Al-Risala · March 1981

پیغمبر خدا کی تعلیمات

Al-Risala, March 1981, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا دین ایک دین ہے۔ تمام پیغمبروں کے ذریعہ ایک ہی دین ہمیشہ بھیجا جاتا رہا ہے۔ انسان نے اپنی غفلت کی وجہ سے یا تو اس کو ضائع کر دیا یا اس کو بدل ڈالا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسی خدائی دین کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ اور اس کو اس کی اصلی شکل میں پیش کر کے ہمیشہ کے لئے کتابی صورت میں محفوظ کر دیا گیا۔ اب تمام انسانوں کے لئے قیامت تک یہی مستند دین ہے۔ خدا کی قربت اور آخرت کی نجات حاصل کرنے کا اس کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔

آپ نے بتایا کہ خدا ایک ہے اس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی شریک نہیں۔ اسی نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور اسی کو ہر قسم کی طاقتیں حاصل ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ صرف اسی کے آگے جھکے اور اسی کی عبادت اسی سے مانگے اور اسی سے امیدیں قائم کرے۔ خدا اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ انسان سے اتنا قریب ہے کہ جب بھی آدمی اس کو پکارتا ہے وہ اس کی پکار کو سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ نزدیک کسی انسان کا یہ سب سے بڑا گناہ ہے کہ وہ کسی اعتبار سے کسی کو خدا کا شریک یا اس کے برابر ٹھہرائے۔ کوئی انسان یا غیر انسان ایسا نہیں جس کو خدا اور بندوں کے درمیان وسیلہ یا واسطہ کا مقام حاصل انسان جب بھی خدا کو یاد کرتا ہے، وہ براہ راست خدا سے مربوط ہو جاتا ہے۔ انسان کو اپنے خالق و مالک سے جڑنے کے لئے کسی درمیانی وسیلہ کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح آخرت میں بھی کوئی خدا کی عدالت میں کسی کا سفارشی نہیں بن سکتا۔ خدا اپنے ہر بندے کا فیصلہ خود اپنے علم کے مطابق کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کے فیصلہ پر اثر انداز ہو سکے۔ خدا اپنا فیصلہ کرنے میں کسی کا پابند نہیں۔ خدا کے تمام فیصلے حکمت اور انصاف کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ سفارش یا تقرب کی بنیاد پر۔

خدا کی عبادت کوئی عملیاتی ضمیمہ نہیں ہے۔ یہ پوری زندگی کے ساتھ خدا کے آگے جھک جانا ہے۔ عبادت کرنے والا وہی ہے جو خدا کا عابد اس طرح بنے کہ خدا ہی اس کا سب کچھ ہو جائے، وہ اسی کی پرستش کرے، اسی سے ڈرے، اسی کو چاہے، اسی سے امید باندھے، وہ اس کو اپنی تمام تو جہات اور سرگرمیوں کا مرکز خدا کی عبادت خدا کے سامنے کامل حوالگی کا نام ہے نہ کہ محض کسی رسم کی وقتی بجا آوری کا۔

بندوں کے درمیان وہتے ہوئے آدمی کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اپنے علم کے مطابق اس سے اس کی کارگزاری کا حساب لے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی ظلم، جھوٹ، بغض، گھمنڈ حسد، خود غرضی، بد معاملگی، لوٹ کھسوٹ، دھاندلی، اور اس قسم کی دوسری اخلاقی برائیوں سے اپنے کو بچائے تاکہ خدا کی میزان میں وہ مجرم نہ ٹھہرے۔ اللہ سے ڈرنے والا بندوں کے معاملہ میں نڈر ہو کر نہیں رہ سکتا۔ لوگ بندوں کے ساتھ برا سلوک کریں گے ان کو خدا سے اپنے لئے اچھے سلوک کی امید نہ رکھنی چاہئے۔ اچھے سلوک کا مستحق صرف وہ ہے جو خدا کے یہاں اس طرح پہنچے کہ اس نے خدا کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہو۔ آپ نے بتایا کہ خدا کی زمین پر خدا کے بندوں کے لئے زندگی گزارنے کا صرف ایک ہی جائز طریقہ ہے۔ یہ کہ آدمی پوری زندگی اور تمام معاملات میں خدا کا فرماں بردار بن کر رہے۔ اس فرماں برداری کے آداب اور اصول قرآن میں لکھے ہوئے ہیں۔ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا عملی نمونہ موجود ہے۔ انسانوں کے لئے خدا کی پسندیدہ زندگی صرف یہ ہے کہ وہ قرآن سے اپنے لئے ہدایت حاصل کرے اور پیغمبر کے نمونہ کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق زندگی گزارے آپ نے جو دین پیش کیا ہے وہ آدمی کی پوری زندگی کے لئے ایک واضح نقشہ دیتا ہے اور ہر آدمی کو اسی نقشہ پر چلنا ہے۔ اس نقشہ کا ایک مختصر علامتی نظام پانچ خاص ارکان کی صورت میں مقرر کیا گیا ہے۔ ارکان پوری اسلامی زندگی کے لئے بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔

اول کلمہ شہادت (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کا اقرار ہے۔ یہ کلمہ گویا وہ اعلان ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آدمی ایک دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل ہو گیا۔ وہ غیر اسلام کو چھوڑ کر اسلام کی صف دوسری چیز نماز ہے۔ یعنی پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق روزانہ پانچ وقت خدا کی عبادت تیسری چیز روزہ ہے۔ یعنی ہر سال رمضان میں پورے ایک مہینہ تک صبر و برداشت کا رہ عمل کرنا جس کو روزہ کہا جاتا ہے۔ چوتھی چیز زکوۃ ہے۔ یعنی آدمی اپنے مال میں سے مقرر طریقہ کے مطابق ہر سال خدا کا حق نکالے اور اس کو خدا کی مقرر کی ہوئی مددوں میں خرچ کرے۔ پانچویں چیز حج ہے۔ یعنی استطاعت کی صورت میں عمر میں کم از کم ایک بار بیت اللہ کا حج کرنا۔ آدمی جب یہ پانچ شرطیں پوری کرتا ہے تو وہ پیغمبر کی قائم کی ہوئی اسلامی برادری میں شامل ہو جاتا ہے۔

زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک زندگی وہ ہے جو آخرت کی بنیاد پر بنتی ہے۔ دوسری زندگی وہ ہے جو دنیا کی بنیاد پر بنتی ہے۔ آخرت کی بنیاد پر بننے والی زندگی میں رہنمائی کا مقام بغیر کہو حاصل رہتا ہے۔ آدمی پیغمبر کے بتانے کے مطابق اپنا عقیدہ بناتا ہے اور اسی کے بتانے کے مطابق اپنی زندگی کو چلاتا ہے۔ اس کے برعکس جو زندگی دنیا کی بنیاد پر بنتی ہے اس میں آدمی اپنا رہنما آپ ہوتا ہے اور اپنی عقل یا نفس کے مطابق اپنے فکر و عمل کا ڈھانچہ پہلا اگر خدا کا پرستار ہوتا ہے تو دوسرا خود اپنا۔

پیغمبر کی رہنمائی میں جو زندگی بنتی ہے اس کے اجزاء ہوتے ہیں ــــــ خدا پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، خدا کی کتابوں پر ایمان، خدا کے رسولوں پر ایمان، قیامت اور زندگی بعد موت پر ایمان، انت دوزخ پر ایمان، اللہ کے مالک اور حاكم ہونے پر ایمان۔ اس ایمانیات کے تحت جو انسان بنتا ہے وہ ایسا انسان ہوتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کئے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی تمام سرگرمیاں آخرت رخی بن جاتی ہیں۔ اس کی عبادت، اس کی قربانیاں ، اس کا جینا اور اس کا مرنا سب اللہ اور رسول کے لئے ہو جاتا ہے۔

جو زندگی خود اپنی رہنمائی میں بنے وہ ایک آزاد اور بے قید زندگی ہوتی ہے، اس میں آدمی کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنے خیالات کے مطابق اپنی پسند کا عقیدہ بنا لیتا ہے۔ اس کے صبح و شام خود اپنی عقل یا نفس کی رہنمائی میں بسر ہوتے ہیں۔ اس کی سرگرمیاں تمام تر دنیا کے فائدوں کے گرد گھومتی ہیں ۔ ویسا بنتا ہے جیسا وہ خود بننا چاہتا ہے نہ کہ ویسا جو خدا اور رسول چاہتے ہیں کہ وہ بنے۔ جو لوگ کسی پچھلے پیغمبر کے نام پر کسی دین کو پکڑے ہوئے ہیں ، ان کی مذہبیت یا خدا پرستی اس وقت تک معتبر نہیں جب تک وہ پیغمبر اسلام پر ایمان نہ لائیں۔ پیغمبر اسلام پر ایمان لانا گویا خود اپنے دین ہی کو زیادہ صحیح اور کامل صورت میں اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ آپ کے اوپر ایمان نہ لائیں وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ پیغمبر کے نام پر اپنی قومی روایات اور گروہی تعصبات کو اپنا دین بنائے ہوئے جو لوگ قومی مذہب کے پرستار ہوں وہ آپ کے لائے ہوئے خدائی مذہب کو نہ پائیں گے۔ تعصباتی پردہ کی وجہ سے اس سچائی کو نہ دیکھ سکیں گے جو خدا نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعہ ان کے لئے کھولی ہے۔ البتہ جو لوگ فی الواقع خدا اور پیغمبر کے ماننے والے ہوں جن کو پیغمبر اسلام کا دین خود اپنی ہی چیز معلوم ہوگا۔ اس کو اس طرح لیں گے جس طرح کوئی اپنی کھوئی چیز کو ڈھونڈ کر لے لیتا ہے۔

Printed page