کا مرکز کیا ہو۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے وہ کن قواعد کے تحت ان سے معاملہ کرے۔ سچائی کا تعلق زندگی کے انہیں امور سے ہے، اور یہ امور وہ ہیں جن کا کوئی تعلق زمانہ یا جغرافیہ سے نہیں۔ وہ ہر مقام پر اور ہر زمانہ میں یکساں طور پر ہر ایک سے مطلوب ہوتے ہیں۔ ایک ہے اور ابدی ہے۔ ٹھیک اسی طرح سچائی بھی ایک ہے اور اسی کے ساتھ ابدی بھی۔