خطرہ کا الارم
Al-Risala, March 1981, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کی حقیقت کیا ہے، عام آدمی اس قسم کے سوالات میں پڑنا پسند نہیں کرتا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ یہاں عزت اور آرام کے ساتھ اپنی عمر پوری کر لو۔ اس کے بعد نہ تم ہو گے اور نہ تمھارا کوئی مسئلہ۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اس سوال کے بارے میں سوچتے ہیں۔ مگر ان کا سوچنا فلسفیانہ انداز کا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی ساری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ سامنے کی دنیا کی کوئی نظریاتی توجیہہ حاصل کر لیں۔ اس قسم کی فلسفیانہ توجیہات، تعداد میں مختلف ہونے کے باوجود، صرف وہ آدمی کے لئے کوئی ذاتی مسئلہ پیدا نہیں کرتیں۔ ایک روح عالم اپنی تکمیل کے لئے پورے کارخانہ کو چلا رہی ہے یا تمام چیزیں کسی بالاتر وجود کے اجزا رہیں، اس قسم کی نظریاتی بحثوں سے ایک آدمی کا ذاتی تعلق کیا ہے۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس اس سوال کا کوئی نہ کوئی مذہبی جواب ہے۔ میں بھی آدمی کے لئے کوئی سنگینی کا پہلو نہیں۔ ان میں سے کسی کے نزدیک خدا کا بیٹا تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ بن چکا ہے۔ کسی کے نزدیک زندگی ہمارے شعور سے بالاتر ایک جبری چکر ہے۔ جبری نظام کے تحت اپنے آپ بار بار پیدا ہوتا ہے اور بار بار مرتا ہے۔ کوئی بتاتا ہے کہ آدمی کی جو کچھ جزا و سزا ہے اسی دنیا کی زندگی میں ہے، وغیرہ۔
زندگی کے مسئلہ کے بارے میں اس قسم کے جتنے بھی جوابات ہیں وہ باہم ایک دوسرے سے کافی مگر اس حیثیت سے سب ایک ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ایک ایک آدمی کے لئے ذاتی طور پر کوئی سنگین مسئلہ پیدا کرتا ہو۔ یہ جوابات یا تو جو کچھ ہو رہا ہے اس کی محض توجیہات ہیں یا ہمارے لئے صرف ایک قسم کی روحانی تسکین فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ وہ اس نوعیت کی کوئی چیز نہیں ہیں جس کو کسی بڑے خطرہ کا الارم کہا جائے۔
مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ان تمام جوابات سے سراسر مختلف ہے۔ دوسرے جوابات میں سے کوئی جواب بھی آدمی کے لئے ذاتی سوال نہیں بنتا، وہ آدمی کے لئے کوئی نازک مسئلہ کھڑا نہیں کرتا۔ اسلام کا جواب ایک ایک آدمی کو ایسے خطرناک کنارے پر کھڑا کر رہا ہے جس کے بعد اس کا اگلا قدم یا تو تباہی
کے خوفناک گڑھے میں پڑنے والا ہے یا کامیابی کی ابدی دنیا میں ۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی آپ کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہو۔ وہ اندھیرے میں چلنے والے اس مسافر سے بھی زیادہ سنجیدہ ہو جائے جس کی ٹارچ اچانک اس کو "خبر" دے کہ اس کے سامنے عین اگلے قدم پر کالا سانپ رینگ رہا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیغام دیا وہ ساری دنیا کے لئے بہت بڑی چیتاونی ہے۔ بتایا کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اور وسیع تر دنیا آنے والی ہے جس کا نام آخرت ہے۔ وہاں ہر آدمی کا حساب لیا جائے گا اور ہر آدمی کو اس کے عمل کے مطابق یا تو ابدی عذاب ہو گا یا ابدی ثواب۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں آدمی کا سہارا بنی ہوئی ہیں ان میں سے کوئی چیز وہاں کسی کے کام نہیں آئے گی۔ وہاں نہ خرید و فروخت ہو گی ، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی قسم کی سفارش چلے گی (بقرہ ۲۵۴)
آپ کی یہ چیتاونی آپ کے وجود کو ہر شخص کا ذاتی سوال بنا دیتی ہے۔ اس کے مطابق ہر آدمی ایک انتہائی نازک انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ وہ یا تو آپ کی خبر پر یقین کر کے آپ کی ہدایت کے مطابق ابدی جنت میں جانے کی تیاری کرے یا آپ کی خبر کو نظر انداز کر دے اور بے پروائی کی زندگی گزار کر ابدی جہنم کا خطرہ مول لے۔
یہاں دو چیزیں ہیں جو اس مسئلہ کو مزید سنجیدہ بنا رہی ہیں۔ آپ کے سوا دوسرے لوگ جو اس معاملہ میں کوئی بات کہہ رہے ہیں ان کا استناد حد درجہ مشتبہ ہے۔ وہ لوگ جو کمانے اور مر جانے کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے پاس اپنے خیال کے لئے سرے سے کوئی دلیل نہیں۔ ان کا فکری ڈھانچہ کسی دلیل کے بغیر محض سطحی جذبات پر قائم فلسفیانہ انداز میں بات کرنے والے لوگوں کے پاس بھی دلیل کے نام سے صرف قیاسات ہیں۔ ان کو نہ اپنی رائے پر خود یقین حاصل ہے نہ وہ کوئی ایسی بات پیش کرتے جس کے اوپر دوسرا شخص یقین کر سکے۔ اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو پیغمبروں اور مذہبی کتابوں کے حوالے سے بول رہے ہیں۔ یہ اصولی طور پر اپنے پیچھے ایک قابل اعتماد بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر وہ جن کتابوں اور پیغمبروں کا حوالہ دیتے ہیں ان کا تعلق ماضی کے بہت پہلے گزرے ہوئے زمانہ سے ہے۔ ان کتابوں اور شخصیتوں کے بارے میں آج ہمارے پاس مستند معلومات موجود اس لئے اصولی طور پر قابل اعتماد ذریعہ سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ
بجائے خود قابل اعتماد نہیں۔ ماضی کی کسی چیز کی صداقت کو جانچنے کا معیار تاریخ ہے اور ان تعلیمات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں۔
مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ ایک طرف کہ کسی شخص کے پیغمبر خدا ہونے کا جو بھی معیار مقرر کیا جائے، اس پر آپ کامل طور پر پورے اترتے ہیں۔ آپ کی زندگی میں وہ تمام عناصر تمام و کمال موجود ہیں جو خدا کے ایک پیغمبر میں ہونے چاہئیں۔ آپ کی پیغمبری ایک ایسا ثابت شدہ واقعہ ہے جس سے انکار کسی حال میں ممکن نہیں۔
دوسرے یہ کہ آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات اتنی صحت کے ساتھ آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں کہ ان کی تاریخی اعتباریت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کا دیا ہوا قرآن آج بھی اسی طرح لفظ بلفظ موجود ہے جس طرح آپ نے اس کو دیا تھا۔ آپ کا قول و عمل اس طرح صحت کے ساتھ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے جیسے کہ آج بھی آپ ہمارے سامنے بول رہے ہوں اور چل پھر رہے ہوں۔ بغیر کسی ادنی شبہ کے آدمی آج بھی یہ معلوم کر سکتا ہے کہ آپ نے کیا کہا اور کیا کیا۔
پیغمبر کی چیتاونی کے مطابق ہم ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہیں جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کا سامنا کریں۔ موت یا خودکشی سے بھی ہم معدوم نہیں ہوتے بلکہ صرف دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ یا ناکامی کا ایک نقشہ خالق نے ابدی طور پر بنا دیا ہے۔ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس خدائی نقشہ کو بدل دے یا اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ کر لے۔ ہم کو صرف یہ اختیار ہے کہ جنت یا جہنم میں سے کسی ایک کو چن لیں۔ ہم کو یہ اختیار نہیں کہ دونوں سے الگ ہو کر اپنے لئے کسی تیسرے انجام کی تخلیق کریں۔
رصد گاہ اگر بھونچال کی خبر دے تو یہ ایک ایسے آنے والے حادثہ کی خبر ہوتی ہے جس میں فیصلہ کا اختیار تمام تر دوسرے فریق کو ہوتا ہے، دوچار ہونے والے کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یا تو اس سے بھاگ کر اپنے کو بچائے یا اس میں ٹکر کرا اپنے کو برباد کر لے۔ اسی طرح قیامت بھی ایک ایسا بھونچال ہے جس میں آدمی یا تو پیغمبر کی بتائی ہوئی تدبیر اختیار کر کے اپنے کو بچائے گا یا اس کو نظر انداز کر کے اپنے کو ابدی ہلاکت میں مبتلا کرے گا۔