Al-Risala · April 1981

جب موت آئے گی

Al-Risala, April 1981, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ اپنی دونوں آنکھیں بند کر لیں تو ساری دنیا آپ کے لئے تاریک ہو جائے گی۔ سورج کی روشنی اور آسمان کی بلندی سے لے کر درختوں کی سر سبزیاں اور شہروں کی رونقیں تک سب اندھیرے میں چھپ جائیں گی۔ ساری چیزیں موجود ہوتے ہوئے بھی آپ کے لئے غیر موجود بن جائیں گی۔

ایسی ہی کچھ مثال آخرت کی ہے۔ آخرت ایک مکمل حقیقت ہے۔ بلکہ آخرت سب سے بڑی حقیقت ہے۔ مگر وہ ہم کو نظر نہیں آتی، کیونکہ وہ ہمارے لئے غیب میں ہے۔ اس کی طرف سے ہماری آنکھیں بند ہیں۔ موت کا دن وہ دن ہے جب کہ غیب کا پردہ ہماری آنکھوں سے ہٹا دیا موت کے فوراً بعد آدمی آخرت کی دنیا کو اسی طرح دیکھنے لگتا ہے جس طرح آج ایک بند آنکھ والا آنکھ کھولنے کے بعد موجودہ دنیا کو دیکھتا ہے۔

ایک شخص کی آنکھ پر پٹی باندھ کر اس کو زندہ شیر کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔ بے خبر ہو کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ اسی حالت میں اچانک اس کی آنکھ کھول دی جائے۔ زندہ اور کھلے ہوئے شیر کو اپنے سامنے دیکھ کر اس کا جو حال ہوگا اس سے کہیں زیادہ بدحواسی آدمی کے اوپر اس وقت طاری ہوگی جب کہ موت کے بعد اچانک آخرت کو دیکھے گا۔

وہ شخص جو دنیا میں اپنے آپ کو بہت سے سہاروں کے درمیان پاتا تھا، اچانک دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سہارا ہو چکا ہے۔ اس کے وہ دوست اس سے چھوٹ چکے ہوں گے جن کے درمیان وہ تفریح کرتا تھا۔ اس کے وہ بیوی بچے اس کے لئے غیر بن چکے ہوں گے جن کو وہ اپنا سمجھ کر اپنا سب کچھ ان کے اوپر قربان کر رہا تھا۔ اس کے وہ مادی اسباب جن پر وہ اعتماد کئے ہوئے تھا، مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ بے حقیقت ثابت ہوں گے۔ وہ باتیں جن کو وہ بے وزن سمجھ کر نظر انداز کر دیتا تھا وہ لوہے اور پتھر سے بھی زیادہ سخت بن کر اس کے سامنے کھڑی ہوں گی۔

Printed page