آخری بات
Al-Risala, March 1981, pp. 16–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک گھنٹہ گھر کسی چوراہے پر تعمیر کر دیا جائے تو ہر شخص اس میں وقت دیکھتا ہے اور اپنی گھڑیاں اس سے ملالیتا ہے۔ کسی کو یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ جن کاریگروں اور انجینئروں نے اس کو نصب کیا ہے وہ مسلمان تھے یا غیر مسلمان ۔ اپنی قوم کے تھے یا دوسری قوم کے۔ یا یہ کہ جو گھڑی اس میں لگائی گئی ہے وہ کہاں کی بنی ہوئی ہے۔ اپنے ملک کی یا دوسرے کسی ملک کی ۔ صرف اس بات کا یقین کہ اُس سے صحیح وقت معلوم کیا جاسکتا ہے ، ہر شخص کو اس کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ خدا کا دین بھی تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے اسی قسم کا ایک " گھنٹہ گھر " ہے ۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ اس کو دیکھیں اور اس سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ لوگ وقت جاننے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ مگر خدا کی بات جاننے کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ خدا کے دین کا تعلق اگلی زندگی کے معاملے سے ہے اور گھڑی کا تعلق آج کی زندگی کے معاملے سے۔ لوگوں نے جس چیز کو اپنا مقصد بنا رکھا ہے اس کے بارے میں گھڑی کی اہمیت انھیں معلوم ہے ۔ مگر اگلی زندگی میں کامیابی کو انھوں نے اپنا مقصد ہی نہیں بنایا ۔ پھر اس میں رہنمائی دینے والی چیز کی اہمیت کا احساس انھیں کیوں کر ہو۔
پھر خدا پرستی کا تقاضا صرف یہ نہیں ہے کہ اس کو مان لیا جائے ۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اپنے کو شامل کیا جائے ۔ خدا پرستی اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک اندرونی حالت کا نام ہے مگر اسی کے ساتھ اس کی ایک ظاہری صورت بھی ہے۔ خدا کو پانا کسی آدمی کے لئے شدت تاثر کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور شدت تاثر کبھی چھپا ہوا نہیں رہ سکتا ۔ ایک شخص پر خدا کی سچائی منکشف ہو تو وہ ضرور ظاہر ہو کر رہے گی۔ بے اختیار چاہے گا کہ اس کا پورا ماحول اس بات کا گواہ بن جائے کہ اس نے خدا کی پکار پر لبیک کہا اور مفاد اور مصلحت کے بتوں کو توڑ کر اس کا ساتھ دیا۔ اگر کوئی شخص قلبی ایمان کا مدعی ہو مگر وہ اعلان و اظہار سے گریز کرتا ہو تو یہ یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مصلحتوں کا شکار ہے۔ اور جو لوگ خدا کے مقابلہ میں مصلحت کو ترجیح دیں وہ کبھی خدا کو نہیں پاتے مصلحت اور تعصب خدا پرستی کی ضد ہیں۔ مصلحت اور تعصب کے ساتھ خدا پرستی کا ایک روح میں جمع ہونا ممکن نہیں۔
پس کھاؤ اس جانور میں سے جس پر اللہ کا نام لیا جائے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہوا۔ اور کیا وجہ ہے کہ تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ خدا نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں وہ چیزیں جن کو اس نے تم پر حرام کیا سوا اس کے کہ اس کے لئے تم مجبور ہو جاؤ۔ اور یقیناً بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنا پر گم راہ کرتے ہیں بغیر کسی علم کے۔ بے شک تمہار رب خوب جانتا ہے حد سے نکل جانے والوں کو۔ اور تم گناہ کے ظواہر کو بھی چھوڑ دو اور اس کے باطن کو بھی۔ جو لوگ گناہ کما رہے ہیں ان کو جلد بدلہ مل جائے گا اس کا جو وہ کر رہے تھے۔ تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ یقیناً یہ بے حکمی ہے اور شیاطین القا کر رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔ اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے ۲۱ - ۱۱۸ دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لئے ”مال غیر“ ہے۔ کیونکہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لئے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے استعمال کیا جائے۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔
جانور ہمارے لئے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لئے کیسے جائز ہو کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں ۔ کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں ہے۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف و تشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف و تشکر وہ ”قیمت“ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لئے حلال ہو جاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ جب آدمی حرام و حلال اور جائز و ناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد تو ہمات اس کی جگہ لے لیتے یہ لوگ تو ہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کر لیتے ہیں۔ ان تو ہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظاہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان تو ہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں، اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لئے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کر سکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح ہے اور یہ ”نیا دین“ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا تو ہمات کی زمین پر۔
کبے وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔ اس طرح کافروں کی نظر میں ان کے اعمال خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ اور اس طرح ہر بستی میں ہم نے گنہگاروں کے سردار رکھ دئے ہیں کہ وہ وہاں حیلے کریں۔ حالاں کہ وہ جو حیلہ کرتے ہیں اپنے ہی خلاف کرتے ہیں مگر وہ اس کو نہیں سمجھتے۔ اور جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ دیا جائے جو خدا کے پیغمبروں کو دیا گیا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو بخشے۔ جو لوگ مجرم ہیں ضرور ان کو اللہ کے یہاں ذلت نصیب ہوگی اور سخت عذاب بھی، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے (۱۲۲ - ۱۲۴)
اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔ مردہ آدمی اوہام و تعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے آشنابے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پا تا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مردہ انسان بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لئے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لئے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نہیں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہو جائیں۔ سچائی اس کے لئے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس کو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چو کے اور جس کو پانے کے لئے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بنا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف یا اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔ یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں ۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعہ داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا در اصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے۔ ہوئے حق کو۔
اللہ جس کو چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سینہ کو بالکل تنگ کر دیتا ہے، جیسے اس کو آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اس طرح اللہ گندگی ڈال دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔ اور یہی تمھارے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے واضح کر دی ہیں نشانیاں غور کرنے والوں کے لئے۔ انھیں کے لئے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے پاس۔ اور وہ ان کا مددگار ہے اس عمل کے سبب سے جو وہ کرتے رہے ۲۶-۱۲۵ حق اپنی ذات میں اتنا واضح ہے کہ اس کا سمجھنا کبھی کسی آدمی کے لئے مشکل نہ ہو۔ پھر بھی ہر زمانہ میں بے شمار لوگ حق کی وضاحت کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کے اندر کی وہ رکاوٹیں ہیں جو وہ اپنی نفسیات میں پیدا کر لیتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مقدس ہستیوں سے اتنا زیادہ وابستہ کر لیتا ہے کہ ان کو چھوڑتے ہوئے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالکل برباد ہو جائے گا۔ کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کا نظام ٹوٹنے کا اندیشہ اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ اس کے لئے حق کی طرف اقدام کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی کو نظر آتا ہے کہ حق کو ماننا اپنی بڑائی کے مینار کو اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا ہے۔ کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ ماحول کے رواج کے خلاف ایک بات کو اگر میں نے مان لیا تو میں سارے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاؤں گا۔ اس طرح کے خیالات آدمی کے اوپر اتنا مسلط ہو جاتے ہیں کہ حق کو ماننا اس کو ایک بے حد مشکل بلندی پر چڑھائی کے ہم معنی نظر آنے لگتا ہے جس کو دیکھ کر ہی آدمی کا دل تنگ ہونے لگتا ہو۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے، جو حق کو ہر دوسری چیز سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے سے سچے متلاشی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو بلا تامل وہ اس کو پہچان لیتے ہیں اور تمام عذرات اور اندیشوں کو نظر انداز کر کے اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ خدا اپنے حق کو نشانیوں (اشاراتی حقائق) کی صورت میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے دلوں میں کمزوریاں لئے ہوئے ہیں وہ ان اشارات کی خود ساختہ تاویل کر کے اپنے لئے اس کو نہ ماننے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ جن لوگوں کے سینے کھلے ہوتے ہیں وہ اشارات کو ان کی اصل گہرائیوں کے ساتھ پا لیتے ہیں اور ان کو اپنے ذہن کی غذا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی فی الفور اس سیدھے راستہ پر چل پڑتی ہے جو خدا کی براہ راست رہنمائی میں طے ہوتا ہے اور بالآخر آدمی کو ابدی کامیابی کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔
خدا کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ عمل کی ہے نہ کہ کسی اور چیز کی۔ جو شخص عملی طور پر خدا کی فرماں برداری اختیار کرے گا وہی اس قابل ٹھیرے گا کہ خدا اس کی دست گیری کرے اور اس کو اپنے سلامتی کے گھر تک پہنچادے۔ یہ سلامتی کا گھر خدا کی جنت ہے جہاں آدمی ہر قسم کے دکھ اور آفت سے محفوظ رہ کر ابدی سکون کی زندگی گزارے گا۔ خدا کی یہ مدد افراد کو ان کے عمل کے مطابق موت کے بعد آنے والی زندگی میں ملے گی۔ لیکن اگر افراد کی قابل لحاظ تعداد دنیا میں خدا کی فرماں بردار بن جائے تو ایسی جماعت کو دنیا میں بھی اس کا ایک حصہ دے دیا جاتا ہے۔
اور جس دن اللہ ان سب کو جمع کرے گا، اے جنیوں کے گروہ تم نے بہت سے لے لئے انسانوں میں سے۔ میں سے ان کے ساتھی کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے ایک دوسرے کو استعمال کیا اور ہم پہنچ گئے اپنے اس وعدہ کو جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا۔ خدا کہے گا اب تمھارا ٹھکانا آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہو گے مگر جو اللہ چاہے ۔ تمھارا رب حکمت والا علم والا ہے۔ اور اسی طرح ہم ساتھ ملا دیں گے گنہ گاروں کو ایک دوسرے سے، بہ سبب ان ان اعمال کے جو وہ کرتے تھے۔ اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمھارے پاس تمھیں میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو میری آیتیں سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں۔ اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا۔ اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بے شک ہم منکر تھے یہ اس وجہ سے کہ تمھارا رب بستیوں کو ان کے ظلم پر اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں کہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں ۳۱ - ۱۲۸ کسی کے گمراہ کرنے سے جب کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو یہ ایک طرفہ معاملہ نہیں ہوتا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا مقصد پورا کر رہے ہیں۔ شیطان جب آدمی کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتا ہے جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہم نوا بنالوں گا (بنی اسرائیل (۶۱) دوسری طرف جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں ان کے سامنے بھی واضح مفادات کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جن استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام تحریکیں جو شیطانی ترغیبات کے تحت اٹھتی ہیں، ان کا ساتھ دینے والے بھی اسی لئے ان کا ساتھ دیتے ہیں کہ ان کو امید ہوتی ہے کہ اس طرح عوام کے اوپر آسانی کے ساتھ وہ اپنی قیادت قائم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ خدائی پکار کے مقابلہ میں شیطانی نعرے ہمیشہ عوام کی بھیڑ کے لئے زیادہ پر کشش ثابت ہوئے ہیں۔
قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوں نے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا نہ کہ حق سے بے خبر وہ دنیوی تماشوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کر سکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقت حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی ۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔ آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظر آ جائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کر دیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی مگر خوبصورت تاویل کر کے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔
اور ہر شخص کا درجہ ہے اس کے عمل کے لحاظ سے اور تمھارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں۔ اور تمھارا رب بے نیاز، رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو اٹھا لے اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھاری جگہ لے آئے، جس طرح اسے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے۔ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم خدا کو عاجز نہیں کر سکتے۔ کہو، اے لوگو تم عمل کرتے رہو اپنی جگہ پر، میں بھی عمل کر رہا ہوں۔ تم جلد ہی جان لو گے کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ یقیناً ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۳۵ - ۱۳۲، دنیا کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے مرتبہ میں فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ٹھیک اس تناسب سے ہوتا ہے جو ایک آدمی اور دوسرے آدمی کی جدوجہد میں پایا جاتا ہے۔ کسی آدمی کی دانش مندی، اس کی محنت، مصلحتوں کے ساتھ اس کی رعایت جس درجہ کی ہوتی ہے اسی درجہ کی کامیابی اس کو یہاں حاصل ہوتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ آخرت میں درجات اور مقامات کی تقسیم ٹھیک اسی تناسب سے ہوگی جس تناسب سے کسی آدمی نے دنیا میں اس کے لئے عمل کیا ہے۔ آخرت کے لئے بھی آدمی کو اسی طرح وقت اور مال خرچ کرنا ہے جس طرح وہ دنیا کے لئے اپنے وقت اور مال کو خرچ کرتا ہے۔ آخرت کے معاملہ میں بھی اس کو اسی طرح ہوشیاری دکھانی ہے جس طرح وہ دنیا کے معاملہ میں ہوشیاری دکھاتا ہے۔ آخرت کی باتوں میں بھی اس کو مصلحتوں اور نزاکتوں کی اسی طرح رعایت کرنا ہے جس طرح وہ دنیا کی باتوں میں مصلحتوں اور نزاکتوں کی رعایت کرتا ہے۔ کے ہاتھ میں آخرت کا فیصلہ ہے وہ ایک ایک شخص کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا کہ وہ ہر ایک کو وہی دے جو اس کے استحقاق کے بقدراس کو ملنا چاہئے۔
خدا نے امتحان اور عمل کی یہ جو دنیا بنائی ہے اس کے ذریعہ اس نے انسان کے لئے ایک قیمتی امکان کھولا ہے۔ وہ چند دن کی زندگی میں اچھے عمل کا ثبوت دے کر ابدی زندگی میں اس کا انجام پا سکتا ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے سے خدا کا اپنا کوئی فائدہ نہیں۔ موجودہ لوگ اگر اس کے تخلیقی منصوبہ کو قبول نہ کریں تو خدا کو اس کی پروا نہیں۔ وہ ان کی جگہ دوسروں کو اٹھا سکتا ہے جو اس کے تخلیقی منصوبہ کو مانیں اور اپنے آپ کو اس کے ساتھ شامل کریں۔ حتیٰ کہ وہ ریگستان کے ذروں اور درخت کے پتوں کو اپنے وفادار بندوں کی حیثیت سے کھڑا کر سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو سراسر حق اور انصاف پر قائم ہو وہاں ظالموں اور سرکشوں کو چھوٹ ملنا خود ہی بتا رہا ہے کہ یہ چھوٹ کوئی انعام نہیں ہے بلکہ ان کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کے لئے ہے۔ جو شخص حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور اس کے باوجود بظاہر اس کا کچھ نہیں بگڑتا اس کو اس صورت حال پر خوش نہیں ہونا چاہئے۔ حالت سراسر وقتی ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ آدمی سے وہ سب کچھ چھین لیا جائے جس کے بل پر وہ سرکشی کر رہا ہے اور اس کو ہمیشہ کے لئے ایک ایسی بربادی میں ڈال دیا جائے جہاں سے کبھی اس نے نکلنا نہ ہو۔ جہاں نہ دوبارہ عمل کا موقع ہو اور نہ اپنے عمل کے انجام سے اپنے کو بچانے کا۔
اور خدا نے جو کھیتی اور چو پائے پیدا کئے اس میں سے انہوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے۔ پس وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے ، ان کے گمان کے مطابق، اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا ہے۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے اور اس طرح بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنا دیا ہے تاکہ ان کو برباد کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس ان کو چھوڑ دو کہ اپنی افترا میں لگے رہیں ۳۵ - ۱۳۶ مشرکین میں یہ رواج تھا کہ وہ فصل اور مویشی میں سے اللہ کا اور بتوں کا حصہ نکالتے۔ اگر وہ دیکھتے کہ خدا کے حصہ کا جانور یا غلہ اچھا ہے تو اس کو بدل کر بتوں کی طرف کر دیتے ۔ مگر بتوں کا اچھا ہوتا تو اس کو خدا کی طرف نہ کرتے ۔ پیداوار کی تقسیم کے وقت بتوں کے نام کا کچھ حصہ اتفاقاً اللہ کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو الگ کر کے بتوں کی طرف لوٹادیتے۔ اور اللہ کے نام کا کچھ حصہ بتوں کی طرف چلا جاتا تو اس کو نہ لوٹاتے۔ اسی طرح اگر کبھی نذر و نیاز کا غلہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی تو خدا کا حصہ لے لیتے مگر بتوں کے حصہ کو نہ چھوتے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل کہنے کے لئے وہ خدا کو مانتے تھے مگر ان کا اصل یقین اپنے بتوں کے اوپر تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی محسوس بتوں کو اسی لئے گھڑتا ہے کہ اس کو غیر محسوس خدا پر پورا بھروسہ نہیں ہوتا۔
یہی حال ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو زبان سے تو اللہ کو مانتا ہو مگر اس کا دل اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا جو لوگ کسی زندہ یا مردہ ہستی کو اپنی عقیدتوں کا مرکز بنا لیں ان کا حال بھی یہی ہوتا ہے کہ جو وقت ان کے یہاں خدا کی یاد کا ہے اس میں تو وہ اپنے شریک کی یاد کو شامل کرلیتے ہیں۔ مگر جو وقت ان کے نزدیک اپنے شریک کی یاد کا ہے اس میں خدا کا تذکرہ انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ شیفتگی اور وارفتگی کا جو حصہ خدا کے لئے ہونا چاہئے اس کا کوئی جزرہ وہ بآسانی اپنے شریکوں کو دے دیں گے۔ مگر اپنے شریک کے لئے وہ جس شیفتگی اور وارفتگی کو ضروری سمجھتے ہیں اس کا کوئی حصہ کبھی خدا کو نہیں پہنچے گا۔ جو مجلس خدا کی عظمت و کبریائی بیان کرنے کے لئے منعقد کی جائے اس میں ان کے شریکوں کی عظمت و کبریائی کا بیان تو کسی نہ کسی طرح داخل ہو جائے گا۔ مگر جو مجلس اپنے شریکوں کی عظمت و کبریائی کا چرچا کرنے کے لئے ہو وہاں خدا کی عظمت و کبریائی کا کوئی گزر نہ ہوگا۔
ان شریکوں کی اہمیت کبھی ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہے کہ آدمی اپنی اولاد تک کو اس کے لئے نثار کر دیتا ہے۔ اپنی اولاد کو خدا کے لئے پیش کرتا ہو تو وہ پیش نہیں کرے گا مگر اپنے شریکوں کی خدمت میں انہیں دیتا ہو تو وہ بخوشی اس کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔
اس قسم کی تمام چیزیں خدا کے دین کے نام پر کی جاتی ہیں مگر حقیقتاً وہ افترا ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرنا ہے جس کو خدا نے کبھی تعلیم نہیں کیا۔
اور کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیتی ممنوع ہے، انھیں کوئی نہیں کھا سکتا سوا اس کے جس کو ہم چاہیں، اپنے گمان کے مطابق۔ اور فلاں چوپائے ہیں کہ ان کی پیٹھ حرام کر دی گئی ہے اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام یہ سب انھوں نے اللہ پر افترا کیا ہے۔ اللہ جلد ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا۔ اور کہتے ہیں کہ جو فلاں قسم کے جانوروں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لئے خاص ہے اور وہ ہماری عورتوں کے لئے حرام ہے۔ اگر وہ مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہیں۔ اللہ جلد ان کو اس کہنے کی سزا دے گا، بے شک اللہ حکمت والا علم والا ہے۔ وہ لوگ گھاٹے میں پڑ گئے جنھوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا نادانی سے بغیر کسی علم کے۔ اور انھوں نے اس رزق کو حرام کر لیا جو اللہ نے ان کو دیا تھا، اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے۔ وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت پانے والے نہ بنے۔
قدیم عرب کے لوگ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ مگر عملاً ان کے یہاں جو مذہب تھا وہ ایک خود ساختہ مذہب تھا جو ان کے پیشواؤں نے گھڑ کر ان کے درمیان رائج کر دیا تھا۔ پیدا وار اور چوپایوں کی جو تدریس خدا یا اس کے شریکوں کے نام پر پیش ہوتیں ان کے لئے ان کے یہاں بہت سی کڑی پابندیاں تھیں۔ مثلاً بحیرہ یا سائبہ (جانوروں) کو اگر ذبح کیا اور اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلا تو اس کا گوشت صرف مرد کھائیں، عورتیں نہ کھائیں۔ اور اگر بچہ مردہ حالت میں ہو تو اس کو مرد عورت دونوں کھا سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہونا یا ان کے اوپر بوجھ لادنا ان کے نزدیک حرام تھا۔ بعض جانوروں کی نسبت ان کا عقیدہ تھا کہ ان پر سوار ہوتے وقت یا ان کو ذبح کرتے وقت یا ان کا دودھ نکالتے وقت خدا کا نام نہیں لینا چاہئے۔
ایسے لوگ دین کے اصل تقاضے (اللہ سے تعلق اور آخرت کی فکر) سے انتہائی حد تک دور ہوتے ہیں۔ اللہ کے حدود کو توڑتے رہتے ہیں۔ البتہ کچھ غیر متعلق ظاہری چیزوں میں تشدد کی حد تک قواعد و ضوابط کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ شیطان کی نہایت گہری چال ہے۔ وہ لوگوں کو اصل دین سے دور کر کے کچھ دوسری چیزوں کو دین کے نام پر ان کے درمیان جاری کر دیتا ہے اور ان میں شدت کی نفسیات پیدا کر کے آدمی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ کمال احتیاط کی حد تک خدا کے دین پر قائم ہے۔ عبادت کے ظواہر میں تشدد بھی اسی خاص نفسیات کی پیدا وار ہے۔ آدمی خشوع اور تضرع سے خالی ہوتا ہے اور بعض ظاہری آداب کا شدید التزام کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے کمال ادائیگی کی حد تک عبادت کا فعل انجام دے دیا ہے۔
اس قسم کے لوگوں کی گمراہی اس سے واضح ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے قتل اولاد جیسے وحشیانہ فعل کو درست سمجھ لیا۔ وہ خدا کے پاکیزہ رزق سے لوگوں کو محروم کر دیتے ہیں۔ وہ معمولی مسائل پر لڑتے ہیں اور ان بڑی چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جن کی اہمیت کو عقل عام کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے باغ پیدا کئے، کچھ ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور کچھ نہیں چڑھائے جاتے۔ کے درخت اور کھیتی کہ اس کے کھانے کی چیزیں مختلف ہوتی ہیں اور زیتون اور انار باہم ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو اس کے کاٹنے کے دن۔ اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس نے مویشیوں میں بوجھ اٹھانے والے پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے بھی۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں۔ اور شیطان کی پیروی نہ کرو، وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے ۱۴ - ۱۴۱۔
خدا نے انسان کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو زمین میں پھیلتی ہیں۔ خربوزے، سبزیاں وغیرہ۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے تنہ پر کھڑی رہتی ہیں۔ مثلاً کھجور، آم وغیرہ۔ اسی طرح آدمی کی ضرورت کے لئے مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جانور پیدا کئے۔ مثلاً اونٹ گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔
آدمی ایک علیحدہ مخلوق ہے اور بقیہ چیزیں علیحدہ مخلوق۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ پیدا ہوئے مگر انسان دیکھتا ہے کہ دونوں میں زبردست ہم آہنگی ہے۔ آدمی کے جسم کو اگر غذائیت درکار ہے تو اس کے باہر ہرے بھرے درختوں میں حیرت انگیز قسم کے غذائی پیکٹ لٹک رہے ہیں۔ اگر اس کی زبان میں مزہ کا احساس پایا جاتا ہے تو پھلوں کے اندر اس کی تسکین کا اعلیٰ سامان موجود ہے۔ اگر اس کی آنکھوں میں حسن نظر کا ذوق ہے تو قدرت کا پورا کارخانہ حسن اور دل کشی کا مرقع بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو سواری اور بار برداری کے ذرائع درکار ہیں تو یہاں ایسے جانور موجود ہیں جو اس کے لئے نقل وحمل کا ذریعہ بھی بنیں اور اسی کے ساتھ اس کے لئے قیمتی غذا بھی فراہم کریں۔ اس طرح کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کا اعلان بن گئی ہے۔ کیونکہ کائنات کے مختلف مظاہر میں یہ وحدت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق و مالک ایک ہو۔
آدمی جب دیکھتا ہے کہ اتنا عظیم کائناتی اہتمام اس کے کسی ذاتی استحقاق کے بغیر ہو رہا ہے تو اس ایک طرفہ انعام پر اس کا دل شکر کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ سارا معاملہ آدمی کے لئے تقویٰ کی غذا بن جاتا ہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عنایت (Privilege) کے ساتھ ذمہ داری (Responsibility) یہ چیز آدمی کو جزا و سزا کی یاد دلاتی ہے اور اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہے کہ ایک دن اس کو خدا کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساسات اگر حقیقی طور پر آدمی کے اندر جاگ اٹھیں تو لازمی طور پر اس کے اندر دو باتیں پیدا ہوں گی ۔ ایک یہ کہ اس کو جو کچھ ملے گا اس میں وہ اپنے مالک کا حق بھی سمجھے گا۔ یہ کہ وہ صرف واقعی ضرورت کے بقدر خرچ کرے گا نہ کہ فضول اور بے موقع خرچ کرنے لگے۔ مگر شیطان یہ کرتا ہے کہ اصل رخ سے آدمی کا ذہن موڑ کر اس کو دوسری غیر متعلق باتوں میں الجھا دیتا ہے۔
اللہ نے آٹھ جوڑے پیدا کئے۔ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے۔ پوچھو کہ دونوں تراللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ۔ یا بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں۔ مجھے دلیل کے ساتھ بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ طرح دو اونٹ کی قسم سے اور دو گائے کی قسم سے۔ پوچھو کہ دونوں نراللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ۔ وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں۔ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا۔ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے تاکہ وہ لوگوں کو بہکا دے بغیر علم کے۔ بے شک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا۔ کہو، مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز نہیں پاتا جو حرام ہوکسی کھانے والے پر سوا اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے۔ یا نا جائز ذبیحہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ لیکن جو شخص بھوک سے بے اختیار ہو جائے، نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی کرے، تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ عربوں میں گوشت اور دودھ وغیرہ کے لئے جو جانور پالے جاتے تھے ان میں سے چار زیادہ معروف بھیڑ بکری اور اونٹ گائے۔ ان کے بارے میں انھوں نے طرح طرح کے تحریمی قاعدے بنائے تھے۔ ان تحریمی قاعدوں کے پیچھے اپنے مشرکانہ رواجوں کے سوا کوئی دلیل ان کے پاس نہ تھی۔ بھیڑ اور بکری اور اونٹ اور گائے، خواہ نر ہوں یا مادہ، عقلی طور پر کوئی سبب حرمت ان کے اندر موجود نہیں ہے، ان کا تمام کا تمام گوشت انسان کی بہترین غذا ہے۔ ان میں کوئی ایسی ناپاک عادت بھی نہیں جو ان کے بارے میں انسانی طبیعت میں کراہت پیدا کرتی ہو۔ آسمان سے اترے ہوئے علم میں بھی ان کی حرمت کا ذکر نہیں۔
پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان حیوانات کے بارے میں لوگوں کے اندر طرح طرح کے تحریمی قاعدے بن جاتے ہیں، اس کی وجہ شیطانی ترغیبات ہیں۔ انسان کے اندر فطری طور پر خدا کا شعور اور حرام و حلال کا احساس موجود ہے، وہ آدمی اپنے اندرونی تقاضے کے تحت کسی ہستی کو اپنا خدا بنانا چاہتا ہے اور چیزوں میں جائز نا جائز کا فرق کرنا شیطان اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اگر سادہ حالات میں عمل کرنے کا موقع ملا تو وہ فطرت کے صحیح راستہ کو پکڑ لے گا۔ اس لئے وہ فطرت انسانی کو کند کرنے کے لئے طرح طرح کے غلط رواج قائم وہ خدا کے نام پر کچھ فرضی خدا گھڑتا ہے۔ وہ حرام و حلال کے نام پر کچھ بے بنیاد محرمات وضع کرتا ہے۔ طرح شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی انھیں فرضی چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصلی سچائی تک نہ پہنچے۔ سیدھے راستہ سے بھٹک چکا ہو۔ مگر بظاہر اپنے کو چلتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ میں "راستہ پر ہوں ۔ حالاں کہ وہ ایک ٹیڑھی لکیر ہو نہ کہ سیدھا سچا راستہ۔
جو لوگ اس طرح شیطانی بہکاوے کا شکار ہوں وہ خدا کی نظر میں ظالم ہیں۔ ان کو خدا نے سمجھ دی تھی جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کر سکتے تھے۔ مگر ان کے تعصبات ان کے لئے پردہ بن گئے۔ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود سمجھنے سے دور رہے۔
اور یہود پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی سوا اس کے جوان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے لگی ہو یا کسی ہڈی سے ملی ہوئی ہو۔ یہ سزا دی تھی ہم نے ان کو ان کی سرکشی پر اور یقیناً ہم سچے ہیں۔ وہ تم کو جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمھارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے۔ اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ٹل نہیں سکتا شریعت خداوندی میں اصل محرمات ہمیشہ وہی رہے ہیں جو اوپر کی آیت میں بیان ہوئے۔ بہایا ہوا خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ اس کے سوا اگر کچھ چیزیں حرام ہیں تو وہ انھیں کی تشریح و تفصیل ہیں۔
مگر اسی کے ساتھ اللہ کی ایک سنت تحریم اور ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی حامل کتاب قوم اطاعت کے بجائے سرکشی کا طریقہ اختیار کرتی ہے تو اس کی سرکشی کی سزا کے طور پر اس کو نئی نئی مشکلات میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پر ایسی چیزیں حرام کردی جاتی ہیں جو اصلاً شریعت خداوندی میں حرام نہ تھیں۔
اس حرمت کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے اندر ایسے پیشوا اٹھتے ہیں جو دین کی حقیقت سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ وہ صرف ظاہری دین داری سے واقف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جو اہتمام دین کی معنوی حقیقتوں میں کرنا چاہیے وہی اہتمام وہ ظاہری آداب و قواعد میں کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ میں ظواہر دین میں غیر ضروری موشگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایسے لوگ دین کے خود ساختہ ظاہری معیار وضع وہ غلو اور تشدد کرکے سادہ حکم کو پیچیدہ اور جائز چیز کو نا جائز بنا دیتے ہیں۔ مثلاً یہود کے اندر جب سرکشی آئی تو ان کے درمیان ایسے علماء اٹھے جنھوں نے اپنی موشگافیوں سے یہ قاعدہ بنایا کہ کسی چوپایہ کے حلال ہونے کے لئے دو شرطیں بیک وقت ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے پاؤں چیرے ہوئے ہوں، دوسرے یہ کہ وہ جگالی کرتا ہو۔ ان میں سے کوئی ایک شرط بھی اگر نہ پائی جائے تو وہ جانور حرام سمجھا جائے گا۔ اس خود ساختہ شرط کی وجہ سے اونٹ، سافان اور خرگوش جیسی چیزیں بھی خواہ مخواه حرام قرار پا گئیں۔ اسی طرح ”ناخن“ کی تشریح میں غلو کرکے انھوں نے غیر ضروری طور پر شتر مرغ، قاز اور بط وغیرہ کو اپنے لئے حرام کر لیا۔ اس قسم کی غیر فطری بندشوں نے ان کے لئے وہاں تنگی پیدا کردی جہاں خدا نے ان کے لئے فراخی رکھی تھی ۔
حق کو نہ ماننے کے بعد آدمی فوراً خدا کی پکڑ میں نہیں آتا۔ وہ بدستور اپنے کو آزاد اور بھر پور پاتا ہے۔ بنا پر اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ محض خدا کی رحمت کی سمائی سے بچا ہوا ہے۔ خدا آدمی کی سرکشی کے باوجود اس کو آخری حد تک موقع دیتا ہے۔ جب وہ اپنی روش کو نہیں بدلتا تو اچانک خدا کا عذاب اس کو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے۔ کبھی دنیا میں اور کبھی دنیا اور آخرت دونوں میں۔
جنھوں نے شرک کیا وہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو تم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر لیتے۔ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی جوان سے قبل ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جس کو تم ہمارے سامنے پیش کرو۔ تم تو صرف گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو۔ کہو کہ پوری حجت تو اللہ کی ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ہم سب کو ہدایت دے دیتا۔ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس پر گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اگر وہ جھوٹی گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا، اور تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھہراتے ہیں ۵۱ - ۱۴۸ حق کی بے آمیز دعوت ہمیشہ اپنے ماحول میں اجنبی دعوت ہوتی ہے۔ ایک طرف مروجہ دین ہوتا ہے جس کو تمام اجتماعی اداروں میں غلبہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ صدیوں کی روایات اس کو باوزن بنانے کے لئے اس کی پشت پر موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حق کی دعوت ہوتی ہے جو ان تمام اضافی خصوصیات سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ جس دین کو اتنا درجہ اور اتنی مقبولیت حاصل ہو وہ دین خدا کی پسند کے مطابق نہ ہوگا۔ لوگ فرض کر لیتے ہیں کہ مروجہ دین کا اتنا پھیلاؤ اسی لئے ممکن ہو سکا کہ خدا کی مرضی اس کے شامل حال تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو یہ پھیلاؤ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دین کو خدا کی دنیا میں ہر طرف بلند مقام حاصل ہو وہ خدا کا پسندیوہ دین ہو گا یا وہ دین جس کو خدا کی دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل نہیں۔ مگر حق و باطل کا فیصلہ حقیقی دلائل پر ہوتا ہے نہ کہ اس قسم کے قیاسات پر۔ خدا نے اس دنیا کو امتحان گاہ یہاں آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جس چیز کو چاہے اختیار نہ کرے۔ تمام تر آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں کسی چیز کا رواج عام اس کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کوئی چیز برحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ رواجی عمل کی بنیاد پر۔ دنیا کو اللہ نے امتحان گاہ بنایا سانسان پر اپنی مرضی جبراً مسلط کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیا اور یہ معاملہ انسان کے اوپر چھوڑ دیا کہ وہ صحیح کو لیتا ہے یا غلط کو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دلیل (حجت) خدا کی نمائندہ ہے۔ آدمی جب ایک سچی دلیل کے آگے جھکتا ہے تو وہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ اور جب وہ ایک سچی دلیل کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ خدا کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ جب آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ وہ باطل کو حق کہنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کر سکے۔ اس کی ڈھٹائی اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز کر دے۔ وہ اس بات سے بے پروا ہو جاتا ہے کہ خدا اس کو بالاخر پکڑنے والا ہے۔ دوسری دوسری چیزوں کو دہ اہمیت دے دیتا ہے جو اہمیت صرف خدا کو دینا چاہئے۔
کہو، آؤ میں سناؤں وہ چیزیں جو تمھارے رب نے تم پر حرام کی ہیں۔ یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تم کو بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے حیائی کے کوم کے پاس نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ اور جس جان کو اللہ نے حرام ٹھہرایا اس کو نہ مارو مگر حق پر۔ یہ باتیں ہیں جن کی خدا نے تمھیں ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو ۱۵۲ خدائی پابندی کے نام پر لوگ طرح طرح کی رسمی اور ظاہری پابندیاں بنا لیتے ہیں اور ان کا خصوصی اہتمام کر کے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انھوں نے خدائی پابندیوں کا حق ادا کر دیا۔ مگر خدا انسان سے جن پابندیوں کا اہتمام چاہتا ہے وہ حقیقی پابندیاں ہیں نہ کہ کسی قسم کے رسمی مظاہر۔
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کو اپنا خدا بنائے۔ اس کے سوا کسی کی بڑائی کا غلبہ اس کے ذہن پر اس کے سوا کسی کو وہ قابل بھروسہ نہ سمجھتا ہو۔ اس کے سوا کسی سے وہ امیدیں قائم نہ کرے۔ اس کے سوا کسی سے وہ ڈرے اور نہ اس کے سوا کسی کی شدید محبت میں مبتلا ہو۔
والدین اکثر حالات میں کمزور اور محتاج ہوتے ہیں اور اولاد طاقت ور۔ ان سے حسن سلوک کا محرک مفاد نہیں ہوتا بلکہ صرف حق شناسی ہوتا ہے۔ اس طرح والدین کے حقوق ادا کرنے کا معاملہ آدمی کے لیے اس بات کا سب سے پہلا امتحان بن جاتا ہے کہ اس نے خدا کے دین کو قول کی سطح پر اختیار کیا ہے یا عمل کی سطح پر۔ اگر وہ والدین کی کمزوری کے بجائے ان کے حق کا اہمیت دے، اگر اپنے دوستوں اور اپنے بیوی بچوں کی محبت اس کو والدین سے دور نہ کرے تو گویا اس نے اس بات کا پہلا ثبوت دے دیا کہ اس کا اخلاق اصول پسندی اور حق شناسی کے تابع ہوگا نہ کہ مفاد اور مصلحت کے تابع۔
انسان اپنے حرص اور ظلم کی وجہ سے خدا کے پیدا کیے ہوئے رزق کو تمام بندوں تک منصفانہ طور پر پہنچنے نہیں دیتا۔ اور جب اس کی وجہ سے قلت کے مصنوعی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ کھانے والوں کو قتل کر دو یا پیدا ہونے والوں کو پیدا نہ ہونے دو۔ اس قسم کی باتیں خدا کے نظام رزق پر بہتان کے ہم معنی ہیں بہت سی برائیاں ایسی ہیں، جو اپنی ہیئت میں اتنی فحش ہوتی ہیں کہ ان کی برائی کو جاننے کے لیے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسانی فطرت اور اس کا ضمیر ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ کام انسان کے کرنے کے قابل ایسی حالت میں جو شخص کسی فحاشی یا بے حیائی کے کام میں مبتلا ہو وہ گویا ثابت کر رہا ہے کہ وہ اس ابتدائی درجہ انسانیت سے بھی محروم ہے جہاں کسی انسان کے انسان ہونے کا آغاز ہوتا ہے ہر انسان کی جان محترم ہے۔ کسی انسان کو ہلاک کرنا کسی کے لیے جائز نہیں جب تک خالق کے قانون کے مطابق وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جس میں اس کی جان لینا مخصوص شرائط کے ساتھ مباح ہو گیا ہو۔ یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ عقل سے کام لینے والا ان کی صداقت کو جاننے سے محروم نہیں رہ سکتا۔
دیکھو رول نمبر ۸ ماہنامہ الرسالہ ۔ جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ ۔ مقام اشاعت جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ وقفه اشاعت ماهانه ملی تعمیر کا کام سب سے پہلے ملت کے افراد میں نام پرنٹر (طابع) ثانی اشنین خان پتہ جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام پبلشر (ناشر) ثانی اشنین خان پتہ جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ شعور پیدا کرنے کا کام ہے پتہ جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی۔ نام ایڈیٹر (مدیر مسئول) ثانی اثنین خاں پتہ جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی۔ نام اور پتہ مالک رسالہ ثانی اثنین خاں جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی۔ میں ثانی اثنین خاں تصدیق کرتا ہوں کہ جو تفصیلات اوپر دی گئی ہیں، میرے علم و یقین کے مطابق صحیح ہیں۔ ثانی اتنین خاں بہترین صورت یہ ہے کہ ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں یکم مارچ ۱۹۸۱ء