سچائی کا زور
Al-Risala, April 1981, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جس نے لوگوں کے سامنے با آواز بلند قرآن پڑھا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک روز جمع ہوئے ۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم قریش نے ابھی تک اس قرآن کو بلند آواز سے کیا کوئی ہے جو قریش کے لوگوں کو قرآن سنائے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، میں سناؤں گا۔ عبد اللہ بن مسعود دبلے اور کمزور جسم کے تھے۔ مکہ میں ان کا کوئی قبیلہ بھی نہ تھا جو ان کی حمایت کرے۔ وقت لوگوں کی بکریاں چراتے تھے اور ابن ام عبد" کے نام سے جانے جاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ تمھارے بارے میں ہمیں ڈر ہے۔ اس کام کے لئے ہم ایسا آدمی چاہتے ہیں جس کا مکہ میں قبیلہ ہو اور قریش جب اس پر حملہ کریں تو اس کا قبیلہ قریش کو روکے۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا: مجھے جانے دو، کیونکہ اللہ میری مدد کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود روانہ ہوئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں قریش کے لوگ جمع تھے۔ کے پاس کھڑے ہو گئے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور اس کے بعد بلند آواز سے سورہ رحمن پڑھنا شروع کیا۔ وہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ قریش نے آپس میں پوچھنا شروع کیا کہ یہ ابن ام عبد کیا پڑھ رہا ہے کسی نے کہا کہ یہ اس کلام کا کوئی حصہ ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اترا ہے۔ یہ سن کر وہ اٹھے اور عبداللہ بن مسعود کے منھ پر مارنا شروع کیا۔ تاہم وہ برابر پڑھتے رہے۔ اس کے بعد جب عبداللہ بن مسعود اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے تو ان کے چہرے پر مار کا نشان ظاہر ہو چکا تھا۔ لوگوں نے دیکھ کر کہا: تمھارے بارے میں ہم کو اسی کا اندیشہ تھا۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا: خدا کے دشمن آج مجھ کو جتنا کمزور معلوم ہوئے اتنا کمزور مجھے کبھی معلوم نہیں ہوئے تھے اور اگر تم چاہو تو کل پھر میں اسی طرح جاکر ان کو قرآن سناؤں گا دما اعداء اللہ اہون علی منهم الآن ولئن شئتم لاغادينهم بمثلها غد، (سيرة ابن هشام، جزء اول ، صفحه ۳۳۷) ایک کمزور اور بے سہارا آدمی کے اندر یہ قوت کہاں سے آئی کہ وہ کسی مادی تحفظ کے بغیر دشمنوں کے مجمع میں گھس گیا اور ان کو بلند آواز سے وہ کلام سنانے لگا جس کا سننا ان کو سب سے زیادہ ناگوار تھا۔ اس قوت کا راز سچائی پر یقین ہے۔ عبداللہ بن مسعود کو کامل یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں اور قریش باطل پر ۔ قریش نے جب عبداللہ بن مسعود کو مارنا شروع کیا تو ان کا یقین اور بڑھ گیا ۔ کیوں کہ ان کے دل نے کہا کہ قریش کے پاس دلیل کی زبان میں ان کے جواب کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ان کی جارحیت صرف اس بات کا ثبوت
تھی کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے کو بالکل بے بس پارہے ہیں، عبداللہ بن مسعود سچائی کے زور سے زور آور تھے، اور یقیناً سچائی کا زور سب سے بڑا زور ہوتا ہے۔
دنیا کی رزم گاہ میں بہادر بننے کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی پر مشکلات نہ گزریں۔ مشکلات تو اس دنیا میں ہر ایک کے لئے آتی ہیں۔ بہادری کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی کے پاس کوئی ایسا یقین ہو جو اپنے مقصد کے مقابلہ میں مشکلات کو اس کے لئے حقیر بنادے۔ دکھوں کی اس دنیا میں مشکلات کو وہی شخص جھیلتا ہے جس کو مشکلات سے بڑی کوئی چیز مل گئی ہو۔
مومن کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک ایسا حق ہوتا ہے جس کی عظمت اور صداقت پر اسے ادنیٰ شبہ نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس راہ میں ہر قربانی آخرت میں اس کی کامیابیوں میں اضافہ کرنے کے ہم معنی ہوگی۔ یہ یقین اس کے لئے حق کے اعلان کو ایک ایسی لذت بنا دیتا ہے جس کا سرور کبھی ختم نہ ہو۔ مخالفین کی جارحیت صرف اس کے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ وہ سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین سراسر باطل پر۔ جارحیت دراصل سچائی کے میدان میں اپنی شکست کا اعلان ہے ۔ مخالفین کی جارحیت ایمان واسلام کے داعی کے لئے اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس کے مخالفین دلیل کے میدان میں اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ کیوں کہ جس کے پاس دلیل کی طاقت ہو وہ کبھی جارحیت کی طاقت استعمال نہیں کرتا۔
سچائی ایک اعلیٰ ترین ذہنی یافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی کی طاقت کا خزانہ آدمی کے اپنے اندر ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری تمام طاقتیں خارجی طاقتیں ہیں، ان کا خزانہ آدمی کے اپنے وجود کے باہر ہوتا دوسری طاقتوں کا ذخیرہ محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی وقت ختم ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں نازک حالات میں خود اپنے بچاؤ کی فکر میں لگ جاتی ہیں، اس بنا پر وہ نازک مواقع پر آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ مگر سچائی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سچائی وہ اتھاہ طاقت ہے جس کا ذخیرہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سچائی جب ایک بار کسی کو مل جائے تو وہ اس کی جان کے ساتھ ساتھ باقی رہتی ہے، وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔ طاقت آخر وقت تک آدمی کا سہارا بنی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ بظاہر اس کے ساتھ کوئی طاقت موجود نہیں ہوتی۔
مومن کو جو سچائی ملتی ہے وہ خود خدا ہوتا ہے۔ مومن خدا کو سب سے بڑی حقیقت کے طور پر پالیتا ہے۔ پھر جو سب سے بڑی ہستی کو پالے وہ اس کے بعد کسی چھوٹی چیز سے کیوں ڈرے گا۔ اس کے بعد کوئی چیز پانے کے لئے باقی ہی نہیں رہتی۔